چیئرمین پی اے سی کون بنے گا ؟ حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوسکا

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین پر اتفاق نہ ہوسکا۔ جس کے بعد یہ اہم پارلیمانی عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو دیے جانے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔
تاریخ میں پہلی بار چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کےلیے ووٹنگ کرائے جانے کا امکان ہے۔
قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چئیرمین کےلیے سنی اتحاد کونسل اور وفاقی حکومت میں تاحال اتفاق نہ ہوسکا۔ حزب اختلاف کی جانب سے نامزد رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم کو متوقع طور پر ملنے والی پوزیشن خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پی اے سی میں حکومت کے 16 اور اپوزیشن بشمول سنی اتحاد کونسل کے 8 اراکین ہونے کا امکان ہے، ووٹنگ ہونے کی صورت میں حکومتی رکن باۤسانی چیئرمین پی اے سی بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسمبلی رولز یا قانون میں کہیں درج نہیں کہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپوزیشن سے ہوگا مگر ماضی میں کبھی چیئرمین پی اے سی کے عہدے کےلیے ووٹنگ نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں سنی اتحاد کونسل نے پی اے سی کے چیئرمین کےلیے شیر افضل مروت کی جگہ شیخ وقاص اکرم کو نامزد کیا تھا۔
