ڈرامے باز علامہ مدنی نے تشدد کرنے والوں سے صلح کر لی

نام نہاد عالم دین علامہ ناصر مدنی کے مبینہ اغوا اور تشدد کے ڈرامے کا اس وقت ڈراپ سین ہوگیا جب انہوں نے خود پر تشدد کرنے والی انگلینڈ پلٹ فیملی سے صلح کر لی۔ یاد رہے کہ علامہ ناصر مدنی کو مبینہ طور پر ایک عزت کو بے آبرو کرنے کی کوشش پر اس کے گھر والوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ مدنی کے مطابق مجھ پر تشدد کرنے والوں نے میرے گھر آکر مجھ سے معافی مانگ لی اور میں نے انہیں یہ کہہ کر معاف کر دیا کہ ’جا میرے چن تینوں معاف کیتا‘۔
ذرائع کے مطابق علامہ ناصر مدنی کے ساتھ کی جانے والی صلح کی شرائط میں طے پایا ہے کہ ملزم پارٹی تمام مالی لین دین کو معاف کرتے ہوئے اپنے تمام الزامات واپس لے لے گی اور اس حوالے سے میڈیا سے قطعاً گفتگو نہیں کرے گی جس کے عوض علامہ مدنی بھی اپنے مقدمات واپس لے لیں گے۔ ملزم پارٹی نے علامہ ناصر مدنی کی شرائط کو مانتے ہوئے صلح کر لی کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان میں سچ کا ساتھ کوئی نہیں دیتا بلکہ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی مزاحیہ تقریروں کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے نام نہاد عالم دین علامہ ناصر مدنی کو دم کے بہانے ایک خاتون کو ریپ کرنے کی کوشش پر اس کے بھائی نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا. اس سے پہلے علامہ نے ایک پریس کانفرنس میں یہ دعوی کیا تھا کہ ان کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ خود اس شخص کے گھر گئے تھے جس نے بعد میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
ناصر مدنی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے مرکزی ملزم رضوان خان نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ناصر مدنی ایک جھوٹا مسخرہ ہے جس کو کسی نے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ لیپ ٹاپ اور پیسے لینے خود ان کے گھر کھاریاں آیا تھا جہاں اس نے میری بہن کو دم کرنے کے بہانے سے ریپ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد میں غصے میں آگیا اور اس کی درگت بنا ڈالی۔علامہ ناصر مدنی کے اغوا اور تشدد کے الزام میں نامزد مرکزی ملزم نے مزید کہا کہ ناصر مدنی کی بے شرمی اور بے حیائی کی وجہ سے ان کا داڑھی والے مولوی حضرات سے اعتماد ختم ہو گیا ہے، اب مجھے یقین ہو گیا یے کہ سارے مولوی جھوٹے ہوتے ہیں۔
رضوان کے مطابق ناصر مدنی نے میرے گھر والوں کو بتایا کہ میری بہن پرغیر مرئی قوتوں کا سایہ ہے اور اس کیلئے خصوصی عمل کرنا پڑے گا۔ اس نے میری بہن کے علاوہ تمام گھر والوں یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکال دیا کہ روحانی فسادی طاقتیں آپ کو بھی تنگ کر سکتی ہیں اس لئے آپ کمرے سے باہر چلے جائیں تاکہ روحانی عمل میں کسی طرح کا خلل نہ آئے۔ رضوان کے مطابق مدنی نے گھر والوں کو کہا کہ شیطانی طاقتوں کو بھگانے کیلئے کئے جانے والے عمل کے دوران خاتون چیخے چلائے گی لیکن آپ نے کمرے میں داخل نہیں ہونا اس طرح روحانی عمل متاثر ہو سکتا ہے جس سے خاتون کی طبیعت بھی بگڑ سکتی ہے۔ تاہم گھر والوں کے باہر جاتے ہی اس نے خاتون کے ساتھ روحانی عمل کی بجائے شیطانی عمل شروع کر دیا۔
ناصر مدنی انگلینڈ پلٹ خاتون ٹیچر کے بارہا منع کرنے پر بھی باز نہ آئے اور اپنے کپڑے اتار کر ننگے ہوگئے جس پر خاتون نے حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر زور زور سے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ خاتون کی چیخ و پکار سن کر اس کا بھائی رضوان خان اپنی والدہ کے ساتھ کمرے کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا تو ناصر مدنی کو شیطانی روپ میں دیکھ کر آگ بھگولا ہو گیا اور اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ شعبدہ بازعلامہ ناصر مدنی نے وہاں سے جان بچا کر نکلنے کے بعد نہایت مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور واپس پہنچتے ہی اپنے تمام شیطانی عمل کو چھپانے کیلئے واقعہ کو مذہبی رنگ دیتے دیا تھا.
پولیس نے بھی ناصر مدنی کے ڈرامے بازی کو مانتے ہوئے متاثرہ فیملی کے افراد کو ہی حراست میں لے لیا جبکہ فیملی کی طرف سے اندراج مقدمہ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ وہ ناصر مدنی کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ چنانچہ پولیس کی طرف سے مسلسل ہراسگی کے بعد انگلینڈ پلٹ فیملی نے مسخرے مولوی ناصر مدنی کے خلاف ریپ کرنے کی کوشش کے الزام میں کارروائی کرنے کی بجائے اس سے معافی مانگ کر جان چھڑانے میں ہی عافیت جانی۔
