ڈینئیل پرل قتل کا مرکزی ملزم عمر سعید شیخ لندن پلٹ جہادی ہے

امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کا مرکزی عمر شیخ دراصل ایک لندن پلٹ جہادی ہے جو کہ ماضی میں مولانا مسعود اظہر کی ایک پرانی تنظیم حرکت المجاہدین کے ساتھ منسلک تھا۔ تاہم کشمیری حریت پسندوں کی جانب سے دسمبر 1999 میں ایک بھارتی طیارے کے اغوا کے بعد ان کے مطالبے پر سری نگر کی ایک جیل میں قید عمر شیخ اور مولانا مسعود اظہر کو رہا کرکے پاکستان پہنچا دیا گیا جہاں مسعود اظہر نے جیش محمد کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی جبکہ عمر سعید شیخ ان سے علیحدہ ہوگیا اور بعد ازاں اسے ڈینئل پرل کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔
1973 میں لاہور میں ایک متمول اور مذہبی رجحان رکھنے والے خاندان میں پیدا ہونے والے عمر سعید شیخ کے بارے میں سابق پاکستانی فوجی دکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سنہ 2006 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ‘ان دی لائن آف فائر’ میں لکھا کہ ’عمر شیخ کو لندن اسکول آف اکنامکس میں دوران تعلیم ہی برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی سکس نے بھرتی کر لیا تھا۔ ان کے ذریعے بوسنیا میں سرب جارحیت کے خلاف لندن میں مظاہرے منعقد کروائے گئے حتیٰ کہ برطانوی انٹیلی جنس نے اسے کوسوو میں جہاد کے لیے بھی بھیجا’۔
ان معلومات کی کبھی باضابطہ تردید نہیں کی گئی اور خود عمر شیخ نے بھی یہ اعتراف کیا تھا وہ سنہ 1992 میں زمانہ طالب علمی میں بوسنیا گیا تھا اور وہاں مسلمانوں کے خلاف سربوں کے ظلم اور اس پر عالمی طاقتوں کی ‘بے حسی’ نے اس کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے۔ بوسنیا سے جہاد میں حصہ لینے کا تصور لیے عمر شیخ افغانستان پہنچا جہاں اسں نے ’جنگی تربیت‘ حاصل کی لیکن مبصرین کے مطابق اس ‘جنگی’ تربیت کے استعمال کی اسے شاید کبھی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ اس نے اپنی مغربی تعلیم اور تربیت کو استعمال کرتے ہوئے مغرب سے تعلق رکھنے والوں کو اغوا کر کے اپنے مقاصد پورا کرنے کا پروگرام بنایا۔
1994 میں حرکت المجاہدین سے وابستگی کے دوران عمر شیخ نے انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں تین برطانوی اور ایک امریکی شہری کو اغوا کیا اور ان کے رہائی کے بدلے دس کشمیری رہنماؤں کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا تاہم یہ منصوبہ ناکام ہوا، وہ پولیس مقابلے میں زخمی ہوا اور انڈین حکام کی قید میں چلا گیا۔
اس قید سے اسے رہائی دسمبر 1999 میں اس وقت ملی جب ایک انڈین مسافر طیارہ کھٹمنڈو سے دلی جاتے ہوئے اغوا ہو کر قندھار لے جایا گیا۔ طیارے کے مسافروں کے بدلے تین افراد کی رہائی عمل میں آئی جن میں کشمیری جیلوں میں بند مولانا مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور عمر شیخ شامل تھے۔ پھر امریکی خفیہ ادارے سی آئی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ پر نائن الیون کے حملوں میں شامل ایک شخص محمد عطا کو پاکستان سے ایک بڑی رقم عمر شیخ نے امریکہ بھیجی تھی۔ ابھی یہ انکشاف اخبارات کی زینت نہیں بنا تھا کہ پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کا اغوا ہو گیا۔ تفتیش کے دوران اس معاملے میں عمر سعید شیخ کا نام سامنے آیا اور پھر کراچی پولیس نے عمر شیخ کو لاہور میں تلاش کر لیا۔ ایک افسر کی ان سے فون پر بات بھی ہوئی اور انھیں ڈینیئل پرل کو رہا کرنے کے بدلے رعایت دینے کی پیشکی کی گئی لیکن پھر وہ تفتیش کاروں کے ریڈار سے غائب ہو گیا۔دس روز تک تلاش جاری رہی جس کے بعد عمر شیخ نے خود گرفتاری دے دی لیکن اس وقت تک ڈینیئل پرل کو قتل کیا جا چکا تھا۔ گرفتار ہونے کے بعد عمر شیخ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد اور گرفتاری سے پہلے کے دو ہفتے اس نے لاہور میں اس وقت کے آئی ایس آئی کی ایک عہدیدار اور آج کے وزیرِ داخلہ بریگیڈئر ریٹائرڈ اعجازشاہ کے پاس گزارے تھے۔ ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں شامل افراد پر مقدمہ امریکہ میں چلانے کا فیصلہ ہوا لیکن پاکستانی حکومت نے عمر شیخ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر پاکستان میں اس مقدمے میں سنہ 2002 میں عمر شیخ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی جس پر اپیل کا فیصلہ 18 برس بعد دو اپریل 2020 کو ہوا ہے اور عدالت نے اس کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا سے بدل دیا۔ تاہم غالب امکان یہی ہے کہ عمر شیخ بھی رہا ہو جائے گا چونکہ وہ گزشتہ 18 برسوں سے قید ہے جبکہ اس کو سنائی جانے والی سزا سات برس کی ہے۔
