چین نے کرونا بنانے کے الزام پر امریکہ کی کلاس لے لی

چینی حکومت نے امریکی حکام کے اس الزام کو سختی سے رد کیا ہے کہ کرونا وائرس چین نے اپنی کسی لیبارٹری میں بائیلوجیکل ہتھیار کے طور پر تیار کیا تھا۔ چینی حکومت نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت بھی متعدد بار کہہ چکا ہے کہ دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کرنے والا کرونا وائرس کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ دراصل امریکہ کرونا وائرس کو ہینڈل کرنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔
چینی حکومت کی جانب سے یہ وضاحتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے اس بات کی تحقیقات شروع کردی ہے کہ کیا واقعی کرونا کو کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟
یاد رہے کہ آج سے دو ماہ پہلے جینی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس امریکہ نے اپنی کسی لیبارٹری میں تیار کیا ہو اور پھر بائیلوجیکل ہتھیار کے طور پر اسے ووہان میں پھیلا دیا گیا ہو۔ اب امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز اور سی این این کی تازہ رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی مدد سے اس بات کی تفتیش شروع کردی ہے کہ کیا واقعی مہلک وبا کو کسی چینی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟
رپورٹس میں امریکی خفیہ ایجنسی اور حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اگرچہ بیشتر حکومتی و خفیہ ایجنسی کے عہدیداروں کو یقین ہے کہ کرونا کو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا تاہم اس کے باوجود امریکی حکومت نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں کہ کہیں کورونا وائرس، چین کے شہر ووہان کی کسی لیبارٹری میں تو تیار نہیں کیا گیا۔ امریکی حکومت کی جانب سے کرونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے حوالے سے تفتیش شروع کرنے کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب چند روز قبل ہی امریکی صدر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ امریکی حکومت اس بات کو دیکھ رہی ہے کہ کرونا وائرس کہیں لیبارٹری کی پیداوار تو نہیں۔
دوسری طرف امریکی حکومت کی جانب سے تفتیش کے آغاز کے بعد چینی حکومت نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت بھی کہہ چکا ہے کہ کرونا کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا۔ چین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان لی جیان ژاؤ نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ ڈبلیو ایچ او بھی کہہ چکا ہے کہ کرونا کسی لبیارٹری میں تیار نہیں ہوا اور امریکہ صرف کرونا وائرس کو ہینڈل کرنے میں اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 کے وسط میں شروع ہوئی تھی اور ابتدائی 2 ماہ تک مذکورہ وبا صرف چین تک ہی محدود تھی اور وہاں پر 82 ہزار سے زائد لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ اگرچہ چند تحقیقات میں یہ بات کہی گئی ہے کہ کرونا وائرس ممکنہ طور پر ووہان شہر کی گوشت مارکیٹ سے چمگادڑ یا سانپوں کے گوشت سے سامنے آیا اور انسانوں میں منتقل ہوا تاہم بعض ماہرین ایسی تحقیقات کو بھی شکوک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے پہلے ہی دن سے دنیا بھر کے لوگ، ماہرین و سیاستدان مخمصے کا شکار ہیں اور کئی اہم سیاستدان بھی اس وبا کو حیاتیاتی ہتھیار سمجھتے ہیں تاہم عالمی ادارہ صحت نے ایسے خدشات کو مسترد کیا ہے۔
