ڈاکٹر فرقان بیماری چھپانے کی وجہ سے مارے گئے

کراچی میں کرونا وائرس سے متاثرہ ڈاکٹر فرقان الحق کے سماجی دباؤ اور بدنامی سے بچنے کیلئے گھر میں ہی آئسولیٹ ہونے اور بروقت ہسپتال ایڈمٹ نہ ہونے پرجان کی بازی ہارنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈاکٹر فرقان کی اپنی ڈاکٹر بھتیجی سے کی جانے والی ٹیلی فونک گفتگو میں وہ یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ دیکھو بیٹا یہاں ہسپتال کی گاڑی آئے گی تو سارا محلہ جمع ہوجائے گا ایک عذاب بن جائے گا، سب بچے رل جائیں گے۔ اس لئے میں نے گھر میں ہی آئسولیٹ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔لیکن بدنامی کے خوف سے بروقت اسپتال نہ جانے والے ڈاکٹر فرقان بالآخر موت کے منہ میں چلے گئے۔
ابھی تک ڈاکٹر فرقان کے اہلخانہ اور ساتھیوں کی طرف سے مسلسل یہ دعویٰ سامنے آ رہا تھا کہ ان کی موت بروقت وینٹی لیٹر نہ ملنے کے سبب ہوئی لیکن اپنی بیماری کے چند روز بعد ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں ڈاکٹر فرقان کی بھتیجی مسلسل ان کو ہسپتال داخل ہونے کی درخواست کر رہی ہے۔ ریکارڈنگ میں سنا جاسکتا ہے کہ ان کی بھتیجی ڈاکٹر فرقان کو کہہ رہی ہیں کہ آپ کی آواز اور سانس ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں لہذا آپ فوری ہسپتال آ جائیں۔ جس کے جواب میں ڈاکٹر فرقان یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ دیکھو بیٹا یہاں ہسپتال کی گاڑی آئے گی تو سارا محلہ جمع ہوجائے گا ایک عذاب بن جائے گا، ابھی تو ڈی ایچ اے کا فون آیا تھا۔ان سے تمام بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ آئسولیشن میں رہیں، ایک دو دن میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے بعد ڈاکٹر فرقان کی بھتیجی یہ بھی کہتی ہیں کہ مجھے آپ کا یہ فیصلہ اچھا نہیں لگ رہا کہ آپ محلے والوں کی وجہ سے نہیں جا رہے۔ جس پر وہ کہتے ہیں کہ بیٹا آپ کو نہیں معلوم کہ کتنا مسئلہ ہوتا ہے، سب بچے رل جائیں گے، سب کو اٹھالیں گے۔
تاہم گھر میں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر فرقان کی طبعیت بگڑ گئی جس کے بعد انھوں نے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا لیکن اس وقت تک کافی دیر ہو چکی تھی اور ان کی بیماری کی آخری سٹیج آچکی تھی۔
اپنی موت سے قبل ڈاکٹر فرقان کی اپنے ڈاکٹر ساتھیوں سے کی گئی گفتگوبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اپنی آڈیو کال میں ڈاکٹرفرقان ساتھی دوست ڈاکٹرعامر کو وینٹی لیٹر کا انتظام کرنے کا کہہ رہے ہیں اور اپنی طبیعت سے آگاہ کررہے ہیں۔ فون کال پر وہ اپنے دوست ڈاکٹر عامر کو بتارہے ہیں کہ وہ گھر پر قرنطینہ میں ہیں اور ایمبولینس انہیں وینٹی لیٹر کی دستیابی کی تصدیق سے قبل اسپتال لےجانے کو تیار نہیں۔ اس فون کال میں ڈاکٹر فرقان کی آواز میں نقاہت تھی اور وہ بار بار کھانسی کرکے اپنے دوست سے اپیل کررہے تھے کہ کچھ کرو۔ ڈاکٹر فرقان اپنے دوست سے زندگی کے آخری لمحات میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں گھر میں قرنطینہ میں ہی تھا لیکن اب طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ ایمبولینس والا بول رہا ہے پہلے انڈس ہسپتال سے معلوم کرلیں جگہ ہے یا نہیں۔ انڈس میں اپنے پرانے تعلقات کا استعمال کرو۔ جس پر ڈاکٹر فرقان کا دوست کہتا ہے کہ انڈس میں کوئی جگہ نہیں، میں کوشش کرتا ہوں جس پر ڈاکٹر فرقان کہتے ہیں کہ آغا خان میں ہی دیکھ لیں۔
تاہم انڈس ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری، ڈاکٹر فرقان کے علاج کیلئے وینٹی لیٹر نہ ہونے کے الزامات کو رد کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کو دو روز قبل ہی ہسپتال میں داخل ہونے اور وہیں مکمل ٹیسٹ اور علاج کروانے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فرقان سماجی دباؤ کی وجہ سے ہسپتال آنے سے کترا رہے تھے، انہیں یہ پریشانی بھی تھی کہ اگر وہ اور ان کی بیوی کرونا مریض کے طور پر ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی قرنطینہ کر دیا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالباری نے اس تاثر کی سراسر نفی کی کہ ڈاکٹر فرقان نے انڈس ہسپتال سے رابطہ کیا تھا اور وینٹیلیٹر نہ ہونے کی وجہ سے ان کا علاج نہیں ہوا کیونکہ کراچی کے ہسپتالوں میں 98 وینٹیلیٹرز کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے صرف 26 وینٹیلیٹرز پر مریض زیرِعلاج تھے۔ انہون نے کہا کہ ڈاکٹر فرقان نے بر وقت علاج کی پیشکش سے انکار کیا جس کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ ڈاکٹر فرقان کرونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جاں بحق ہو گئے تھے۔ ۔جبکہ کرونا سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر فرقان کی اہلیہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شوہر نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا، ڈاکٹر فرقان کی طبیعت بگڑ گئی تھی اور انہیں وینٹیلیٹر پر رکھنے کی ضرورت تھی مگر کسی ہسپتال میں وینٹیلیٹر میسر نہیں ہوا۔ ’پہلے انہیں لے کر ایس آئی یو ٹی گئے، انڈس ہسپتال سے بھی رابطہ کیا اور پھر ڈاؤ اوجھا کیمپس پہنچنے لیکن تب تک ان کی موت واقع ہو گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button