چین کے دباؤ پر کپتان کا آئی پی پیزسکینڈل پر بھی یوٹرن

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے چین کی جانب سے اظہار ناراضی کے بعد کپتان حکومت سے کہا ہے کہ وہ آئی پی پیز سکینڈل میں نجی بجلی گھروں کے خلاف کارروائی روک دے کیونکہ اس سے دونوں برادر ملکوں کے مابین سٹریٹجک تعلقات بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اسٹیبلشمنٹ نے حکومت پاکستان کو باور کروایا ہے کہ اسوقت ملک میں بجلی بنانے والے ذیادہ تر غیر ملکی آئی پیز پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت کام کر رہے ہیں اور ان میں چین کے سرمایہ کاروں نے خطیر سرمایہ کاری کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بیجنگ کی وارننگ کے بعد حکومت نے اب اس معاملے میں مٹی پائو پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک خفیہ ایڈوائس میں میڈیا کو بھی اس موضوع پر رپورٹنگ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر کیے جانے والی آئی پی پی کے آڈٹ کی رپورٹ منظر عام پر آئی تو ان پاور پروڈیوسرز کی عیاریاں اور ادبوں روپوں لوٹ مار بھی کھل کر قوم پر آشکار ہوگئی تھی۔ اس رپورٹ کے پبلک ہونے پر یہ بھی پتہ چلا کہ کابینہ میں بیٹھے وفاقی وزیر خسرو بختیار، مشیر پیٹرولیم ندیم بابر اور مشیر تجارت رزاق داود سمیت وزیر اعظم کے سابق دست راست جہانگیر ترین بھی آئی پی پیز مافیا کا حصہ ہیں۔ جب وزیراعظم عمران خان نے آئی پی پیز سکینڈل کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعلان کیا تو ہر طرف سے واہ واہ ہوئی اور یہاں تک کہا گیا کہ کپتان اپنی سیاسی اننگ کا سب سے لمبا چھکا لگانے کے لئے کریز سے باہر آ چکے ہیں اور اگر یہ چھکا لگ گیا تو عمران خان کا نام بڑے لمبے عرصے تک ملکی سیاست میں گونجتا رہے گا مگر حسب روسیت یہاں بھی کپتان نے یوٹرن لے لیا۔ اب بدلے ہوئے حالات میں آئی پی پیز کے خلاف خاموشی اختیار کرنا قومی مفاد قرار پایا ہے جس کے بعد مین سٹریم میڈیا بھی اس ضمن میں مکمل خاموش ہے۔
واضح رہے کہ چند روز پہلے تک کہا جا رہا تھا کہ آڈٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد آئی پی پیز اس وقت مذاکرات کے موڈ میں آ چکے ہیں اور انہوں نے عمران خان تک یہ پیغام پہنچایا ہے کہ ہم اپنے پیسے کم کرلیتے ہیں، بجلی کے ٹیرف پر بھی بات کر لیتے ہیں، گردشی قرضے کے حوالے سے بھی کوئی درمیانی راستہ نکال لیتے ہیں، لیکن بدلے میں آپ آئی پی پیز کے خلاف انکوائری بند کروا دیجئے۔ تاہم مبینہ طور پر چینی حکومت کے دبائو کے بعد بازی الٹ گئی اور حکومت پاکستان نے وسیع تر قومی مفاد میں یہ چیپٹر کلو زکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔.
یاد رہے کہ گذشتہ مہینے جب پاور سیکٹر آڈٹ اور گردشی قرضوں کے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی نے وزیر اعظم کو 296 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کی تو یہ بات سامنے آئی تھی کہ پورٹ قاسم اور ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس دراصل پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہیں۔ نیپرا اور سی پی پی اے کی نااہلی اور غیر حقیقی معاہدوں کی وجہ سے آنے والے تیس برسوں کے دوران یہ قومی خزانے پر 483 ارب روپے سے زائد کا بوجھ ڈالیں گے۔ آدٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے علاوہ کچگ دیگر آئی پی پیز بھی چین اور قطر کے تعاون سے لگائے گئے ہیں جو گردشی قرضے بڑھنے کی بڑی وجہ ہیں۔
خیال رہے کہ بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں عرف عام میں آئی پی پیز کہلاتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ان کا ڈول ڈالا گیا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔ تب حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں تھے کہ وہ اربوں روپے لاگت کے یہ منصوبے لگاسکے۔ بعد ازاں پرویز مشرف، زرداری اور نواز شریف کے دور میں بھی آئی پی پیز کے ساتھ ملکی ضروریات کے لئے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے کئی مذید معاہدے ہوئے جن سے فائدہ اٹھانے والے لوگ بھی ایک جیسے ہیں۔
مشرف، زرداری اور نواز شریف کے ادوار میں یہ طے پایا تھا کہ 80 فیصد پیسے حکومت دے گی اور 20% پرائیویٹ کمپنی یعنی آئی پی پی لگائے گی۔اس وقت دس پاور پلانٹ لگائے گے جن میں سے 6 تیل پر چلتے تھے اور چار ایل این جی کے چلنے والے تھے۔تمام کمپنیز کے ساتھ معاہدہ کیا گیا کہ ان کا ہر سال پر فرانزک آڈٹ کیا جائے گا کہ وہ کمپنیاں کیسے بنیں اور ان کمپنیوں کو بجلی بنانے کے لیے کتنا فیول چاہیے ہوگا اور بجلی کا ٹیرف کیا ہوگا اور یہ کمپنیاں مشینری کہاں سے خریدیں گی۔ آئی پی پیز کا بزنس معمول کے مطابق چلتا رہا یہاں تک کہ تحریک انصاف کی حکومت آگئی اور اپریل 2019 میں نیب کو حکم دیا گیا کہ وہ سب سے پہلے میاں منشا کے پاور پلانٹ کی تحقیقات کرے جن کو کہ نواز شریف کا قریبی آدمی سمجھا جاتا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پاور پلانٹ کی پیداوار میں ہیر پھیر کیا گیا، تیل کی مقدار زیادہ بتائی گئی، کم تیل میں زیادہ بجلی بنا کر باقی تیل بیچ دیا گیا یعنی سارے آئی پی پیز حکومت سے سو فیصد تیل سے لے کر مہنگی بجلی بناتے رہے۔حکومت نے ان کے ساتھ منافع کی ادائیگی پاکستانی روپوں میں کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن بعد میں اس کو ڈالر میں بدل دیا گیا. ڈالر کی ڈالر کی قیمت 15 سالوں میں دگنی ہوگئی اور یوں آئی پی پیز نے ڈبل پیسے کمائے۔ آئی پی پیز پر ایک اور الزام یہ ہے کہ ان کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا کہ 15 فیصد منافع کمپنی کو دیا جائے گا لیکن یہ کمپنیز 40 سے 50 فیصد منافع حاصل کرتی رہیں۔یاد رہے کہ جب نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی جس کے تحت چین سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ اس گھن چکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی اور ملک ان آئی پی پیز کا بلاوجہ مقروض بھی ہوگیا۔
اس وقت پاکستان میں سی پیک کے تحت تقریباً نو ہزار میگا واٹ بجلی پید اکرنے کے 17 منصوبے لگائے گئے ہیں جن میں اینگرو تھر کول پاور پراجیکٹ، ہائیڈرو چائنہ داود ونڈ فارم ٹھٹھہ اور کروٹ پاور پراجیکٹس شامل ہیں۔ خیال رہے کہ اینگرو کمپنی مشیر تجارت رزاق داود کی ملکیت ہے۔ اربوں ڈالرز مالیت کے ان آئی پی پیزا منصوبوں میں چین کے ساتھ حکومتی لوگ پارٹنر ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتسان میں بھی سی پیک کے تحت پانچ منصوبے زیر غور ہیں۔ لحکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ بلاشبہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوں نے جو بھی مال سمیٹا ہے، اُس کی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی تھی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوں سے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان کی حکومت عالمی مصالحتی ادارے میں ریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے’ کے خلاف دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت می ںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ ان حالات میں اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرلے اور تیل کی اصل کھپت کو سامنے رکھ کر بجلی کے نرخ آئندہ کے لیے کم کروالے۔ اگر ایسا ہوسکے تو عوام کے لیے یہ بھی بڑا ریلیف ہوگا۔
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان سب تحفظات سے قطع نظر وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر قوم کو مایوس کیا ہے کیونکہ قومی مفاد کے نام پر انہوں نے آئی ی پیز کو بے نقاب کرنے کے وعدے پر بھی یو ٹرن لے لیا ہے جس کا فائدہ صرف چینی کمپنیوں اور حکومتی لوگوں کو ہوگا لیکن پاکستانی عوام ہمیشہ کی طرح خسارے میں ہی رہیں گے۔
