چین دنیا پر غلبہ پانے میں کتنا کامیاب ہوا؟

چین نے دنیا پر غلبہ پانے کے اپنے مشن میں تیزی سے کامیابی حاصل کی ہے، اور اس کا سہرا چینی کمیونسٹ پارٹی کے سر جاتا ہے، جس نے مثبت اقدامات اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے منصوبے کو انجام دیا۔انڈیپینڈنٹ اردو کے مصنف جونتھن مارگولس کے مطابق رواں ماہ کے آغاز پر میں ان درجنوں صحافیوں میں سے میں ایک تھا جنہیں ایک چینی کمپنی نے لان کی گھاس کاٹنے کی روبوٹک مشین کے افتتاح کے لیے جرمنی مدعو کیا تھا۔یہ کچھ اچھے فیچرز کے ساتھ ایک اچھی مشین ہے جو اس طرح کی پروڈکٹس کے مقابلے میں بہت بہتر ہے لیکن یہاں جانا کئی حوالوں سے اتنا بھی شاندار نہیں تھا جیسا کہ اس تقریب میں پیدا ہونے والی بدمزگی کی وجہ سے۔بیجنگ سے آنے والے کمپنی کے ملازمین کا واضح طور پر اچھا وقت گزر رہا تھا لیکن یہ مقام ایک افسردہ کانفرنس کا منظر پیش کر رہا تھا، ظاہر ہے چینی ٹیم نے تنظیمی تفصیلات پر زیادہ غور نہیں کیا تھا جس نے گھنٹوں باہر بارش میں کھڑے بہت سے یورپی صحافیوں کو آگ بگولہ کر دیا تاہم ایک موقعے پر میں نے انتہائی نوجوان سی ای او سے بات کی اور کچھ دلچسپ معلومات حاصل کیں۔میں نے پوچھا کہ کیا گھاس کاٹنے والی یہ مشین چین میں بھی فروخت کی جائے گی کیونکہ 20 سالوں میں باقاعدگی سے ان کے ملک آنے جانے کے بعد میں کبھی کسی ایسے چینی شہری سے نہیں ملا جس کے گھر میں لان ہو۔ روبوٹکس کے ماہر نوجوان سی ای او نے کہا کہ اوہ نہیں، ہم سب اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں، چین میں اپنے لان کے ساتھ نجی گھر بہت ہی نایاب ہیں۔یہ تبصرہ اور بے ہنگم لانچنگ ایونٹ ہمیں ان تمام مصنوعات، جن کا بھی آپ نام لیں، میں غلبہ حاصل کرنے میں چین کی بڑھتی ہوئی کامیابی کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ایک کم قیمت روبوٹک لان مشین ایک آؤٹ لیئر ہو سکتا ہے لیکن شاید اگر آپ کوئی بڑی چیز لیتے ہیں تو بھی چین کی بہترین بننے کی توانائی کافی خوفناک ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر چین میں اب 300 سے زیادہ الیکٹرک کار ساز ہیں جن میں سے کم از کم 50 یورپ کو الیکٹرک کاریں برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔حال ہی میں کیے گئے دعوے کے مطابق چینی ہیکر کسی بھی گاڑی کو ہیک کر سکتے ہیں بلکہ اسے سڑک کے درمیان روک بھی سکتے ہیں، ایونٹ کے دو دیگر عناصر میرے لیے نمایاں تھے پہلا یہ کہ لان مشین بنانے والا پروجیکٹ ’سیگ وے‘ ایک امریکی سٹارٹ اپ تھا جو ٹھیک نہیں چلا، دوسرا یہ کہ جرمن ایونٹ میں ہونے والی بدمزگی کی نوعیت کسی بھی شخص کے لیے حیران کن نہیں تھی جو چین کو تھوڑا سا بھی جانتا ہے۔ ادھورا کام یا بالکل کام نہ کرنا وہاں کام کرنے والے مغربی باشندوں کے لیے درد سر ہے۔اور پھر بھی جس حد تک چین نے مغرب کی مارکیٹ پر مؤثر طریقے قابض ہونے کی مہم چلا رکھی ہے اسے مزید بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جا سکتا اگرچہ چینی کمیونسٹ پارٹی دنیا پر تسلط قائم کرنے کی اپنی کوشش کو ایک جاری تسلسل کہتی ہے لیکن حقیقت میں وہ ایسا کر چکی ہے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ ملک صرف 50 سال پہلے ناقابل یقین حد تک غریب تھا جہاں 60 سال پہلے قحط کی وجہ سے لاکھوں چینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے تھے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ وہی سیاسی آقا، جو نظریاتیوں کا ایک گروپ ہے، حقیقتاً اب بھی اس ملک کو چلا رہے ہیں، اور یہ عروج حاصل کرنا چین کی گذشتہ 100 سالوں کی سب سے غیر معمولی پیش رفت میں سے ایک ہے۔چینی لوگوں کے لیے 19ویں صدی کے اوائل سے لے کر 1990 کی دہائی تک ملک کی بد قسمتی محض ایک جھٹکا تھا، اس کے باوجود 1820 میں جب چین پہلے ہی زوال پذیر تھا، تب بھی وہ دنیا کی جی ڈی پی کے 30 فیصد حصے کا مالک تھا، چین کے بعد امریکہ کا حصہ 1.8 فیصد تھا۔ چینی صدر شی جن پنگ، جنہوں نے کامیابی کے ساتھ خود کو ماؤ دوم میں تبدیل کیا ہے، افرادی قوت کی کارکردگی کے معاملے میں اکثر لاپرواہ اور غیر منظم نظر آتے ہیں۔لیکن چینی اب بھی ذہین اور پڑھے لکھے ہیں، وہ سخت محنت کرتے ہیں اور محب وطن ہیں اور فیصلہ سازی اور کاروبار میں بہت اچھے ہیں۔یقین کریں یا نہ کریں لیکن چین کے 27 دوروں میں سے میرے پسندیدہ مشاہدات میں شنگھائی کے ’دا بنڈ‘ علاقے کے مین ہول کے ڈھکن ہیں۔ مجھے شک ہے کہ بہت سے سیاحوں نے اسے نوٹ کیا یا نہیں لیکن ان آہنی ڈھکنوں پر ابھرے ہوئے مغربی حروف SMC-PWD (Shanghai Metropolitan Council Public Works Department) درج ہیں۔اس کا مطلب شنگھائی میٹروپولیٹن کونسل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ہے اور یقیناً یہ ان دنوں کی یادگار ہے جب شہر پربرطانوی نوآبادیاتی دور کا راج تھا۔کیا یہ فخر کی بات نہیں ہے، حیرت انگیز طور پر اگر آپ ایک چینی سرمایہ کار ہیں اور دیگر بہت سے افراد جن کے دادا دادی نوآبادیاتی دور کے ان ڈھکنوں پر چلتے تھے، اب ایک پرائیویٹائزڈ برطانوی واٹر کمپنی کے مالک ہیں۔

Back to top button