چیئرمین PTV بننے کے باوجود وکالت کرنے پر سپریم کورٹ کا اعتراض

پاناما پیپرز کیس میں نواز شریف کے خلاف عمران خان کے سابق وکیل نعیم بخاری نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کا چیئرمین لگنے کے باوجود بطور وکیل اپنی پریکٹس جاری رکھی ہوئی ہے جس پر اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں پی ٹی وی میں بھرتی کے قواعد و ضوابط میں نرمی کرتے ہوئے 67 سالہ ینگ لکنگ بابے نعیم بخاری کو ادارے کا چیئرمین مقرر کیا تھا جبکہ قانون کے مطابق اس عہدے پر 65 سال سے زائد کا شخص تعینات نہیں ہو سکتا۔ تاہم پی ٹی وی کا چیئرمین بننے کے باوجود نعیم بخاری نے بطور وکیل اپنی پریکٹس جاری رکھی ہوئی تھی جس پر اب سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ 14 دسمبر کو نعیم بخاری بطور وکیل چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے سربراہ ارشد ملک کی تعیناتی کے خلاف دائر کیس میں انکی وکالت کی۔ اس موقع پر بینچ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا وہ چیئرمین پی ٹی وی کا سرکاری عہدہ حاصل کرنے کے بعد بھی بحیثت وکیل کام کر سکتے ہیں؟ اس پر نعیم بخاری نے کہا تھا کہ وہ بطور چیئرمین پی ٹی وی کوئی معاوضہ نہیں لے رہے بلکہ انہوں نے سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور تک لینے سے انکار کردیا ہے اور ان کے دفتر میں چائے بھی انکے اپنی جیب سے آتی ہے۔ تاہم جب سپریم کورٹ نے بخاری کو چیئرمین پی ٹی وی تعینات ہونے کے باوجود بطور وکیل کام جاری رکھنے کی قانونی حیثیت بارے دوبارہ سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے پاکستان بار کونسل سے رجوع کریں گے اورپھر عدالت کو بتایئں گے۔
اب نعیم بخاری نے پاکستان بار کونسل سے پوچھا ہے کہ کیا ان کی سرکاری ٹیلی ویژن کے چیئرمین کی حیثیت سے تعیناتی ان کے بحیثیت وکیل پریکٹس کرنے کے لائسنس کو متاثر کرتی یے۔ پی بی سی کو اپنے مراسلے میں بخاری نے لکھا ہے کہ ان کا تقرر آئین کی دفعہ 95-اے کے تحت کیا گیا ہے ساتھ ہی یہ یاد دہانی بھی کروائی ہے کہ بار کونسل ایکٹ 1973 کی دفعہ 5-سی کے تناظر میں انہیں منافع بخش عہدہ نہیں ملا اور نہ ہی وہ سروس آف پاکستان میں ہیں۔ انکا موقف ہے کہ وہ نہ ہی پی ٹی وی کی کسی سروس میں ملازم ہیں اور نہ ہی بطور چیئرمین کوئی معاوضہ، فائدہ یا مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ لہذا ان کا خیال ہے کہ وہ بطور وکیل اپنی پریکٹس جاری رکھنے کے اہل ہیں۔
پی بی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین اعظم نذیر تارڑ کو 16 دسمبر کو لکھے گئے دو صفحات پر مشتمل طویل خط میں نعیم بخاری نے مذید لکھا ہے کہ ان کا تقرر اعزازی ہے اور اس کا مقصد پی ٹی وی کے ادارے کا وقار اور اسکی ساکھ واپس لانا ہے اور ان کا کردار محض پالیسیز بنانے تک محدود ہے۔ تاہم یاد رہے کہ اپنی تقریری کے فورا بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بخاری نے یہ اعلان کیا تھا کہ اب پی ٹی وی پر صرف حکومت کا موقف دکھایا جائے گا، اپوزیشن کا نہیں چونکہ پی ٹی وی ایک سرکاری ادارہ ہے۔ اس لئے نعیم بخاری کا یہ موقف کہ وہ پی ٹی وی کی کھوئی ہوئی ساکھ اور اس کا وقار بحال کرنا چاہتے ہیں، جھوٹ پر مبنی نظر آتا ہے۔
تاہم اعظم نذیر تارڑ کے نام اپنے خط میں نعیم بخاری نے پوچھا ہے کہ ایسی صورتحال میں کہ جب انہوں نے ایک اعزازی عہدہ قبول کیا ہو، انکے بطور وکیل پریکٹس کے لائسنس پر کوئی فرق پڑے گا یا نہیں۔ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں نعیم بخاری کی درخواست موصول ہو گئی ہے اور اگر پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 31 دسمبر سے پہلے ہوا تو اس میں یہ پیش کردی جائے گی۔ یاد ریے کہ 31 دسمبر پی بی سی کے موجودہ 22 اراکین کی رکنیت کی آخری تاریخ ہے۔
ساتھ ہی اعظم تارڑ نے یہ بھی کہا کہ اگر 31 دسمبر 2020 تک انکی کونسل کا اجلاس نہ ہوا تو اس معاملے کو نئے منتخب ہونے والے اراکین پر چھوڑ دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ نعیم بخاری سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں تحریک انصاف کی جانب سے وکیل بھی رہے اور وہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز پر سیاسی و ذاتی نوعیت کے حملے بھی کرتے رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے مریم نواز کو’باربی ڈول‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک مکمل طور پر ’مصنوعی شخصیت‘ ہیں۔ ’اس کا مقابلہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کرتے ہیں۔ بینظیر بھٹو بھی مالی طور پر کرپٹ تھیں، اپنے شوہر کی طرح۔ لیکن دلیر عورت تھیں۔‘ انھوں نے مریم نواز کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ’آپ کون ہیں؟ ہمیں آپ کی فوٹو یاد ہے جب آپ کی شادی ہوئی تھی، کیا مجھے نہیں پتا کہ آپ نے یہ جو نئی شکل بنائی ہے، جھریاں نکال نکال کر۔۔۔‘ بعض اوقات ٹی وی چینلز پر وہ چہرہ بنا کر مزاحیہ انداز میں مریم نواز کی نقل اتارتے ہوئے نظر آتے تھے۔ اس لیے ان کی تقرری کو ایک خالصتاً سیاسی تقرری قرار دیا جاتا ہے۔
نعیم بخاری نے 2016 میں تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے میں وہ انکے ’فُٹ سولجر‘ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عمران نے اپنی جماعت بنائی تو میں ان لوگوں میں شامل تھا جس سے انھوں نے مشورہ کیا۔ میں نے انھیں منع کیا تھا کہ یہ نہ کریں خود کو فلاح اور تعلیم کے فروغ تک محدود رکھیں۔ آپ میں وہ جراثیم ہیں کہ آپ ایدھی سے بڑے خدمت گار بن سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اقتدار آنے کے بعد عمران خان نے نعیم بخاری کو قومی احستاب بیورو کی قانونی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا اور پھر ستارہ امتیاز سے نوازا رھا۔ اب انہیں پی ٹی وی کا چیئرمین بنایا گیا ہے لیکن وہ بطور سرکاری وکیل بھی کمائی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
