ڈسکہ الیکشن PMLN اور PTI کے لیے ناک کا مسئلہ کیوں بن گیا؟

ڈسکہ میں آج ہونے والے ضمنی الیکشن میں جیت کو پنجاب کی دونوں بڑی جماعتوں تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے ذندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا ہے، دونوں ہی اسے محض قومی اسمبلی کی ایک نشست کے الیکشن کے طور پر نہیں دیکھ رہیں بلکہ اپنی اپنی ناک۔کا۔مسئلہ بنا چکی ہیں اور ہر صورت اس الیکشن کو جیتنا ضروری سمجھتی ہیں۔

یاد رہے کہ سیالکوٹ کے شہر ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 کے لیے رواں برس فروری میں ضمنی الیکشن معمول کے مطابق ہونے تھے تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ عین الیکشن کے روز پر تشدد واقعات میں دو افراد جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے، جس کے نتیجے میں متعدد پولنگ سٹیشنز پر پولنگ کارروائی معطل کرنی پڑی۔ لیکن بات ادھر ہی نہ رکی۔ کئی پولنگ سٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران ووٹوں کے تھیلوں سمیت فرار ہوتے پکڑے گئے، دو درجن کے قریب افسران تو گھنٹوں گہری دھند میں غائب رہے اور نتیجہ الیکشن کمیشن کو جمع نہ کروا سکے۔ زیادہ تر دیہاتوں پر مشتمل اس حلقے میں حکمراں جماعت تحریکِ انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور مسلم لیگ ن کی امیداوار نوشین افتخار کے درمیان ہی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا تھا۔ چنانچہ اس مرتبہ بھی تمام تر نظریں انہی دو جماعتوں پر ہوں گی۔

بدانتظامی اور پر تشدد واقعات کی تحقیقات کے بعد الیکشن کمیشن نے فروری کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے سرے سے پہلے مارچ اور پھر دیر کرتے ہوئے اپریل کی 10 تاریخ کو دوبارہ ڈسکہ کے اس پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا اعلان کیا تھا.
اس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ صرف منتخب پولنگ سٹیشنز پر ہی دوبارہ پولنگ ہونی چاہیے، تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اب جبکہ ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے، تو ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ وسطی پنجاب کا یہ چھوٹا سا حلقہ آخر اس قدر اہمیت کیوں حاصل کر گیا ہے اور ایک مرتبہ پھر ڈسکہ کے ضمنی الیکشن توجہ کا مرکز کیوں ہوں گے؟ اس کی ایک وجہ بظاہر یہی نظر آتی ہے کہ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) دونوں ہی اسے محض قومی اسمبلی کی ایک نشست کے طور پر نہیں دیکھ رہیں بلکہ اپنے انفرادی بیانیے کو تقویت دینے کے لیے ہر صورت اس انتخاب کو جیتنا ضروری سمجھتی ہیں۔

تاہم انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخاب میں ایک سے زیادہ عوامل کارفرما ہیں جس کی وجہ سے ڈسکہ کے عوام نے فروری کے ضمنی الیکشن میں پر تشدد کارروائیاں بھی دیکھیں اور دو افراد جان سے بھی گئے۔ احمد بلال محبوب الیکشن اور پارلیمانی عمل پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر تین عوامل ایسے ہیں جنھوں نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ان میں سرِ فہرست دونوں جماعتوں کا سیاسی وقار داؤ پر ہونے کا تاثر ہے جبکہ دونوں جماعتوں کے امیدواران کی ذاتی شخصیات اور دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلے کی سختی از خود وہ پہلو ہیں جن کی وجہ سے اس حلقے میں ایسے واقعات رونما ہوئے جو ملک بھر کی توجہ حاصل کر گئے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق ’ایک تو یہ علاقہ وسطی پنجاب میں جی ٹی روڈ کا وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ ن لیگ کا گڑھ ہے۔ اس لیے ن لیگ کے لے یہاں سے جیتنا عزت بے عزتی کا معاملہ ہے۔‘ ان کے خیال میں اسی لیے حکمراں جماعت تحریکِ انصاف یہاں سے انتخاب جیتنا چاہتی ہے تاکہ وہ یہ بتا سکیں کہ ’ہم نے ن لیگ کو اس کے گڑھ میں شکست دی ہے اور یہ دکھا سکیں کہ ان کے بیانیے کے مطابق ن لیگ کی سیاست خود پنجاب میں ختم ہو رہی ہے۔ قدرتی طور پر ن لیگ ایسا ہونے سے روکنا چاہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتیں یہ نشست جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ ن لیگ کی مرکزی قیادت ڈسکہ میں موجود ہے اور دونوں جماعتیں بھرپور طریقے سے انتخابی مہمات چلا رہی ہیں۔‘

ن لیگ کے لیے یہ انتخابی معرکہ اتنا اہم کیوں ہے اس کا اندازہ یون لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ تینوں عام انتخابات میں یہاں سے نون لیگی امیدوار ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سیٹ لیگی ممبر قومی اسمبلی سید افتخار الحسن کی گذشتہ برس وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔ ن لیگ نے ضمنی الیکشن کے لیے ان کی بیٹی نوشین افتخار کو ٹکٹ دیا ہے۔ افتخار الحسن گذشتہ دو انتخابات میں کامیاب رہے تھے جبکہ 2008 میں ان کے داماد اور نوشین افتخار کے خاوند یہاں سے کامیاب ہوئے تھے۔

البتہ 2002 میں پی ٹی آئی کے موجودہ امیدوار علی اسجد ملہی جو اس وقت مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے، یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئے تھے، تاہم اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ افتخار الحسن کی ڈگری پر اعتراضات اٹھا دیے گئے تھے۔ احمد بلال محبوب کے مطابق ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کے کانٹے دار ہونے اور اہمیت حاصل کرنے کی ایک وجہ امیدواران کی انفرادی شخصیات بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے امیدوار کافی متحرک بلکہ جارحانہ قسم کے متحرک امیدوار ہیں۔ اس مرتبہ کیونکہ ان کی جماعت حکومت میں بھی ہے اور گذشتہ انتخابات میں جو ان کے مخالف امیدوار تھے وہ اس مرتبہ ان کے ساتھ ہیں تو ایسے میں انھیں لگتا ہے کہ انھیں یہ نشست جیتنی چاہیے۔ دوسری جانب ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کے لیے بھی یہ انتخاب جیتنا اپنے خاندان کے سیاسی وقار کا معاملہ ہے۔ ان کا خاندان پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کا یہ حلقہ اپنے نام کر چکا ہے۔ تاہم وہ پہلی مرتبہ الیکشن سیاست میں حصہ لے رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس حلقے میں انتخابی عمل میں حالیہ کشیدگی ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں اور پھر شخصی حیثیت میں دونوں امیدواروں میں مقابلہ انتہائی سخت ہے۔
انکا کہنا یے کہ جب مقابلہ اس قدر سخت نوعیت کا ہو جہاں دونوں امیدوار حاصل کیے جانے والے ووٹوں کے اعتبار سے زیادہ پیچھے نہ ہوں تو وہاں اس قسم کی صورتحال پیدا ہونا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ دھاندلی کے واضح شواہد کے باوجود کچھ نہیں ہوا‘
اس مرتبہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی عمل کے حوالے سے جامع ہدایات جاری کر رکھی ہیں اور حکومتِ پنجاب کو مناسب وقت بھی دیا گیا تھا کہ وہ انتظامی ڈھانچہ ترتیب دے سکیں جس میں پولیس اور انتظامیہ کے افسران کی نئے سرے سے تعیناتی شامل تھی۔
تاہم ایک طرح سے پی ٹی آئی کالعدم قرار دے دیے جانے والے انتخابات میں بھاری نظر آئی کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر بدانتظامی، مداخلت اور دھاندلی کے واضح شواہد سامنے آنے کے بعد بھی کوئی بڑا ایکشن نہیں ہوا اور اس معاملے پر خاموشی رہی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ن لیگ ایکشن چاہتی ضرور ہوگی تاہم وہ مؤثر طریقے سے اس معاملے کو سامنے نہیں لا سکی ورنہ یہ آئندہ الیکشن کے لیے بھی ایک سبق ثابت ہونا چاہیے تھا۔

ن لیگ کی امیدوار نے 10 اپریل کے ضمنی انتخاب سے ایک دن قبل بھی الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں ممکنہ دھاندلی کے حوالے سے چند خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ ڈسکہ کی سڑکوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کیے جا رہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک خط میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’ان کے مخالفین مبینہ طور پر بوگس ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن سے ان کو روکا جائے۔ لہٰذا ان حالات میں جب 10 اپریل کو ایک مرتبہ پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کا میدان سجے گا تو ایک مرتبہ پھر تمام تر توجہ اس حلقے پر ہو گی اور بلاشبہ یہاں مقابلہ کسی بھی دوسرے پہلو سے زیادہ سیاسی وابستگیوں کا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button