چین میں پھنسے طلباکے والدین کا زلفی بخاری اور ظفر مرزا کا گھیراؤ

کورونا وائرس سامنے آنے کے بعد چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کے والدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور زلفی بخاری کی بات سننے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے بچوں کو جلد از جلد واپس لایا جائے۔
19 فروری کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت، معاون خصوصی برائے تارکین وطن زلفی بخاری کے ہمراہ طلبہ کے والدین کو بریفنگ دینے کے لیے پہنچے تھے۔ بریفنگ میں ابھی ڈاکٹر ظفر مرزا اور زلفی بخاری سٹیج تک پہنچے ہی تھے کہ طلبہ کے والدین نے اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا کہ ’ہمارے بچوں کو واپس لاؤ۔‘ اس موقع پر سرکاری حکام کے ساتھ آنے والوں نے والدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی اور انہوں نے آگے بڑھ کر سٹیج کا گھیراؤ کیا۔
ڈاکٹر طفر مرزا نے بات کرنے کی کوشش کی تاہم شور کم نہ ہوا، والدین میں ایک شخص نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:’جب آپ نے ہمارے بچوں کو واپس لانا ہی نہیں تو آپ سے بات کرنے کا کیا فائدہ۔‘
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے کہا گیا کہ وزارت خارجہ کے دو افسران وائرس سے متاثرہ شہر ووہان میں ہیں اور پاکستان پہلا ملک ہے جس نے اپنے حکام کو ووہان بھیجا ہے۔ اس پر والدین نے کہا کہ وزارت خارجہ کے حکام سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہے اور اگر ہو بھی جائے تو ان کی صیح طریقے سے رہنمائی نہیں کی جاتی۔
whatsapp image 2020 02 19 at 15.41.59
والدین کی جانب سے احتجاج کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کھڑے ہو کر بات کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔ جس پر والدین کی جانب سے پوچھا گیا ’باقی چھوڑیں آپ تاریخ بتائیں‘ ظفر مرزا کے اس جواب کہ ہم تاریخ نہیں بتا سکتے پر والدین مزید بھڑک گئے اور زوردے کر پوچھا ’کیوں نہیں بتا سکتے، ایک مہینے سے آپ نہیں بتا رہے۔‘ تاہم اس شور کے باوجود ظفر مرزا نے والدین سے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، اب ہماری وفاقی کابینہ کی میٹنگ ہے۔ آپ کے جذبات، باتیں اور مطالبات سب ہم تک آ گئے ہیں۔ ’میں اور زلفی بخاری ان باتوں کو کابینہ اجلاس میں ڈسکس کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو بھی متفقہ طور پر فیصلہ ہو گا وہ آپ تک پہنچا دیا جائے گا۔
جب ڈاکٹر ظفر مرزا بات ختم کر کے جانے لگے تو والدین کی جانب سے شیم شیم کے نعرے لگائے گئے۔ چین میں پھنسے طلبہ کے والدین نے نیول ہیڈکورٹر کے باہر دھرنا دے دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button