ڈینئل پرل کے قاتل کو ڈیتھ سیل سے نکالنے پر امریکہ سیخ پا

امریکی حکام نے ڈینیئل پرل کے مبینہ قاتل شیخ احمد عمر سعید کو ایک عدالتی حکم پر ڈیتھ سیل سے نکال کر ریسٹ ہاؤس منتقل کرنے کے اقدام پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب انصاف کے اصولوں کے منافی یے۔ اس سے پہلے امریکا یہ دھمکی بھی دے چکا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت پرل کے قاتلوں کو انجام تک نہ پہنچا پائی تو پھر امریکی حکومت خود ملزمان کا ٹرائل اپنے ملک میں کرے گی۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے کہا کہ ‘امریکا کو ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کے مقدمات میں ہوئی پیش رفت پر گہری تشویش ہے’۔ خیال رہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے لندن پلٹ جہادی احمد عمر شیخ کو ڈیتھ سیل سے نکالنے اور سیکیورٹی کے ساتھ ریسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا تھا جہاں ان کے اہلِ خانہ بھی صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ البتہ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمر شیخ کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ دی جائے اور ان کے خاندان کو سرکاری خرچ پر رہائش اور ٹرانسپورٹ فراہم کیا جائے۔
ترجمان امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ‘ہم جیل سے عمر شیخ اور ان کے شریک سازشیوں کو منتقل کرنے کے کم کے حوالے سے فکر مند ہیں اور تشویش کا شکار ہیں’۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ 29 جنوری کو امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلِنکن اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں گفتگو کی تھی کہ ‘سزا یافتہ عمر شیخ اور امریکی شہری اور صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کے دیگر ذمہ داران کے لیے احتساب کس طرح یقینی بنایا جائے’۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ‘عدالتی فیصلے پاکستان سمیت ہر جگہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والوں کی توہین کر رہے ہیں’ ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا پاکستان کی جانب سے عمر شیخ اور کے شریک سازشیوں کا احتساب کرنے اور ان کو قید میں رکھنے کی ماضی میں کی گئی کوششوں کا اعتراف کرتا ہے۔ ہم حکومت کی جانب سے 28 جنوری کے عدالتی فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کرنے کی بھی تعریف کرتے ہیں لیکن پرل کے قاتل اپنے انجام تک پہنچنے سے ابھی بہت دور دکھائی دیتے ہیں۔’۔
یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلی تھیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا جو کہ وہ پہلے ہی پوری کرچکے تھے۔
تاہم رہائی کے احکامات کے فوری بعد ہی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ چنانچہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت صوبائی حکام نے انہیں 90 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا، یکم جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت مزید تین ماہ کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان کی قید میں مزید توسیع ہوتی رہی۔ تاہم 25 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے چاروں ملزمان کو زیر حراست رکھنے کے لیے صوبائی حکام کے جاری کردہ ‘پریوینشن ڈیٹینشن آرڈرز’ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ جن پر 28 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک کے مقابلے 2 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے مقدمے کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعدازاں 2 فروری کو عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے عمر شیخ کی جانب سے رہائی کے باوجود بدستور قید کے خلاف دائر درخواست پر احمد عمر شیخ کو ڈیتھ سیل سے نکالنے اور سیکیورٹی کے ساتھ ریسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا تھا جہاں ان کے اہلِ خانہ بھی صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمر شیخ کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ دی جائے اور ان کے خاندان کو سرکاری خرچ پر رہائش اور ٹرانسپورٹ فراہم کیا جائے۔
دوسری طرف امریکہ ڈینیئل پرل قتل کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے اور یہ اعلان بھی کر چکا ہے کہ اگر حکومت پاکستان اس کے قاتلوں کو انجام تک نہ پہنچا پائی تو امریکہ خود ملزمان کا ٹرائل کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button