ڈاکٹر ماہا کیس: خودکشی سے قبل ماہا شاہ کے ساتھ زیادتی کا انکشاف

کراچی میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا شاہ کے ساتھ خودکشی سے قبل مبینہ طور پر زیادتی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ماہا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر پور خاص میں ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کی گئی تھی۔ میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر ماہا کا پوسٹ مارٹم کیا۔ خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہا کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ پوسٹ مارٹم میں ایک مرد ڈی این اے کا پتہ لگا۔2 ملزمان کا ڈی این اے حاصل کر لیا گیا ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے 7 مشتبہ ملزمان کا ڈی این اے حاصل کیا جائے گا۔ ملزم جنید کی جانب سے تاحال ڈی این اے کا سیمپل نہیں دیا گیا۔ ملزم کے ڈی این اے کرانے کے بعد حتمی چالان جمع کروانا ہو گا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کو جنید و دیگر کے ڈی این اے سیمپل کےلیے خط لکھیں گے۔ ملزمان کے خلاف مقدمے میں زیادتی کے سیکشن رپورٹ کے بعد شامل ہوں گے۔ڈاکٹر ماہا کے جسم سے ملنے والے نمونے جامشورو لیبارٹری میں ہیں۔ملزمان کے ڈی این ٹیسٹ جامشورو لیبارٹی میں کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر ماہا کی موت کو خودکشی قرار دیا جا چکا تھا۔ تاہم ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے بعد خدشات نے جنم لیا تھا کہ گولی بائیں جانب سے لگ کر دائیں جانب سے نکلی ہے، جس کے بعد واقعے کو قتل قرار دیا جا رہا تھا۔ ڈاکٹر ماہا کے والد نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کی بیٹی کی قبرکشائی کی اجازت دی جائے اس کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے ، عدالت کے حکم کے بعد 15 اکتوبر کو ڈاکٹر ماہا شاہ کی قبر کشائی کی گئی تھی اور جامشورو میڈیکل یونیورسٹی بورڈ نے ٹیسٹ کیا تھا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہا علی نامی خاتون نے کراچی کے علاقے ڈیفینس میں خود کو گولی مار خودکشی کرلی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہا علی نےخود کو واش روم میں بند کرکے گولی ماری۔ ڈاکٹر ماہا کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا لیکن وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔ خاتون کو علاج کے دوران وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا تاہم وہ جان کی بازی ہار گئیں۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کی عمر 25 سال تھی اور ساؤتھ سٹی اسپتال میں جاب کر رہی تھیں۔ڈاکٹر ماہا خودکشی کی کوشش سے قبل ہی اسپتال سے واپس آئی تھی۔
