ڈرامہ ’’منت مراد‘‘ پیار، محبت کرنیوالوں کیلئے سبق کیوں ہے؟

ڈرامہ سیریل ’’منت مراد‘‘ کو محبت کا بھیانک چہرہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، ڈرامہ کی کہانی ہر طرح کی محبت بہت لاڈ پیار سے وبال جان بنی ہوئی ہے، دکھایا بھی یہی گیا ہے جسے آپ لاڈ، پیار، تحفظ اور مان کہہ رہے ہیں، یہ زندگی کے راستے کی رکاوٹیں ہیں، انسان کا سانس روک دیتی ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر کسی غلط اور جذباتی فیصلے تک لے جاتی ہیں۔ایک بڑے خاندانی نظام کی کہانی چل رہی ہے، چار پانچ بہن بھائیوں کے گھرانے ہیں۔ ڈرامے میں زندگی والا ہلکا پھلکا اور بھاری پن سب موجود ہے۔کہانی کسی ایک پہلو کو ہی نہیں گھسیٹ رہی بلکہ زندگی کے سارے سیاہ اور سفید رنگ اس میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ہیروئین منت چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے اور دوسری طرف مراد چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے،  دونوں ظاہر ہے منت مرادوں والی اولادیں ہیں۔ منت کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ مراد کے ابا وفات پا چکے ہیں۔ دونوں میں تہذیبی اعتبار سے زمین اور آسمان کا فرق ہے۔دونوں ہی اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کی محرومیاں ہی کسی حد تک محبت نامی کشش سے کہانی کو شادی تک لے کر جا رہی ہیں لیکن اس جائز حق کو دونوں ہی جھوٹ کے سہارے پانے پر مجبور ہیں۔ جن رشتوں کی بنیاد میں ہی مسائل ہوں گے، وہ کانٹے ہی پیدا کریں گے۔مراد کا خاندان پنجاب کا ایک زمیندار خاندان ہے اور کراچی جا بسا ہے جبکہ منت کا خاندان خسرو کی بچی کچی تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں طرف روایت ہر حال میں زندہ دکھائی دے رہی ہے۔ بہت گھٹن زدہ ماحول نہیں ہے مگر جینے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی آزادی بھی نہیں ہے۔مراد کی ماں رضیہ سلطانہ اپنے اکلوتے بیٹے کے حوالے سے ہر وقت شک میں مبتلا رہتی ہیں۔ بیٹا تو چوں بھی نہیں کر سکتا، پرفیوم تک بھی نہیں لگا سکتا، ایسے حالات میں بیٹیوں کی کیا مجال کہ کوئی فیصلہ لے سکیں مگر ایک بیٹی عطرت بغاوت کر لیتی ہے اور اپنی پسند سےکورٹ میرج کر لیتی ہے، اس کا شوہر فیصل اچھا انتخاب ثابت ہوتا ہے۔بڑی بہن کو مراد کی ماں اپنے بھتیجے شوکت سے بیاہ دیتی ہے، جو جوا کھیلتا ہے اور بھائی مراد ہی بہن کا گھر چلانے پر مجبور ہے۔ یہاں پسند کی شادی اور والدین کی پسند کی شادی دونوں کے نتائج اگرچہ دکھائی دے رہے ہیں مگر رضیہ سلطانہ کی انا اپنی غلطی کو جواز دے ہی دیتی ہے، ایک بہن فضیلت امی جان کی ضد کی نذر ہو کر اور شادی کے ہندسے سے باہر نکل کر ڈپریشن کا شکا ر ہو چکی ہے جبکہ ایک ابھی چھوٹی ہے۔ایسی صورت میں اکلوتا کماؤ بیٹا، جس پر ماں نے ساری شعوری اور غیر شعوری نگاہیں لگا رکھی ہیں، اس کی شادی صرف اس لیے کرنا چاہتی ہیں کہ کہیں وہ اپنی پسند سے شادی نہ کر لے مگر شادی تو وہ ماں کو جذباتی دھوکا دے کر اپنی پسند سے ہی کرنے جا رہا ہے۔منت کا مراد پر دل آجانا کسی حد تک اس کے بھائی کی محبت میں کی گئی سختی کا ردعمل ہے کہ مراد اسے ایک آزاد اور خوشگوار ماحول کا خواب دیتا ہے، لیکن خواب تو خواب ہی ہوتا ہے اور بزدل مرد خواب ہی دے سکتا ہے تاکہ لڑکی حاصل کر لے۔ بہادر مرد خواب نہیں دیتا۔اب مراد جیسا مرد اپنی تمام تر ٹھرک کا استعمال یہیں کردیتا ہے کیونکہ ماں کی جابر طبیعت کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی، ارسہ غزل کو رضیہ سلطانہ کے کردار میں مقبولیت تو بہت ملی ہے۔ڈائریکٹر سید وجاہت حسین ہیں اور یہ ڈرامہ جیو ٹی وی سے نشر ہو رہا ہے، مصنفہ نادیہ اختر نے بتایا کہ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں کوئی غیر متوقع ٹوئسٹ نہیں ملے گا، کہانی چھوٹی چھوٹی صورت حال اور واقعات میں چلے گی۔رضیہ سلطانہ کا کردار ایک جیتا جاگتا کردار ہے، یہ صرف ماں کی صورت میں نہیں ہوتا، کئی گھرانوں میں ایسے باپ اور ایسے بڑے بہن بھائی بھی ملیں گے جو اپنی غیر ضروری توقعات سے اپنے بچوں اور بہن بھائیوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں، مراد کا کردار بھی ہر گھر میں ملے گا، بیٹے کی توجہ و پیار کو شیئر کرنا ایک پڑھی لکھی عورت کے لیے بھی مشکل ہے، ماں اور بیوی کو یکساں خوش رکھنا کسی ہیرو کے لیے ممکن نہیں ہے، یہ ایک ایسا ہی کردار ہے۔

Back to top button