ڈسکہ میں PTI کو نہیں بلکہ دھند اور دہشت کو شکست ہوئی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے ڈسکہ شہر کے ضمنی الیکشن میں حکمران تحریک انصاف کی شکست کو دھند اور دہشت کی شکست قرار دیا یے کیوں کہ الیکشن والے دن ڈسکہ میں ریاستی قانون کا مقابلہ ریاستی دہشت سے تھا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں حامد میر کہتے ہیں کہ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن 10اپریل 2021ءکو ڈسکہ والوں نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ اس دن قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75میں ایک ایسا ضمنی الیکشن ہوا جس پر پورے پاکستان کے عوام کی نظریں مرکوز تھیں۔ 10 اپریل کے روز حکمران تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کے مد مقابل تھیں لیکن حقیقت میں یہاں ریاست کے قانون کا ریاست کی دہشت سے مقابلہ تھا۔
19فروری کو یہاں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سید افتخار الحسن شاہ کی وفات کے باعث ضمنی الیکشن ہوا تھا لیکن اس دن ریاست کے قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ قانون کو تار تار کرنے کی گواہی خود الیکشن کمیشن نے دی کیوں کہ پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس نے حکمران جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی کا کھلم کھلا ساتھ دیا۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ 19فروری کے دن ڈسکہ کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر تمام دن فائرنگ کی گئی تاکہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹر خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیں اور ریاستی مشینری آسانی سے اپنے امیدوار کو جتوا سکے۔ فائرنگ سے کام نہ بنا تو پھر رات میں گہری دھند سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ بیس سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کے پریذائیڈنگ افسروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرکے انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے اور حکمران جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی نے خود ہی اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا، لیکن الیکشن کمیشن نے نتیجہ روک لیا اور یہ تحقیق کی کہ بیس سے زائد پریذائیڈنگ افسران تمام رات کہاں غائب رہے؟
الیکشن کمیشن کو پتہ چل گیا کہ ان پریذائیڈنگ افسران نے نتائج تبدیل کئے تھے لہٰذا این اے 75میں دوبارہ ضمنی الیکشن کا اعلان کردیا گیا۔ حکمران جماعت نے ایک طرف الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے خلاف ایک تقریر کر دی۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک وزیراعظم نے الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگایا۔ سپریم کورٹ میں حکومتِ وقت نے الیکشن کمیشن کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن آخر کار حکومت وقت ہار گئی اور سپریم کورٹ نے این اے 75میں ضمنی الیکشن کرانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اگر 10 اپریل کو این اے 75 میں حکمران جماعت کے علی اسجد ملہی جیت جاتے تو الیکشن کمیشن کی پوزیشن مشکوک ہو سکتی تھی لیکن صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ کی بیٹی نوشین افتخار نے ملہی کو ہرا دیا۔ یہ صرف نوشین کی فتح نہیں تھی بلکہ الیکشن کمیشن بھی سرخرو ہو گیا اور ریاستی دہشت کے مقابلے پر ریاست کا قانون جیت گیا۔ 10اپریل کو ڈسکہ میں دھند نہیں تھی لیکن اقتدار کے نشے میں مست کچھ طاقتور لوگوں کے ذہنوں پر بدستور دھند چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر اسلحے کی نمائش کے ذریعہ اپنی دہشت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ حامد میر کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ 19فروری کو ہونے والی ریاستی دہشت گردی کے باعث ڈسکہ میں خوف و ہراس کی فضا قائم تھی اور 10 اپریل کو بہت سے لوگ اسی خوف کے باعث ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نہیں نکلے۔ لیکن جو لوگ گھروں سے نکلے انہوں نے دھند اور دہشت دونوں کو شکست دی۔ دھند اور دہشت کو شکست دینے پر ڈسکہ کے بہادر لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ڈسکہ ایک تاریخی شہر ہے۔ جو گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے درمیان واقع ہے۔ عوامی روایت کے مطابق گوجرانوالہ، سیالکوٹ، پسرور، وزیر آباد اور ایمن آباد سے ڈسکہ کا فاصلہ دس دس کوس بنتا ہے اس لئے اسے ’’دس کوہا‘‘ قرار دیا گیا جو بعد میں ’’ڈسکہ‘‘ بن گیا۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ڈسکہ کی نشست تو پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے پاس تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے ضمنی الیکشن جیت کر اپنی نشست کو برقرار رکھا ہے تو کوئی کمال نہیں کیا۔
لیکن حامد میر کہتے ہیں کہ حکومتی ترجمان کچھ بھی کہیں، عام لوگ جانتے ہیں کہ ڈسکہ میں اصل مقابلہ نوشین افتخار اور علی اسجد ملہی کا نہیں بلکہ نواز شریف اور عمران خان کا تھا۔ عمران مرکز اور پنجاب میں حکمران ہونے کے باوجود ہار گئے اور نواز شریف جلاوطن ہونے کے باوجود جیت گئے۔ 2018 کے الیکشن میں نواز شریف کے امیدوار صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ نے ایک لاکھ اٹھارہ ہزار اور علی اسجد ملہی نے 61ہزار ووٹ لئے تھے۔
اس الیکشن میں اس حلقے سے ایک آزاد امیدوار عثمان خالد نے 57 ہزار ووٹ لئے تھے۔ اس مرتبہ یہ آزاد امیدوار اور ان کے والد بابا جی خالد محمود مکی مدنی بھی علی اسجد ملہی کی حمایت کر رہے تھے لیکن یہ حمایت بھی کسی کام نہ آئی اور ڈسکہ کے دیوانوں نے اس نواز شریف کے بیانیے کو ووٹ دیا جسے کچھ محبِ وطن لوگ آج کل غدار کہا کرتے ہیں۔
حامد میر کا کہنا یے کہ این اے 75میں مسلم لیگ(ن) کی کامیابی کا ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بھی اثر پڑے گا۔
ایک طرف تو مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کا کراچی کے حلقہ این اے 249 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل کو فائدہ ہوگا دوسری طرف تحریک انصاف کے اندر جہانگیر ترین گروپ کا حوصلہ بھی بلند ہوگا۔ جہانگیر ترین فی الحال عمران خان سے براہِ راست محاذ آرائی کی بجائے مفاہمت کا راستہ تلاش کر رہے ہیں لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کی وجہ نہ تو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں اور نہ ہی شہزاد اکبر ہیں، یہ کارروائی براہِ راست وزیراعظم کے حکم پر ہو رہی ہے کیونکہ پی ڈی ایم کے اختلافات میں عمرانخان اپنی نئی طاقت تلاش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کا احتساب کرکے اس ساکھ کو بحال کرنا چاہتے ہیں جو کہ بری طرح گر چکی ہے۔ لیکن حامد میر کے مطابق ترین کے معاملے پر عمران خان کے لئے یوٹرن لینا مشکل ہے اور اگر ترین کو عبرت کی مثال بنانے کی کوشش کی گئی تو اسکے بعد اپوزیشن کے خلاف ایک بڑا آپریشن ہوگا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسے ایکشنز سے عمران خان جولائی 2021 میں آزاد کشمیر میں الیکشن جیتنے کے لئے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت بحال کعنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ چل چکا ہے کہ دھند اور دہشت ہمیشہ کام نہیں آتیں۔
