ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کو 18 برس بعد بری کر دیا گیا

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس کے مجرمان کی 18 سال بعد بریت نے پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ قانونی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر انسداددہشتگردی کی عدالت کا فیصلہ میرٹ کے برعکس تھا تو سندھ ہائی کورٹ نے18 سال کا لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد اس فیصلے کو کیوں تبدیل کیا اور اگر سندھ ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ سو فیصد میرٹ پر ہے تو پھر ملزمان کی 18 سال تک بےجا قید کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
2 اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں جبکہ ایک مجرم احمد عمر شیخ المعروف شیخ عمر کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا ہے۔ تاہم امکان یہی ہے کہ اٹھارہ برس قید میں رہنے کی وجہ سے عمر شیخ کو بھی آزاد کردیا جائے گا۔
خیال رہے کہ معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک سٹوری پر کام کررہے تھے۔ بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے اس کیس میں ہاشم عرف الیاس قاسم، حسن، احمد بھائی، امتیاز صدیقی اور امجد فاروقی کو مفرور قرار دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
کراچی میں عدالت عالیہ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید کی سزا میں تبدیل کردیا۔ تاہم سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد احمد عمر شیخ کو بھی رہا کردیا جائے گا کیوں کہ وہ پہلے ہی 18 سال قید کی سزا کاٹ چکا ہے اور اس کی 7 سال قید کی سزا کو اسی مدت میں شمار کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ نے ریاست کی جانب سے شریک ملزمان کی عمر قید میں اضافے کی اپیل بھی مسترد کردی۔عدالت میں ملزمان کے وکلا رائے بشیراور خواجہ نوید احمد نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ ان کے مؤکل کے خلاف کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا اور استغاثہ کے زیادہ تر گواہ پولیس اہلکار تھے جن کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ملزمان کے وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ اپیل کنندہ نسیم اور عادل شیخ پر ای میلز اور میسیجز کے ساتھ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی زبردستی ظاہر کی گئی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے ان کے اعترافی بیانات میں بھی جھول ہیں اور وہ رضاکارانہ طور پر نہیں دیے گئے۔ وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ مدعی نسیم سے 11فروری 2002 کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی ظاہر کی گئی جبکہ کمپیوٹر ماہر رونلڈ جوزف نے کہا تھا کہ انہیں 4 فروری کو کمپیوٹر ویریفکیشن کے لیا دیا گیا تھا جس کے بعد 6 روز تک انہوں نے لیپ ٹاپ کا جائزہ لیا تھا۔ وکلاء صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس قسم کے ثبوتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کی سزا کالعدم قرار دی جائے۔تاہم ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سلیم اختر نے ٹرائل کورٹ کی دی گئی سزا کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ پروسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف کسی شک و شبے سے بالاتر ہو کر کیس ثابت کیا ہے لہٰذا عدالت ان اپیلوں کو مسترد کردے۔
ایک عرصے تک عالمی میڈیا کی زینت بنے رہنے والے اس کیس کے حوالے سے 18 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے نے پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ قانونی حلقوں کی جانب سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ڈینیئل پرل کیس کے تمام مجرمان کو رہا کرنے کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت سپریم کوٹ سے رجوع کر سکتی ہے کیونکہ امریکی حکومت اپنے شہری کے قتل کیس میں ملزمان کو ہرصورت سزا دلوانے کے لیے حکومت پاکستان پر ضروری دباؤ ڈالے گی۔
