چینی تحقیقاتی کمیشن: مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد پیش

وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے چینی بحران پر تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوکر چینی مشاورتی بورڈ کے اس کی برآمدات کے حوالے سے فیصلوں پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
عبدالرزاق داؤد گزشتہ سال چینی اور گندم کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے متعلق تحقیقاتی کمیشن میں پیش ہونے والی پانچویں بڑی شخصیت ہیں، اس کمیشن کو 2019 کے شینی اور گندم بحران پر فارنزک آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ انہوں نے ڈان کو تصدیق کی کہ انہوں نے کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرایا تاہم اس حوالے سے تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ تاہم پیشی پر اٹھائے گئے چند امور میں سے کچھ بتانے کے اصرار پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پوزیشن آج واضح کردیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں 15 مئی کو بیان جاری کروں گا تاکہ اپنی پوزیشن کلیئر کرسکوں‘۔
عبدالرزاق داؤدکا کمیشن کے آگے بیان نہایت اہم ہے کیونکہ چینی اور گندم بحران پر پہلی رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی وزیر اعظم نے ان سے وزارت صنعت و پیداوار اور خسرو بختیار سے وزارت غذائی تحفظ لے لی تھی۔ عبدالرزاق داؤد نے چینی مشاورتی بورڈ کے چیئرمین کے حیثیت سے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) میں چینی کی برآمدات کی اجازت کی پیشکش کی تھی۔
ای سی سی نے اکتوبر اور دسمبر 2018 میں 11 لاکھ ٹن چینی کی برآمدات کی اجازت دی تھی۔ پورے کوٹہ میں سے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی برآمد کی گئی تھی۔
2017-18 میں چینی کی اوسط ریٹیل قیمت 53.75 روپے تھی جب کہ 2016-17 میں یہ 61.43 روپے، 2015-16 میں 64.03 روپے اور 2014-15 میں 58.91 روپے تھی۔ دسمبر 2019 کے اختتام پر جب چینی کا بحران عروج پر تھا تو چینی کی قیمت تقریبا روپے80 فی کلو تک بڑھ گئی تھی۔ ریٹیل کی سطح پر چینی کی قیمت میں ایک روپے کے اضافے کا مطلب ہے کہ صارفین کی جانب سے کل 5 ارب 10 کروڑ روپے کے اخراجات۔ ملک میں چینی کی سالانہ کھپت 50 لاکھ سے 60 لاکھ ٹن ہے۔
اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے اس بحران کے بارے میں جاری کی گئی انکوائری رپورٹ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین اور پارٹی کے رہنماؤں اور اتحادی جماعتوں کے قریبی رشتہ داروں سمیت کچھ نامور شخصیات کے نام سامنے آئے تھے۔
تاہم حکومت نے اپریل کے پہلے ہفتے میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا اور اسے 25 اپریل کو فرانزک آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا۔ بعد ازاں اس ڈیڈ لائن کو 16 مئی تک بڑھا دیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button