ڈسکہ ری پولنگ کیس: لڑائی بڑوں کی ہے اور بھگت عوام رہے ہیں

این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ لڑائی بڑوں کی ہے اور بھگت عوام رہے ہیں۔
سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل نے دلائل دیے کہ ڈسکہ ضمنی الیکشن میں ٹرن آوٹ 46 فیصد جب کہ عام انتخابات میں 42 فیصد رہا، الیکشن کمیشن کو فیصلہ دینے سے قبل پنجاب انتظامیہ کو آگاہ کرنا چاہیے تھا، الیکشن کمیشن نے سارے معاملہ کو انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا، چند پولنگ اسٹیشن پر تصادم ہو تو پورے حلقہ میں دوبارہ پولنگ کیسے ہوسکتی ہے؟۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ حلقہ میں جو غیر قانونی اقدامات ہوئے ان کی بنیاد پر ضمنی الیکشن کو کالعدم قرار دیا گیا، دیکھنا یہ ہے کہ ایسا کیا مواد ہے جس سے پورے حلقہ میں دوبارہ انتخاب ہو۔ لیگی امیدوارکے وکیل نے دلائل دیے کہ ضمنی الیکشن میں سوچی سمجھی سازش کے تحت سب کچھ کیا گیا، انتظامیہ نے شفاف انتخابات کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ آپ نے جو کہنا ہے تحریری طور پر دیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے اہم شواہد پر انحصار کیا، پریزائیڈنگ آفیسر کے لاپتہ ہونے کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں، پنجاب حکومت پر سازش کرنے کا الزام عائد نہیں کی جاسکتا۔ الیکشن کمیشن نے 23 اور 25 فروری کی عوامی سماعت کی تفصیلات جمع کرائیں اور بتایا کہ حلقے میں انتخاب کےلیے 1 کروڑ 91 لاکھ 78 ہزار کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ کیس کی سماعت کل دوبارہ ہوگی۔
