چیف جسٹس نے کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تردید کر دی

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمشنر راولپنڈی کے ’بے بنیاد‘ الزامات کی تردید کر دی، جبکہ سپریم کورٹ میں ججز کا اجلاس جاری ہے، پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے راولپنڈی ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق الزامات کی تردید کردی ہے۔ سنیچر کو سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا لیاقت علی چٹھہ کے الزامات پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آپ الزام لگا دیں بے بنیاد، نہ کچھ اس میں ذرا سی بھی صداقت ہو، نہ ذرا سی کوئی سچائی ہو، نہ آپ کوئی ثبوت پیش کریں۔خیال رہے راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ڈویژن میں ’70، 70 ہزار کی لیڈ‘ سے ہارنے والے امیدواروں کو مبینہ طور پر جعلی مہریں لگا کر جتوایا گیا ہے۔انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’اس ساری غلط کاری کی ذمہ داری میں اپنے اوپر لے رہا ہوں اور ساتھ بتا رہا ہوں جو چیف الیکشن کمشنر ہیں، چیف جسٹس ہیں وہ اس کام میں پورے شریک ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس ملک کو توڑنے کی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا۔ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’آپ کچھ بھی الزامات لگا سکتے ہیں، کل مجھ پر کوئی چوری کا الزام لگادیں، کوئی قتل کا الزام لگا دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’الزام لگانا لوگوں کا حق ہے لیکن ساتھ ساتھ ثبوت بھی دے دیں۔خیال رہے اس وقت اس وقت کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر میں مشاورتی اجلاس جاری ہے۔اس اجلاس میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ موجود ہے۔اس اجلاس میں کمشنر راولپنڈی کے الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مشاورت کی جا رہی ہے کہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لینا چاہیے یا نہیں۔

Back to top button