چینی انجینئرز پر حملے میں چینی جہادی ملوث نکلے

معلوم ہوا ہے کہ 14 جولائی کو کوہستان کے علاقے داسو میں چینی انجینئرز کی بس پر دہشت گرد حملے کا منصوبہ چینی مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان نے مشترکہ طور پر بنایا تھا۔
14 جولائی کو داسو میں زیر تعمیر 4 ہزار میگاواٹ کے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر تعمیراتی ٹیم کو لے کر جانے والی ایک بس بالائی کوہستان میں دھماکے کے بعد دریا میں جا گری تھی جس سے 9 چینی انجینئیرز اور چار مقامی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد چینی حکومت نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے داسو پروجیکٹ پر کام بند کر دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ پہلے اس حملے میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے۔ اسی دوران وزیر اعظم عمران خان سے فون پر گفتگو کے بعد چینی وزیراعظم نے ایک 15 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم پاکستان روانہ کی تھی جس نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ بس کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔ اب پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیز نے یہ انکشاف کیا ہے کہ داسو بم دھماکا چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں آزادی کی تحریک چلانے والی عسکریت پسند تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ نے تحریک طالبان پاکستان کی شراکت سے کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے چینی عسکریت پسند شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پناہ لیے ہوئے تھے اور بارڈر پار جا کر چین میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے۔ تاہم پاک فوج کے آپریشن کلین اپ کے بعد بہت سارے چینی عسکریت پسند مارے گئے اور درجنوں کو گرفتار کرکے چین کے حوالے کردیا گیا۔ لیکن جو چینی عسکریت پسند باقی بچے وہ پاکستان چھوڑ کر افغانستان فرار ہو گئے۔ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیز کا خیال ہے کہ اب افغانستان میں افغان طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے بعد پاکستانی طالبان کی بھی ملک واپسی شروع ہوچکی ہے اور چینی عسکریت پسند بھی انہیں کے ساتھ واپس آنا شروع ہو چکے ہیں۔ چینی مسلمان عسکریت پسندوں اور پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں کی یہ قربت داسو بم حملے میں بھی نظر آئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے بارڈر سے منسلک مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں اوغر مسلمانوں کی اکثریت ہے جو کہ ناراض ہیں اور ایسٹ ترکستان مومنٹ ان کی نمائندگی کا دعوی کرتی ہے۔ افغان جہاد کے دوران یہ لوگ افغانستان آگئے تھے اور طالبان نے بھی انہیں پناہ دی۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ لوگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے جہاں ان کا الحاق القاعدہ اور اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سے ہوا۔ ان کے کچھ لوگ بھی فوجی کارروائیوں میں مارے گئے۔
چینی مسلمان عسکریت پسند کہتے ہیں کہ پہلے یہاں پر ایسٹ ترکستان کے نام سے ایک اسلامی ملک قائم تھا جس پر چین نے قبضہ کر لیا تھا۔ انکا کہنا یے کہ چین نے انہیں برابری کے حقوق نہیں دیے اور ان کے ساتھ کافی زیادتی ہو رہی ہے۔ چنانچہ انھوں نے مسلح جدوجہد شروع کر دی جس کا دائرہ کار اب انھوں نے چین سے بیجنگ تک بڑھا دیا ہے۔
انہیں وہاں پر اسلحہ نہیں ملتا لیکن یہ لوگ چاقوؤں کی مدد سے چینی حکام اور اور تھانوں وغیرہ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ داسو بم حملے میں انہی چینی عسکریت پسندوں کا نام آگیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب پاکستان میں چینی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے مزید دہشت گرد کارروائیاں بھی کر سکتے ہیں۔
