ڈونلڈ ٹرمپ نے بِٹ کوائن کو ’ڈرامہ ‘ قراردے دیا

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بِٹ کوائن کو ڈالر کے خلاف دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بٹ کوائن ایسا ’فراڈ‘ ہےجو امریکی ڈالر کی قدر کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈالر کو دنیا کی کرنسی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور مجھے پسند نہیں ہے کہ کوئی دوسری کرنسی امریکی ڈالرکا مقابلہ کرے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایلسلواڈور کی جانب سے کرپٹو کرنسی کی لین دین کو قانونی قرار دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کے بہت سارے عوامل ہیں جیسے کہ چین میں کرپٹوکرنسی کی مائننگ کے خلاف ہونے والا کریک ڈاؤن، جس میں چین نے بینکس اور رقوم کا لین دین کرنے والی کمپنیوں پرکرپٹوکرنسی کی ٹرانزیکشنز سے متعلق خدمات دینے پر پابندی عائد کردی تھی۔
اسی طرح برقی کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کی جانب سے ٹیسلا کی خریداری کے لیے بٹ کوائن وصول نہ کرنے کے اعلان نے نہ صرف ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں کمی کی بلکہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی کمی ہونا شروع ہوگئی تھی۔
بٹ کوائن کرنسی نہیں ہے!
فاریکس، کموڈیٹیزاور حصص کی ٹریڈنگ کرنے والی گلوبل کمپنی مارکیٹ ڈاٹ کام کے چیف مارکیٹ اینالسٹ نیل ولسن سمجھتے ہیں کہ بٹ کوائن یقیناً ایک کرنسی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرنسی کی تعریف پر پورا اترنے کے لیے درج ذیل افعال کا ہونا ضروری ہے۔
اکاؤنٹ کا یونٹ ہونا
بہترین اسٹور ویلیو فراہم کرتی ہو
ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتی ہو
اور اسی بنا پر میں بٹ کوائن کو کرنسی کے بجائے حصص اور بانڈ جیسی سیکورٹی کا ہی نام دوں گا۔ نیل ولسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ بٹ کوائن کو بڑے پیمانے پر قبول کیا جاتا ہے تاہم ایک کرنسی کے لحاظ سے یہ ابھی بہت غیر مستحکم ہے، اور اس کی قدر ایک حصص کی طرح گھومتی رہتی ہے۔
یاد رہے کٰہ بٹ کوائن کو سنہ 2009 میں ساتوشی ناکاموتو نے دنیا میں متعارف کروایا تھا اور آج عالم یہ ہے کہ سات سو سے زیادہ ورچوئل کرنسیاں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور ہر دن نئی کمپنیاں اپنی نئی کرنسی پیش کر رہی ہیں۔ ان سب ڈیجیٹل کرنسیوں میں اس وقت بٹ کوائن دنیا کی مہنگی ترین کرنسی بن چکی ہے اور اس کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

Back to top button