ڈاکٹر قدیر خان کی قید تنہائی کب ختم ہوگی؟

پچھلے پندرہ برس سے اپنے خاندان سمیت گھر میں نظر بند پاکستانی ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ انہیں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی مسلسل نظربندی و قید تنہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں پچھلے برس دائر کی جانے والی درخواست کی جلد از جلد سماعت کی استدعا کی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظربندی بندی کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کی آخری سماعت ایک سال پہلے 21 جولائی 2020 کو ہوئی تھی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قدیر خان کا کیس بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے اس لیے اسکی فوری سماعت کی جائے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے عدالت سے استدعا کر رکھی ہے کہ ان کو دوستوں اور رشتے داروں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اس سے پہلے جولائی 2020 میں سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مقدمے کی اگلی سماعت عید کے بعد ہوگی جبکہ اب 2021 کی عید الاضحیٰ بھی قریب ہے۔ گزشتہ سال سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے عدالتی احکامات پر درخواست گزار ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کی اور ان کی شکایات کو سنا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر قدیر کو دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات اور نقل و حرکت کی آزادی قانون کے مطابق دی جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹر خان کو انکے کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا. عبدالقدیر خان نے اپنی نقل و حرکت پر پابندیوں سے متعلق سپریم کورٹ کو تحریر کردہ خط میں کہا ہے کہ انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کو غیرقانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے الزام پر سابق پرویز مشرف کے دور میں چسرج شیٹ کرنے کے بعد اسلام آباد ہی میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔سابق فوجی صدر کی حکومت کے بعد ملک میں دو جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل کر چکی ہیں اور تیسری ہائیبرڈ حکومت کی برسر اقتدار ہے لیکن اس عرصے کے دوران بھی عبدالقدیر کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ عبدالقدیر خان نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی اور عدالت عالیہ سے استدعا کی تھی کہ اُنھیں آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دی جائے۔ لاہور ہائی کورٹ کو لکھے گئے خط میں اُنھوں نے ملکی سکیورٹی اداروں کے بارے میں بھی سوالات اُٹھائے تھے جنھوں نے بقول ان کے ان کی نقل و حرکت کو صرف ایک گھر تک محدود کر دیا تھا۔ اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ان احکامات کے ساتھ یہ درخواست نمٹا دی تھی کہ اس کی سماعت ان کے دائرہ کار میں نہیں لہٰذا درخواست گزار دادرسی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔
بعد ازاں ڈاکٹر قدیر نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کی رضامندی سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نقل و حرکت کو ریگولیٹ کیا۔ اُنھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں درخواست کیوں دائر کی گئی جس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست غیر معمولی حالات میں دائر کی گئی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے مذکورہ ایٹمی سائنس دان کے خط میں لکھے گئے الفاظ پر اعتراض اُٹھایا۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس خط کو قبول نہ کیا جائے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خط کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُنھیں خط کے متن پر اعتراض ہے تو وہ اس بارے میں درخواست دائر کرسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کو تنبیہ کی ہے کہ وہ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط سے کام لیں۔ تاہم اب ایک برس گزرنے کے بعد ڈاکٹر قدیر خان نے سپریم کورٹ کو دوبارہ سے یاد دہانی کروائی ہے کہ وہ اپنے کیس کا فیصلہ ہونے کے انتظار میں ہیں تا کہ انہیں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت مل سکے۔
