وزیر اعظم کا چینی اور گندم بحران میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا اعلان

وزیر اعظم عمران نے اعلیٰ سطحی کمیشن کی جانب سے آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی نتیجہ آنے کے بعد گندم اور چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا.
میں کسی بھی کارروائی سے پہلے اعلیٰ سطحی کمیشن کی جانب سے مفصل فرانزک آڈٹ کے نتائج کا منتظر ہوں جو 25 اپریل تک مرتب کرلئے جائیں گے۔ ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی طاقتور گروہ (لابی) عوامی مفادات کا خون کرکے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گا، انشاءاللہ۔
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) April 5, 2020
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ فرانزک آڈٹ کا نتیجہ 25 اپریل تک مرتب کرلیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی طاقتور گروہ (لابی) عوامی مفادات کا خون کر کے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح وعدےکے مطابق گندم اورچینی کی قیمتوں میں یک لخت اضافےکی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ فوراً بلا کم و کاست جاری کردی گئی ہیں۔ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ذاتی مفادات کی آبیاری اور سمجھوتوں کی روایت نے ماضی کی سیاسی قیادت کو اس اخلاقی جرات سے محروم رکھا جس کی بنیاد پر وہ ایسی رپورٹس جاری کرنے کی ہمت کر پاتیں۔
واضح رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ 4 اپریل کو عوام کے سامنے پیش کی گئی. جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔
معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کہ چونکہ انہوں نے عوام سے رپورٹ منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا اس لیے اب یہ وقت ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے۔دستاویز کے مطابق سال 17-2016 اور 18-2017 میں چینی کی پیداوار مقامی کھپت سے زیادہ تھی اس لیے اسے برآمد کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 52 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ سال 17-2016 میں ملک میں چینی کی پیداوار 70 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی اور سال 18-2017 میں یہ پیداوار 66 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن تھی۔ڈی جی ایف آئی اے کی طرف سے وزیر اعظم کو پیش کی جانےو الی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چینی بحران سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین، خسرو بختیار، چودھری مونس الہی، چوہدری منیر اور خسرو بختیار کے قریبی رشتہ دار شامل ہیں. شوگر ملزنے سبسڈی وصول کرنے کے علاوہ قیمتیں بڑھنے پر کروڑوں روپے کا فائدہ بھی اٹھایا.
تاہم انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کو 2 طرح سے فائدہ ہوا، پہلا انہوں نے سبسڈی حاصل کی دوسرا یہ کہ انہوں نے مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہونے سے فائدہ اٹھایا جو دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔

ملک میں چینی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں 2018 میں چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں پنجاب کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کو بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔کمیٹی کی رپورٹ میں چینی کی برآمد اور قیمت میں اضافے سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی سامنے لائے گئے ہیں جس کے مطابق اس کا سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو (جہانگیر خان ترین) کو ہوا اور اس نے مجموعی سبسڈی کا 22 فیصد یعنی 56 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سب سے زیادہ فائدہ آر وائی کے گروپ کو ہوا جس کے مالک مخدوم خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان ہیں اور انہوں نے 18 فیصد یعنی 45 کروڑ 20 روپے کی سبسڈی حاصل کی۔اس گروپ کے مالکان میں چوہدری منیر اور مونس الہٰی بھی شامل ہیں جبکہ اس کے بعد تیسرے نمبر پر زیادہ فائدہ المُعیز گروپ کے شمیم احمد خان کو 16 فیصد یعنی 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی صورت میں ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمیم احمد خان کی ملکیت میں موجود کمپنیوں نے گزشتہ برس چینی کی مجموعی پیداوار کا 29.60 فیصد حصہ برآمد کیا اور 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔رپوورٹ کے مطابق اومنی گروپ جس کی 8 شوگر ملز ہیں اس نے گزشتہ برس برآمداتی سبسڈی کی مد میں 90 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیے، خیال رہے کہ اومنی گروپ کو پی پی پی رہنماؤں کی طرح منی لانڈرنگ کیس کا بھی سامنا ہےْ۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس اہم پہلو کو بھی اٹھایا ہے کہ برآمدی پالیسی اور سبسڈی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے سیاسی لوگ ہیں جن کا فیصلہ سازی میں براہ راست کردار ہے، حیران کن طور پر اس فیصلے اور منافع کمانے کی وجہ سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا اور اس کی قیمت بڑھی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہنزہ گروپ نے 2ارب 80 کروڑ اور فاطمہ گروپ نے 2 ارب 30 کروڑ کی سبسڈی لی، شریف گروپ نے 1 ارب 40 کروڑ کی سبسڈی حاصل کی۔ اومنی گروپ نے 90 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی حاصل کی۔رپورٹ کے مطابق شوگر ملوں کو سبسڈی ملنا، چینی کی صنعت کا سیاست میں اثرورسوخ ظاہرکرتا ہے۔ سیکرٹری فوڈسیکورٹی کے تحفظات کے باوجود ای سی سی نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دی۔
رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی شوگر ملز اور ہول سیل ڈیلرز کی جانب سے فارورڈ بائینگ اور سٹے کی بھی نشاہدہی کی گئی ہے، اس اقدام سے رمضان میں قیمت 100 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی تھی۔ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن شوگرانڈسٹری کا فرانزک آّڈٹ کرے گا، فرانزک آڈٹ کی بنیاد پر سفارشات سے ملک کی زرعی پالیسی مرتب کرنے میں مددملے گی۔تا ہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے کس کے دباؤ میں آکر شوگر ملز کو سبسڈی دی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ کی اجازت کیوں دی؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد سے ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا۔چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔چینی برآمد کرنے والوں نے دو طرح سے پیسے بنائے۔چینی پر سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا جبکہ چینی کی قیمتوں میں کمی اور اضافے میں سٹہ مافیا بھی ملوث ہے۔ رپورٹ میں سٹہ مافیا کے خلاف آئی بی اور صوبوں کی سپیشل برانچ کو فوری کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے. رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا۔دسمبر 2018 سے جون 2019 تک چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا جبکہ اس عرصے کے دوران کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگایا گیا.
خیال رہے کہ جہانگیر خان ترین تحریک انصاف کے اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں جبکہ خسرو بختیار وفاقی کابینہ میں شامل ہیں اور ان کے پاس وزارت تحفظ خوراک اور تحقیق کا قلمدان ہے۔خسروبختیار کے ایک بھائی مخدوم ہاشم جواں بخت پنجاب کابینہ میں شامل ہیں اور صوبائی وزیر خزانہ ہیں۔واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی وفاقی وزیر اور حکومتی جماعت کے رہنما پر بحران کی ذمہ داری کا الزام لگاچکی ہیں۔

یاد رہے کہ جنوری اور فروری میں ملک بھر میں گندم کے بحران کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی تھی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بحران پر قابو پانے کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی تاہم ماہرین کا خیال تھا کہ درآمد شدہ گندم آتے آتے مقامی سطح پر گندم کی فصل تیار ہوجائے گی اور پھر گندم کی زیادتی کی وجہ سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔اس حوالے سے وزیراعظم نے بحران کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں گندم اور چینی بحران کیلئے 2 کمیٹیاں تشکیل دی تھیں اور وزراء کو بحران کی وجوہات جاننے کا ٹاسک سونپا تھا۔آٹے کے ساتھ ملک میں چینی کا بحران بھی سر اٹھانے لگا تھا جس کے باعث وفاقی حکومت نے چینی کی برآمد پر فوری طور پر پابندی لگانے اور چینی کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے چینی درآمد کرنے کی سمری مسترد کرتے ہوئے چینی برآمد کرنے پر بھی پابندی لگادی ہے۔
