چیف سیکرٹری کی چھٹی بزدار کے ناجائز آرڈرز نہ ماننے پر ہوئی

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چیف سیکریٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو پانچ ماہ بعد ہی فارغ کردینے کی بنیادی وجہ ان کا میرٹ اور قانون پر چلنا تھا کیونکہ وہ وزیر اعلی بزدار کی بھی ایسی ہدایت پر عمل کرنے سے صاف انکار کر دیتے تھے جو میرٹ اور قانون کے خلاف ہوتی تھی۔
وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب میں طاقتور ترین سمجھے جانے والے چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو تبدیل کر کے صوبے میں ایک بار پھر فیصلہ سازی کا اختیار اپنے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار اور سینئیر وزیر عبدالعلیم خان کو سونپ دیا ہے جس کے بعد کپتان کے دونوں کھلاڑیوں کی طرف سے رمضان المبارک کے فوری بعد میچ وننگ ٹیم کی تشکیل کیلئے صوبائی کابینہ اور سول بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے آٹا چینی اسکینڈل میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدارکے ملوث ہونے کے واضح ثبوتوں کے باوجود ایک بار پھرعثمان بزدار کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو پانچ ماہ بعد ہی فارغ کر کے جواد رفیق ملک کو صوبے کا نیا چیف سیکریٹری لگا دیا ہے۔ کپتان کے اس فیصلے کو ان کے اسٹیبلشمنٹ سے بڑھتے ہوئے اختلافات کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے وہیں عمران خان نے اپنے اس فیصلے سے اپنی سیاسی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سٹار کھلاڑیوں عثمان بزدار اور علیم خان کو با اختیار بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے میں وننگ ٹیم کی تشکیل کے حوالے سے فری ہینڈ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کپتان کی طرف سے فری ہینڈ ملنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب اور سینئیر صوبائی وزیر نے صوبائی کابینہ اور سول بیوروکریسی میں تبدیلیوں کے حوالے سے سر جوڑ لئے ہیں اور عید کے فوری بعد صوبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نومبر 2019 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیج میٹ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ تعیناتی پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو پہلے دن سے تحفظات تھے جس کا اظہار وہ اکثر اپنے قریبی ساتھیوں سے بھی کرتے رہتے تھے۔ تاہم چیف سیکرٹری کی تبدیلی اور نئے چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک کی تعیناتی سے جہاں عثمان بزدار خوشی سے نہال ہیں وہیں کھڈے لائن لگی ہوئی سول بیوروکریسی بھی خوشی کے شادیانے بجانے میں مصروف ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے پرزور مطالبے پر پنجاب میں ڈلیور کرنے کیلئےمیجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان خان کو بھاری بھرکم مینڈیٹ کے ساتھ پنجاب کے میدان میں اتارا تھا جنہوں نے تعیناتی کے 24 گھنٹے کے اندر تمام افسرشاہی تبدیل کرکے اپنی نئی ٹیم تشکیل دی تھی اور جب انھوں نے وزیراعلی کے قریب ترین سمجھے جانے والے افسروں کو پنجاب بدر کیا تو اس سے نہ صرف کپتان کے وسیم اکرم پلس نے ناراضی کا اظہار کیا بلکہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوگیا کہ چیف سیکرٹری اعظم سلیمان پنجاب کی ڈرائیونگ سنبھال چکے ہیں یہ تاثر اس حد تک مضبوط ہوتا چلا گیا کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 20 اراکین پنجاب اسمبلی کے پریشر گروپ نے چیف سیکرٹری کے خلاف نہ صرف بیان بازی کی بلکہ وزیر اعلی کو دوبارہ با اختیاربنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
تاہم اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے پریشر کو ملخوظ خاطر رکھتے ہوئے صوبائی قیادت کو خاموشی کے ساتھ معمولات چلانے کی ہدایت کی گئی تاہم ملک میں آٹے اور چینی کے سکینڈل میں جہانگیر ترین کا نام سامنے آنے اوران کی کپتان سے دوری کے بعد پنجاب میں علیم خان کو دوبارہ ان کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مکمل اختیارات کے ساتھ علیم خان کی پنجاب میں بطور سینئیر وزیر اور صوبائی وزیر خوراک کے تعیناتی کے بعد علیم خان کو جھٹکا اس وقت لگا جس وقت پنجاب کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے ہی صوبے میں آٹے کی سپلائی سے متعلق محکمہ خوراک کے جاری کردہ پرمٹ ماننے اور فلور ملز کو اوپن مارکیٹ سے گندم کی خریداری کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ علیم خان کے استفسار پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے صرف چیف سیکرٹری کے احکامات کے پابند ہیں اور چیف سیکرٹری کی واضح ہدایات کے مطابق صوبے میں گندم خریداری کا ہدف پورا کرنا ان کی پہلی ترجیح ہے اس لئے وہ فلور ملز کو اوپن مارکیٹ سے گندم کی خریداری کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ اس طرح ان کیلئے گندم خریداری کے ہدف کا حصول ناممکن ہے۔ عثمان بزدار کے بعد علیم خان کی ناراضی مول لینے پر چیف سیکرٹری کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔
تاہم دوسری طرف ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سابق چیف سیکرٹری صوبائی قیادت کی کسی بھی ایسی ہدایت پر عمل کرنے سے صاف انکار کر دیتے تھے جو میرٹ اور قانون کے خلاف ہو اور ماضی قریب میں اعلیٰ حکومتی ذمہ داران کی جانب سے مختلف محکموں میں وسیع پیمانے پر تبادلوں کے مطالبے پر سابق چیف سیکرٹری اعظم سلیمان کی طرف سے انکار ان کے تبادلے کی وجہ بنا۔
یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پنجاب میں ڈلیور کرنے میں ناکامی پربزدار کو ہٹائے جانے کا مطالبہ بدستور اپنی جگہ موجود ہے تاہم پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے اٹھارہ مہینوں کے اقتدار کے دوران تمام تر سکینڈلز اور ناکامیوں کے باوجود کپتان کے چہیتے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار تو اپنے عہدے پر بدستور قائم ہیں لیکن ان کی شکایت پر اب تک تین چیف سیکرٹری اور چار آئی جیز تبدیل کئے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان نے گزشتہ برس نومبر2019ء میں چیف سیکرٹری پنجاب کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اعظم سلیمان ڈی ایم جی کے 14 ویں کامن سے تعلق رکھتے ہیں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیج میٹ ہیں. اعظم سلیمان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھی چیف سیکرٹری پنجاب رہ چکے ہیں۔ تاہم اب انھیں آرمی چیف کی خواہش پر وفاقی سیکرٹری داخلہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button