چیئر مین نیب کا سوتیلا بھائی والدین کے قتل میں بری

لاہور ہائی کورٹ نے نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے والدین کے قتل میں سزائے موت پانے والے تین ملزمان کو 8 سال بعد عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا ہے۔ ان تینوں ملزمان میں سے ایک ملزم نوید اقبال چیئرمین نیب کا سوتیلا بھائی ہے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیے جانے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر جسٹس جاوید اقبال کے والدین کو کس نے قتل کیا یا پھر یہ قتل کی بجائے طبعی موت تھی۔ بہرحال اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کا سابق جج اپنے والدین کے لئے انصاف حاصل نہیں کر سکا اور ان کے والدین کا قتل رائیگاں گیا۔
یاد رہے 11 جنوری 2011 کو اس وقت کے سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال کے والدین کو لاہور میں قتل کر دیا گیا تھا۔ کیولری گراؤنڈ میں رہائش پذیر سابق ڈی آئی جی ملک عبدالحمید اور ان کی اہلیہ آمنہ کی پراسرار موت دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔ ان دنوں جسٹس جاوید اقبال اسلام آباد میں مقیم تھے اور ان کے والدین کو کسی قسم کی سیکیورٹی بھی حاصل نہیں تھی۔ اس وقت کے وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے بتایا تھا کہ جسٹس جاوید اقبال کے والد اور والدہ کے منہ پر تکیہ رکھ کر دونوں کو قتل کیا گیا، جائے وقوعہ پر گھر کا سامان بھی بکھرا پڑا تھا یعنی اس واقعے کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ ایک ہفتے بعد ملک عبد الحمید کے بیٹے اور جسٹس جاوید اقبال کے سوتیلے بھائی سمیت 2 افراد عباس شاکر اور امین علی کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پولیس نے اعلان کیا کہ ملزمان نے اقبال جرم کرلیا ہے۔ بعدازاں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 2016 میں تینوں ملزمان کو سزائے موت اور فی کس ساڑھے پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ملزمان نے انسدادِ دہشتگردی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور کا ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔
واضح رہے کہ 2011میں جسٹس جاویداقبال سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے حوالے سے کیس کی سماعت کر رہے تھے اور ان پر ایجنسیوں کا شدید دباؤ تھا۔ جسٹس جاوید اقبال کے والدین کی پراسرار موت پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا تھا کہ بار ایسوسی ایشن اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اس واقعے کا تعلق حساس مقدمات کے ساتھ ہے یا نہیں۔
تین سال کیس کی سماعت کرنے کے بعد 7 اکتوبر بروز سوموار لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال والدین قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نوید اقبال سمیت تینوں ملزمان کو باعزت بری کرنے کے احکامات جاری کیے ییں۔ جسٹس صداقت علی خان اور ساتھی جج پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ عدم شواہد کی بنا پر تینوں ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔ ملزمان کی وکیل شیبا قیصر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس نے ان کے موکلین کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔ اس کیس میں پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد بھی پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی ملزمان کے خلاف اس قدر شہادتیں موجود تھیں کہ انہیں موت کی سزا سنائی جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2016 میں حقائق کے برعکس انہیں سزائے موت سنائی ہے لہٰذا سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تینوں افراد کو باعزت بری کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button