چیف جسٹس بندیال الیکشن کمیشن کے ہاتھ باندھنے کو تیار

چند ماہ پہلے منتخب اسمبلی کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات کرنے والے عمرانڈو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اب یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کو بھی ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ اشارہ تب ملا جب اگلے روز سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کوالیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف عدالتی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہماری رائے میں الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں رکھتا۔ یاد رہے کہ ماضی میں سپریم کورٹ خود سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے چکی ہے اور پچھلے دنوں اسی کیس کی سماعت کے دوران ان کی تاحیات نا اہل کا فیصلہ دینے والے بینچ کے ایک رکن اور موجودہ چیف جسٹس بندیال نے تاحیات نااہلی کو کالا قانون قرار دے دیا تھا۔
حال ہی میں عمران سے بغاوت کرکے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہو جانے والے واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے بندیال نے فیصل واوڈا کے وکیل سے دو سوالات پر جوابات طلب کیے۔سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ ہائی کورٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ڈکلئیریشن کو سپریم کورٹ برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے مزید دریافت کیا کہ کیوں نہ سپریم کورٹ حقائق کی روشنی میں مکمل انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آرٹیکل 187 کا اختیار استعمال کرے۔ اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب کیس سپریم کورٹ آ گیا اور نظر آرہا ہے کہ ماضی میں غلط ہوا تو عدالت آرٹیکل 187 کا استعمال کیوں نہ کرے؟ فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ اختیار تو سپریم کورٹ کا بہت ہے کسی کو بھی پھانسی لگا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کے نکات پر مزید سوچ لیجیے، فیصل واوڈا نااہلی کیس میں نہ صرف سینئر بلکہ دو سابق چئیرمین سینیٹ وکلا ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیتے ہیں۔ وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ آئندہ ہفتے سماعت نہ رکھیں گڑبڑ لگ رہی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ اگلے ہفتے گڑبڑ کی توقع کر رہے ہیں؟ بعدازاں کیس کی مزید سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کے خلاف دوہری شہریت پر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ کیا تھا۔ محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا جبکہ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تنخواہ اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کے بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا تھا جبکہ ان کی جانب سے بحیثیت رکن قومی اسمبلی، سینیٹ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ کو بھی ‘غلط’ قرار دیا گیا تھا۔ فیصل واوڈا پر الزام تھا کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑتے ہوئے اپنی دوہری شہریت کو چھپایا تھا۔
فیصل واوڈا نااہلی کیس 22 ماہ سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہا، مذکورہ کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کیس پر سماعت ہوئی۔فیصل واوڈا کی دوہری شہریت کے خلاف قادر مندوخیل کی جانب سے 2018 میں درخواست دائر کی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس وقت فیصل واوڈا نے قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اس وقت وہ دوہری شہریت کے حامل اور امریکی شہری تھے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے الیکشن کمیشن میں ایک بیانِ حلفی دائر کیا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے شہری نہیں ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ انہوں نے جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرایا تھا اس لیے آئین کی دفعہ 62 (1) (ف) کے تحت وہ نااہل ہیں۔
درخواست کی سماعت کے دوران سابق وزیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے کوئی جھوٹ نہیں بولا، کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے قبل انہوں نے اپنا غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ کروا دیا تھا۔ سماعت کے دوران فیصل واوڈا کے وکیل بیرسٹر معید نے ان کا پیدائشی سرٹیفکیٹ کمیشن میں جمع کروایا اور بتایا تھا کہ فیصل واوڈا امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پیدا ہوئے تھے اور پیدائشی طور پر امریکی شہری تھے۔
