چیف جسٹس فائز کو بروقت ریٹائرمنٹ کا اعلان کیوں کر دینا چاہیے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کا امتیاز عالم نے کہا یے کہ آئینی بالادستی کے بڑے محافظ کے طور پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو تمام اہم مقدمات جلد سن کر انکے تاریخ ساز فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ اکتوبر 2024 میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کردینا چاہیے۔ روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ اور فوج کے مابین بڑھتی ہوئی محارائی کے بعد اب تقریبا ویسی ہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جیسی جنرل مشرف دور میں پیدا ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ایک زوردار وکلا تحریک شروع ہوئی اور پی ہی پی کی نئی وفاقی حکومت افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس بحال کرنے پر مجبور ہو گئی۔ لیکن بعد میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو نیچے لگا کر ٹرائیکا کا ایک طاقتور مرکز بن گئے اور انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں ایک منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل کر کے گھر بھیج دیا۔

امتیاز عالم کے بقول معاملہ چھ معزز ججوں کے گناہ بے لذت تک محدود نہیں رہا۔ منصفوں کی شکایات کے انبار لگ گئے ہیں، تمام ہائیکورٹس یک زبان ہوکر فریادی بن گئی ہیں۔ اس پر اب ڈھکنا ڈالے تو کون، لاوا پھٹنے کو ہے۔ اگر تمام متاثر جج صاحبان قطار اندر قطار کھل کر سامنے آن کھڑے ہوئے تو پراکسی توپچیوں کی توپوں میں ڈالا گیا بارود گیلا ہوجائے گا۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ اور ضلعی عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف اِک زہریلی مہم چلائی جارہی ہے اور عدلیہ اور بعض وزارتی محکموں میں تصادم کا ندیشہ ہے اور حکومت کی سٹی گم ہوتی لگ رہی ہے۔ جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے وہ میڈیا میں’’ریاست‘‘ کے نام سے پکاری جاتی ہے، جو کہ اب تقسیم ہو گئی ہے۔ عدلیہ کے اندر بھی اختلاف رائے ہے اور عدلیہ و انتظامیہ کی دفاع کے محکموںسے بھی رسہ کشی بڑھنےکا خدشہ ہے۔ ایسا ہی ایک مرحلہ جنرل پرویز مشرف اورچیف جسٹس افتخار چوہدری کے مابین جھگڑے کی صورت سامنے آیا تھا جس کا منطقی انجام یہ ہوا کہ افتخار چوہدری نے وکلا تحریک کے نتیجے میں بحال ہونے کے بعد وزیراعظم کو ہی گھر بھیج دیا تھا۔ بالعموم منتخب حکومتیں، عدالتوں کے جاہ و جلال کے آگے سجدہ ریز ہوتی رہی ہیں۔ پھر جس طرح چیف جسٹس ثاقب نثار اور اسکے رفقا نے وزیر اعظم نواز شریف کو نہ صرف نااہل قرار دیا بلکہ 2018 کے گرینڈ الیکٹرل فراڈ کا حصہ بنتے ہوئے نواز شریف کو انتخابات سے چند روز پہلے طویل سزا بھی دے ڈالی۔ اسی طرح عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ انصاف کا جو سرقہ بالجبر ہورہا ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ یوں سیاست میں عدلیہ کی متحارب مداخلت کے ہاتھوں خود عدلیہ بھی تقسیم ہوتی چلی گئی جسے نواز لیگ اور تحریک انصاف نے اپنی باہم چپقلش میں تحقیر و توصیف کا نشانہ بنایا۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ قاضی فائز عیسیٰ ایک راست اور آزاد منش جج کے طور پر سامنے آئے تھے جنہوں نے فیض آباد دھرنے کے مقدمہ میں ایجنسیوں کے سربراہ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو جرأت سے ذمہ دار ٹھہرایا۔ چیف جسٹس بننے پر اُن سے بڑی توقعات وابستہ ہوگئیں اور خود سپریم کورٹ کے اندر انہوں نے بہت مناسب اصلاحات کا آغاز کیا۔ گو کہ انہوں نے انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا لیکن بدقسمتی سے وہ ایک ہائبرڈ رجیم کی جگہ دوسرے ہائبرڈ رجیم پلس کیلئے مقتدرہ کی بڑی اسکیم کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو انتخابی عمل سے بطور جماعت کے اخراج کی سازش کو نہ روک پائے اور قانون و ضوابط کی لفظی تشریح کا شکار ہوکر تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھینے جانے کی غیر جمہوری کوشش پہ مہر لگا بیٹھے۔ ان پر بھی توازن بحال کرنے کی زیادہ ذمہ داری ہے۔ انکی سربراہی میں سپریم کورٹ کو چھ ججوں کی شکایت سمیت، عدلیہ کی خود مختاری اور شفافیت کیلئے دور رس اصلاح احوال کیلئے بڑے فیصلے کرنا ہونگے جس میں نہ صرف انتظامیہ کی عدلیہ کے معاملات میں در اندازی اور عدلیہ کی انتظامی معاملات میں دخل اندازی کو روکنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں بھرتیوں کے طریقہ کار اور ججوں کے احتساب کیلئے نہ صرف بطور ادارہ فل کورٹ میں بڑے فیصلے کرنا ہونگے بلکہ پارلیمنٹ کو 19 ویں ترمیم کی غلط روی کی تصحیح کیلئے سفارشات بھیجنی چاہئیں۔

Back to top button