ڈاکٹر قدیر کو دھماکے کرنے والی ٹیم سے کیوں نکالا گیا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کو نیوکلیئر طاقت بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو مئی 1998 میں جوہری دھماکے کرنے والی پاکستانی سائنس دانوں کی ٹیم سے الگ کر دیا گیا تھا اور اس ٹیم کی قیادت ڈاکٹر مبارک ثمر مند کو دے گئی تھی۔ پاکستان یہ دھماکے انڈیا کی جانب سے چند ہفتے قبل کیے جانے والے جوہری دھماکوں کے جواب میں کرنے جارہا تھا۔ تب نواز شریف ملک کے وزیراعظم اور پرویز مشرف آرمی چیف تھے۔ 1999 کی فوجی بغاوت کے کچھ برس بعد مشرف نے قدیر خان پر جوہری ٹیکنالوجی کی سمگلنگ کے الزامات لگا کر انہیں تاحیات نظر بند کر دیا۔ ڈاکٹر قدیر اپنی نظر بندی ختم کروانے کے لیے سپریم کورٹ تک گئے لیکن 9 اکتوبر 2021 کو زندگی کی قید سے رہائی پانے تک انہیں اسٹیبلشمنٹ کی قید سے رہائی نہ مل پائی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار عمر فاروق بی بی سی کے لئے ایک تحریر میں بتاتے ہیں کہ جب ڈاکٹر قدیر خان کو ایٹمی دھماکے کرنے والی ٹیم سے اپنی علیحدگی کی خبر ملی تو انہوں نے دل کا غبار نکالنے کے لیے انہیں اپنے گھر بلا لیا۔ پاکستان کی طرف سے جوابی دھماکوں کی تیاریوں کا نگران اٹامک انرجی کمیشن اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو بنایا گیا تھا جن کی قومی میڈیا میں شہرت ڈاکٹر خان کے حریف کی تھی۔ ڈاکٹر قدیر نے پرسکون انداز میں عمر فاروق کو بتایا کہ ’ہمارے پاس بم پہلے ہی موجود ہے، عملی تجربہ کریں یا نہ کریں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہم تو 1990 کے وسط میں اپنے جوہری بم کے کمپیوٹر پر تجربات کر چکے ہیں۔ ہمارے بموں کے وائبریشن ٹیسٹ پہلے ہی ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ہمارے پاس بم موجود ہیں اور ہمارا دشمن یہ بات پہلے ہی جانتا ہے۔‘
عمر کے مطابق ملاقات کے بعد کے حصے میں ڈاکٹر قدیر خان تھوڑے جارحانہ نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نوازشریف اس خدشے کے پیش نظر پہلے ہی غوری میزائل نصب کرنے کا حکم دے چکے ہیں کہ ہمارا دشمن مہم جوئی کی کوشش کر سکتا ہے۔ میں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بارے میں بھی سنا ہے کہ فضائیہ ‘ہائی الرٹ’ ہے۔‘ عمر فاروق کے مطابق اس دن کے بعد سے مجھے کئی مرتبہ ڈاکٹر خان سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا لیکن اس شام کے ملاقات کے بعد پھر کبھی میں نے انھیں اداسی کی اس حالت میں نہ پایا۔ اسکی بنیادی وجہ مئی 1998 کے جوہری دھماکوں کے عملی تجربے کے موقع پر انہیں نیوکلیئر بٹن دبانے کا موقع فراہم نہ کیا جانا تھا جس کے لیے انہوں نے ساری زندگی وقف کر دی تھی۔
ڈاکٹر خان کا نام دراصل جوہری پروگرام کے ساتھ کچھ اس طرح منسلک ہو چکا تھا کہ پاکستانی ایٹم بم کا نام آتے ہی صرف ایک نام ذہن میں آتا تھا اور وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھا۔ اسی لیے جب انھیں دشمن ملک کے دھماکوں کے جواب میں جوہری تجربات کی تیاریوں کی ذمہ داری اپنے حریف ادارے کو سونپنے کی خبر ملی ہو گی تو ڈاکٹر خان نے ملک کی سلامتی کے انتظام و انصرام کے ذمہ داروں کے بے حس رویے کو شدت سے ضرور محسوس کیا ہو گا۔
ملک کی سلامتی کے نظام میں امور انجام دینے والے غالباً وہ واحد سویلین تھے جن کی قومی میڈیا میں ایک متحرک اور موثر لابی تھی۔ عامل صحافی ان کے جاں نثار حامیوں میں شامل تھے۔ ان حامیوں اور ساتھیوں کے علاوہ آرمی کے افسران کی بڑی تعداد، سیاسی کارکنان، دانشور اور میڈیا مینجرز کا بھی لامتناہی قافلہ ان کے لیے کلمہ خیر کہنے والوں پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ خاموشی سے ان کی حمایت میں الفاظ کے پھول بکھیرتے جاتے اور جب بھی جوہری ہتھیاروں کی بات یا بحث چھڑتی تو وہ ان کی پر زور وکالت کرتے۔
پرویز مشرف کی حکومت کو ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری صلاحیت کی منتقلی میں ڈاکٹر خان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی خبریں شائع کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔عمر فاروق کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے منتخب کردہ چند صحافیوں کے ایک گروپ کو بلایا اور انھیں ڈاکٹر خان کی غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔وہ کہتے ہیں کہ میں تب ایک نیوز چینل کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس بریفنگ کے بعد جب ہم باہر آئے تو میرے ڈائریکٹر نیوز کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کی جانب سے ڈاکٹر خان کی گرفتاری کی تصدیق کے بغیر ‘بریکنگ نیوز’ چلانے پر آمادہ نہیں تھے۔
یاد رہے کہ دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزام میں ڈاکٹر خان کو 31 جنوری 2004 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 4 فروری کو پاکستان ٹیلی ویڑن پر قدیر خان کو ایک لکھا ہوا بیان پڑھنے پر مجبور کیا گیا جس میں انھوں نے ان کارروائیوں کی تمام ذمہ داری قبول کی جبکہ فوج اور حکومت کو بری الزمہ قرار دے دیا گیا۔یہ وہ دعویٰ تھا جو بہت سارے جوہری ماہرین تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ اگلے دن پرویز مشرف نے انھیں ایوان صدر طلب کر کے معافی دے دی لیکن انھیں ان کی موت تک انکے گھر میں ہی نظربند رکھا گیا۔ انکی وفات سے چند ہفتے پہلے بھی سپریم کورٹ نے قدیر خان کی نظر بندی ختم کرنے کی درخواست پر سماعت کی تھی۔
پاکستانیوں کے لیے ڈاکٹر قدیر خان قومی عزت و وقار کی علامت تھے اور انھیں انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی قومی سلامتی مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کی وجہ سے ایک ہیرو کا درجہ دیا جاتا تھا تھا حالانکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ انہیں زیرو قرار دے چکی تھی۔ پاکستان میں اگر جوہری پروگرام کے ساتھ ڈاکٹر خان کا نام جڑا ہوا ہے تو مغربی ممالک میں ان کا نام ’جوہری پھیلاؤ‘ سے منسلک ہے۔ مغربی ماہرین کے الفاظ میں ڈاکٹر خان نے اپنی زندگی کا سفر ’جوہری پھیلاؤ کرنے والے کے طور پر شروع کیا اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا اختتام بھی ان کی جوہری پھیلاؤ کی سرگرمیوں پر ہی ہوا۔‘
