ڈینئل پرل قتل کے ملزمان کی بریت سے پاکستان کا نقصان

امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل میں ملوث تین جہادیوں کی بریت اور مرکزی ملزم شیخ عمر کی سزا میں کمی کا سندھ ہائی کورٹ کا حیرت انگیز اور ناقابل فہم فیصلہ پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور عالمی سطح پر اس کے تاثر کو نقصان پہنچائے گا ۔
ڈینئل پرل کا اغوا اور پھرقتل پاکستان کی تاریخ کا وہ حصہ ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچایا جس کے اثرات پاکستان آج دن تک بھگت رہا ہے۔ اسلام کے نام پر شروع ہونے والے روس مخالف جہاد نے رفتہ رفتہ اسلام کو پوری دنیا میں دہشتگرد مذہب کے طور پر بدنام کرایا۔ یہ جہادی اربوں مسلمانوں اور بیس کروڑ پاکستانیوں میں اقلیت تھے لیکن اپنے پر تشدد ہونے اور ریاست کے نرم رویے کی وجہ سے انہوں نے اسلام اور پاکستان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
امریکی صحافی ڈینیئل پرل اپنی انویسٹی گیشن رپورٹنگ کے لئے پاکستان آیا، یہاں شیخ عمر کے ہاتھوں اغوا ہوا اور پھر کراچی میں قتل ہوا۔ اسے دنیا بھر کی صحافت کا نائن الیون کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کسی نے کہا کہ پرل یہودی تھا اس لئے مار دیا گیا۔ کسی نے کہا کہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا اس لیے قتل ہوا۔ تشدد پسند گروہوں کے حامیوں کی رائے کچھ اور تھی لیکن جو لوگ عقل و شعور رکھتے تھے وہ یہی کہہ رہے تھے کہ وہ نامعلوم صحافی نہیں تھا وہ ایک جانا پہچانا صحافی تھا۔ ایک بڑے اخبار سے وابستہ تھا اور صحافی نہ یہودی ہوتا ہے نہ مسلمان ہوتا ہے۔ جب رپورٹر اپنے فیلڈ پر کام کے لیئے نکلتا ہے تو وہ صرف وہ لکھنا چاہتا ہے جو اس نے دیکھا ہوتا ہے۔
ڈینئل پرل کے قاتل پاکستان سے پکڑے گئے۔ یہ ایک مشن پر تھے اس لیئے انہیں پکڑنا بھی آسان نہ تھا۔ اب قتل کے 18 برس بعد مرکزی ملزم شیخ عمر کو سندھ ہائیکورٹ نے یہ کہہ کر سزائے موت سے بری کردیا ہے کہ اس پر قتل ثابت نہیں ہوتا اسلئے اغوا کے الزام میں اسے صرف سات سال قید کی سزا ہوگی جو وہ عرصہ پہلے مکمل کرچکا ہے۔ دیگر ملزمان کو بری کردیا۔
سچ تو یہ یے کہ پاکستان کو اتنا نقصان کرپشن، لنگڑی لولی جمہوریت اور ننگی آمریت نے مل کرنہیں پہنچایا جتنا ملک میں موجود مسلح جہادی گروپوں نے پہنچایا ہے۔ نائن الیون میں حملہ آور سعودی تھے لیکن اس کا خمیازہ بھگتا پاکستان نے۔ القاعدہ سعودی مالدار خاندان اور سعودی اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے شہریوں کے کنٹرول کی تنظیم تھی لیکن اس کا سارا خمیازہ بھگتا پاکستان نے۔ اسکے مرکزی لوگ یہاں سے پکڑے گئے اور اسکا سربراہ اسامہ بھی یہیں مارا گیا، القاعدہ اور طالبان نے دہشت گردی بھی پاکستان میں کی۔ ان سے جڑی مقامی مسلح تنظیموں نے پاکستان کے کوچے کوچے میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کرکے پاکستان کو لہو لہان کردیا۔ انہوں نے دس لاکھ سے زائد پاکستانی پچھلے تیس سال میں شہید کیے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ جمعہ کے روز بم دھماکا ہونا معمول بن گیا تھا، پشاور کے قصہ خوانی بازارمیں سیکنڑوں جانیں بم دھماکوں میں گئیں، لاہور کی مون مارکیٹ، کراچی کے مختلف علاقے، کوئٹہ، پارہ چنار، گلگت، چمن، حیدرآباد، کس کس علاقے کا نام لیں گے جہاں نہتے لوگوں کی جانیں نہیں گئیں۔ پھر کئی ہزار فوجی جوانوں کو شہید کیا گیا۔ ہر چند روز میں ملک کے طول و عرض سے خبر آتی تھی فوجی قافلے پر ایف سی کے قافلے پر پولیس کی گاڑی پر رینجرز کی گاڑی پر آئی ای ڈیی کا حملہ۔ شہید اور زخمی۔۔۔زخمیوں کو تو ہم گنتے ہیں نہیں کیونکہ ہمیں احساس نہیں کہ جو زخمی ہوجاتے ہیں چاہے وہ سویلین ہوں یا فوجی ہوں ان کی باقی زندگی ایک معذوری کی زندگی ہوتی ہے۔
مختصر یہ کی ان کارروائیوں کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام کا تصور دہشتگردی کے ساتھ لازم و ملزوم کردیا گیا۔ ریاست نے سویت یونین کے خلاف مذہب کا ہتھیار امریکہ کے کہنے پر اٹھایا تھا اوریہ پالیسی ریاست کے خلاف چلی گئی۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے جب آپ تشدد کا راستہ اپناتے ہیں چاہے وہ کسی کے بھی خلاف ہو۔ ریاست جب اعلان جنگ کرتی ہے تو وہ ریاست کا ایک مجموعی عمل ہوتا ہے۔ اسے تمام اداروں کی سپورٹ ہوتی ہے لیکن جب ریاست مسلح گروپوں کو سپورٹ کرتی ہے تو اسے کبھی بھی تمام اداروں اور طبقات کی سپورٹ نہیں ملتی اور آخر میں یہ مسلح گروپ اپنے سپورٹرز کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ یعنی یہ اپنے مالک کو ہی کاٹنے کو دوڑ پڑتے ہیں کیونکہ بندوق کے اپنے مطالبے ہوتے ہیں بندوق کی اپنی زبان ہوتی ہے اور اسے طاقت آزمانے کی ہرگھڑی بھوک رہتی ہے۔
ان حالات میں پاکستان میں جب تک ریاست میں موجود مسلح گروپوں کے حامی افراد کی سرعام سرکوبی نہیں ہوگی انہیں مثال نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک معاملات نہیں بہتر ہوں گے۔ کسی بھی ریاست کی کامیابی کی بنیاد اسی بات پر ہوتی ہے کہ اس میں اسلحہ رکھنے کا حق صرف ریاست کے پاس ہوتا ہے۔ لیکن ڈینئل پرل کے قتل کیس کے ملزمان کی بریت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک میں قانون کمزور ہے اور بندوقوں والے نان سٹیٹ ایکٹرز زیادہ طاقتور ہیں۔
