ڈالر گرنے کا باوجود نئی گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ کیوں؟

پاکستان میں کئی دہائیوں سے کام کرنے والی تین بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ پانچ نئی آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے بھی گاڑیاں متعارف کروا دی ہیں مگر مقابلے کی اس فضا کے باوجود گاڑیوں کی قیمت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کو وجہ بتاتے ہوئے نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن اب پاکستان میں ڈالر کی روپے کے مقابلے میں گرتہ ہوئی قدر کے باوجود پاکستان میں کام کرنے والی تینوں بڑی آٹو مینو فیکچر نگ کمپنیاں اپنی گاڑیوں کی قیمت کم کرنے کو تیار نہیں۔ اب بھی گاڑی کی بکنگ کے وقت شرط رکھی جاتی ہے کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے کی صورت میں زائد قیمت وصول کی جائے گی۔ تاہم ڈالر کا ریٹ کم ہو جائے تو گاڑی کی قیمت کم نہیں کی جاتی۔

چیئرمین پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سہیل بشیر رانا نے اس حوالے سے بتایا کہ ’جب ہم مقامی صنعت کی بات کرتے ہیں تو خام مال اور گاڑیوں کے پارٹس ڈالر کی بڑھتی قدر کے باعث مہنگے ہو گئے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے گذشتہ دو سال میں خاص طور پر کرونا لاک ڈاؤن کے بعد قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ سوزوکی کمپنی نے 2019 میں لانچ کی گئی نئی آلٹو گاڑی پر کیا جس میں 50 فیصد اضافے کے بعد یہی گاڑی نو لاکھ 90 ہزار روپے کی بجائے اب ساڑھے 14 لاکھ روپے میں مل رہی ہے۔ پاکستان میں اب تین کی بجائے آٹھ آٹو مینو فیکچرنگ کمپنیاں فعال ہیں مگر اس کے باوجود قیمتوں میں کمی اس لیے نہیں آرہی کہ بیچنے والوں کی یقین یے کہ خریدنے والے لوگ زیادہ پیسہ دینے کو تیار ہیں۔ لہٰذا قیمتیں کم کیوں ہوں؟ ویسے بھی جتنی زیادہ کار کی قیمت ہوگی، حکومت کو بھی اتنا زیادہ ٹیکس ملے گا اس لیے وہ بھی گاڑیوں کی قیمت بڑھنے سے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی۔

ان حالات میں حالیہ دنوں میں پاکستان میں بڑی گاڑیوں کی نسبت چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوا یے۔ مثلاً ٹویوٹا فورچونر 80-85 لاکھ سے 90-95 لاکھ تک گئی جو چھوٹی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ اضافہ نہیں۔ نئی گاڑیوں کی انوائس میں درج ہوتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھے گی تو خریدار کو رقم زیادہ دینا ہوگی مگر یہ ذکر نہیں ہوتا کہ ڈالر کی قدر کم ہوگی تو قیمت بھی کم ہوگی۔ اس بارے میں حکومت نے بھی کوئی قانون سازی نہیں کی اور نہ ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ کا کوئی منصوبہ نظر آتا ہے۔ لہٰذا کمپنیاں من مانی کرتی رہیں گی۔
سی ای او ٹاپ لائن موٹر سکیورٹیز محمد سہیل نے اس حوالے سے کہا کہ پہلے ایک تاثر تھا کہ تین بڑی کمپنیاں گٹھ جوڑ سے قیمتیں بڑھاتی ہیں۔ سہیل کے مطابق جب 50 لاکھ کی گاڑی کمپنی سے نکلتے ہی 55 لاکھ کی فروخت ہوتی ہے تو کمپنیاں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمتیں کیوں کم کریں؟ گاڑیاں تو بلیک میں بک رہی ہیں۔ ان کے خیال میں اس معاملے کا مستقل حل گاڑیوں کی مقامی مینو فیکچرنگ ہے کیونکہ بھارت میں ماروتی گاڑی جب کم قیمت پر لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہونا شروع ہوئی تو غیر ملکی کمپنیوں کو بھی اپنے ریٹ مناسب رکھنا پڑے۔ جبکہ یہاں ایسی صورتحال نہیں۔انہوں نے کہا کہ گاڑیوں قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب کسی ملک میں مہنگائی ہوتی ہے تو اس کا اثر ہر چیز کی قیمتوں پر پڑتا ہے، دوسری جانب جب حکومت نے امپورٹس پر شرائط سخت کیں تو اس کا اثر کار ساز کمپنیوں پر بھی پڑا۔

لیکن ٹویوٹا پاکستان کے سربراہ علی اصغر جمالی کا دعوی یے کہ انکی کمپنی نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جس کا مقصد صارفین کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ کا کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن جب ڈالر کا ریٹ بڑھا تھا تب بھی ہماری کمپنی نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا اور جو قیمت طے کی اسی پر گاڑیاں فراہم کیں۔
دوسری جانب وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹیکسٹائل اینڈ انڈسٹریز عالیہ حمزہ کا کہنا یے کہ حکومت گاڑیوں کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے حکومت نے تین بڑے مینوفیکچرنگ گروپس کی موناپلی توڑی ہے اور اب چھ نئی کمپنیاں بشمول کییا، ماسٹر، یونائیٹڈ، ہنڈائی، فوٹان اور ویگل جے ڈبلیو گاریوں کی مینو فیکچرنگ شروع کر چکے ہیں۔

تاہم حکومتی دعووں کے برعکس اگر گذشتہ ایک سال کے دوران گاڑیوں کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو اگست 2020 میں ہنڈا سٹی مینول کی قیمت 23 لاکھ 27 ہزار روپے تھی جو ایک لاکھ 40 ہزار اضافے کے ساتھ اب 24 لاکھ 67 ہزار روپے میں بک ہو رہی ہے۔ اسی طرح ہنڈا سوک مینول پچھلے سال اگست میں 36 لاکھ 49 ہزار کی تھی جو 98 ہزار اضافے کے ساتھ اب 37 لاکھ 47 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ سوزوکی کلٹس وی ایکس آر 17 لالھ 45 ہزار سے بڑھ کر 35 ہزار کے اضافہ سے 17 لاکھ 80 ہزار کی ہوگئی۔ سوزوکی ویگن آر 35 ہزار اضافے کے ساتھ 16 لاکھ پانچ ہزار سے 16لاکھ 40 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ ٹویوٹا آلٹس گذشتہ سال اگست میں 33 لاکھ نو ہزار سے 60 ہزار اضافے کے بعد 33 لاکھ 69 ہزار تک میں بک ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹویوٹا گرینڈے چند ماہ میں 36 لاکھ 79 ہزار سے تین لاکھ اضافے کے ساتھ 39 لاکھ 79 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button