چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو ہٹانے کی سازش کس نے کی؟


پاکستان بار کونسل اور وکلا برادری نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی شیخ کو ان کے واضح انکار کے باوجود سپریم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج مقرر کرنے کی کوشش کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے یہ غیر آئینی کام اس لیے کیا ہے تا کہ سندھ ہائی کورٹ میں اپنی مرضی کا چیف جسٹس لایا جا سکے۔ وکلا برادری کا کہنا ہے کہ یہ مذموم کوشش ناکام ہو گی کیونکہ جسٹس احمد علی شیخ کو انکی مرضی کے بغیر سپریم کورٹ نہیں بھجوایا جا سکتا۔ چنانچہ جوڈیشل کمیشن کا یہ متنازعہ اقدام اس تجویز کے محرکین کے لئے شرمندگی کا باعث بنے گا۔
یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنی مرضی کے ججز کی تعداد بڑھانے کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 28 جولائی کے روز سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی بجائے ایک جونئیر جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کا مستقل جج لگانے کی منظوری دی تھی جسے وکلا برادری نے یکسر مسترد کردیا تھا۔ جسٹس مظہر کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے متنازعہ اقدام کے بعد 10 اگست کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہونے والےجوڈیشل کمیشن کےاجلاس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی شیخ کی سپریم کورٹ میں ایڈہاک بنیاد پر ایک سال کے لیے تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے حالانکہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایڈہاک تعیناتی سے پہلے ہی انکار کرچکے تھے۔ انہوں نے 5 اگست کے روز جوڈیشل کمیشن کو ایک خط میں اپنی مستقل تعیناتی پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے پانچ میں سے چار کی اکثریت سے فیصلہ کیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کو ایک سال کی مدت کے لیے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج بننے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔ تاہم اس معاملے میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی رضامندی ضروری ہے اور اگر وہ سپریم کورٹ جانے پر تیار نہ ہوں تو انہیں زبردستی نہیں بھجوایا جا سکتا۔
جن افراد نے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی صدارت میں جے سی پی کے اجلاس کے دوران اس فیصلے کی مخالفت کی، ان میں جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس مقبول باقر، سابق سپریم کورٹ کے جج دوست محمد خان اور حال ہی میں مقرر کردہ پاکستان بار کونسل کے نمائندے ایڈووکیٹ اختر حسین شامل ہیں۔دوسری جانب چیف جسٹس گلزار ، جسٹس مشیر عالم ، جسٹس عمر عطا بندیال اور وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج مقرر کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے بھی اس سفارش کی تائید کی تاہم کہا کہ منظوری سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رضامندی سے مشروط ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ جسٹس مظہر کی سپریم کورٹ میں ترقی کے حق اور مخالفت میں بھی مذکورہ شخصیات نے ووٹ ڈالا تھا۔ یعنی جس دھڑے نے ایک جونئر جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دلوائی، وہی سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو عارضی جج لگانے کے غیر آئینی اقدام میں پیش پیش ہے۔ خیال رہے کہ 17 اگست کو جسٹس مشیر عالم سپریم کورٹ سے عمر کی حد پوری کرنے پر ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ ان کی جگہ سندھ ہائی کورٹ کے سینیارٹی کے اعتبار سے پانچویں نمبر والے جج محمد علی مظہر کو سپریم کوٹ کا مستقل جج تعینات کیا جارہا ہے جب کہ اسی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یعنی سب سے سینئر جج کو عارضی جج تعینات کرنے کی تجویز ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی بطور ایڈہاک جج تقرر کی تجویز سامنے آنے کے بعد وکلاء برادری کی جانب سے اس پر سخت ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔ پاکستان بار خونسل، سندھ بار کونسل، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن نے تجویز کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تجویز اس وقت شکست کھا جائے گی جب جسٹس احمد علی شیخ اپنی رضامندی نہ دینے کا انتخاب کریں گے۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ کئی تعیناتیوں میں سینیارٹی کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ جب کہ حال ہی میں جسٹس محمد علی مظہر کی تعیناتی میں بھی سینیارٹی کے اصول پسِ پشت ڈالے گئے۔انہوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو بطور مستقل جج تو تعینات نہیں کیا گیا لیکن اب انہیں سپریم کورٹ ہی میں ایڈہاک جج کے طور تعینات کیوں کیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایسی کسی بھی تعیناتی کو چیلنج کیا جائے گا۔ بیرسٹر صلاح الدین احمد نے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حال ہی میں سپریم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے مستقل جج جسٹس محمد علی مظہر کی تعیناتی کو قبول نہ کرتے ہوئے اس معاملے کو واپس جوڈیشل کمیشن بھجوا دے۔
واضح رہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 182 کے تحت سپریم کورٹ میں 17 مستقل ججز کے علاوہ عارضی طور پر ججز بھی تعینات کیے جاسکتے ہیں۔فی الحال سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 16 ہے۔ جن میں سے آٹھ ججز کا تعلق پنجاب، پانچ کا سندھ، دو کا خیبر پختوخوا اور ایک جج کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 182 کے تحت مقدمات بڑھ جانے کی صورت میں کورم پورا کرنے کے سپریم کورٹ میں 17 مستقل ججز کے علاوہ صدر مملکت کی اجازت سے عارضی طور پر ججز بھی تعینات کیے جاسکتے ہیں۔ ایڈہاک جج کے پاس وہ تمام اختیارات ہوں گے جو سپریم کورٹ کے کسی اور جج کے پاس ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ججز کے تقرر کے لیے قائم سپریم جوڈیشل کمیشن کے چار سال تک رکن رہنے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد ایڈووکیٹ کہتے ہیں عمومی طور پر ایڈہاک جج اس صورت میں مقرر کیے جاتے ہیں جب سپریم کورٹ کے پاس کیسز بڑی تعداد میں ہوں اور اس کے لیے عام طور پر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی خدمات ہی حاصل کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چوں کہ آئین کے تحت وہ شخص بھی سپریم کورٹ کا جج مقرر ہو سکتا ہے جس نے کم سے کم 15 سال ہائی کورٹ میں بطور وکیل کام کیا ہو، اس لیے ان کے خیال میں ایڈہاک جج کوئی وکیل بھی تعینات کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اب تک کسی بھی سینئر وکیل کو براہِ راست سپریم کورٹ کا مستقل یا عارضی جج نہیں بنایا گیا ہے۔ یاسین آزاد ایڈووکیٹ کے خیال میں وکلا برادری کو سندھ ہائی کورٹ کے جج کو غیر مستقل یعنی ایڈہاک جج بنانے پر اصولی اختلاف ہے۔ یاسین آزاد ایڈووکیٹ کے بقول ایک مستقل چیف جسٹس کو ایڈہاک جج بنانا زیادتی کے مترادف ہے۔ یہ نہ سمجھ میں آنے والی منطق ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں میں ایسی کئی نظیر موجود ہیں جن کی روشنی میں سینیارٹی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ وکلا ایسوسی ایشنز یہ سوال پہلے بھی اٹھا چکی ہیں کہ اگر سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کے لیے سینیارٹی کے اصول پر عمل نہیں کرنا تو آخر وہ کیا معیار ہے جس کی بنا پر یہ تقرر کیا جاتا ہے؟ یاسین آزاد کے مطابق اگر سپریم کورٹ کے خیال میں اس میں قابلیت ہی کا اصول اپنانا ہے تو پھر بھی یہ یہاں لاگو نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ جسٹس محمد علی مظہر کو مستقل جج جب کہ جسٹس احمد علی شیخ کو ایڈہاک جج بنا کر سپریم کورٹ میں ہی تعینات کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینیارٹی کے ساتھ قابلیت کو بھی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا معیار مقرر کیا جارہا ہے تو اس کے لیے بھی کوئی پیمانہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ کس کس چیز پر کس قدر فوقیت دی جائے گی۔
ادھر سندھ بار کونسل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی چیف جسٹس کو اس کی مرضی کے برخلاف ایڈہاک جج مقرر کیا جاتا ہے تو یہ ایک انتہائی بری آئینی روایت قائم کرنے کے مترادف ہوگا اور اس عمل سے ہائی کورٹس کی آزادی مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جائے گی۔ یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں سنیارٹی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر موجود جج کی چار سینیئر ترین ججز کو نظر انداز کر کے سپریم کورٹ میں تعیناتی کے معاملے پر ملک بھر میں کئی ہفتوں سے احتجاج جاری ہے۔ سندھ بار کونسل کے مطابق سینیارٹی کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک غیر ضروری آئینی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جونیئر ججز کی تعیناتی کے خلاف وکیلوں کے احتجاج کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ سال 2022 کے پہلے آٹھ مہنیوں میں سپریم کورٹ کے سات ججز ریٹائر ہو رہے ہیں اور وکیلوں کو خدشہ ہے کہ اگر جونیئر ججز کی تعیناتی پر احتجاج نہ کیا گیا تو ریٹائرڈ ہونے والے ججوں کی جگہ جونیئر ججوں کو تعینات کیا جاسکتا ہے۔2022 میں ریٹائرڈ ہونے والے ججز میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان یکم فروری 2022 کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں، جسٹس قاضی محمد امین 25 مارچ، جسٹس مقبول باقر چار اپریل، جسٹس مظہر عالم مندوخیل 13 جولائی اور جسٹس سجاد علی شاہ 13 اگست 2022 کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ لیکن بعض وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین کے تحت ملک میں ججز کی تعیناتی کا مکمل اختیار صرف جوڈیشل کمیشن کے پاس ہے اور آئین کے آرٹیکل 176 میں صرف یہی درج ہے کہ سپریم کورٹ کے جج بننے کے لیے امیدوار پانچ سال ہائی کورٹ کا جج رہا ہو یا کم از کم 15 سال ہائی کورٹ میں وکالت کی ہو۔بعض وکلا کہتے ہیں جج کی تعیناتی کا صرف وہی اصول ہے جو آئین میں دیا گیا ہے اور یہ استحقاق صرف سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے کہ وہ اس عہدے کے لیے کس کو تعینات کرتا ہے۔ سینیارٹی کے اصول کے بجائے صرف قابلیت کو بنیاد بنا کر ججز کی تعیناتی کے عمل کی وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی کھل کر حمایت کی ہے۔

Back to top button