ڈینیل پرل قتل کیس: ملزمان کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

سندھ حکومت نے صحافی ڈینیل پرل قتل کیس میں ملزمان کی رہائی کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی جانب سے دائر کی گئی تین درخواستوں میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور ملزمان کی سزائیں بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سقم ہیں، ہائی کورٹ نے اخباری تراشوں پر انحصار کیا اور ملزمان کو ریلیف دیا حالانکہ اخباری تراشوں میں ملزم احمد عمر شیخ کا جرم کا اعتراف ظاہر ہوتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے ملزمان کا کالعدم تنظیموں سے تعلق کا بھی جائزہ نہیں لیا جبکہ ملزمان کا ماضی داغدار ہونے کا جائزہ بھی نہیں لیا گیا۔
یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔
صوبائی دارالحکومت میں عدالت عالیہ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر سعید شیخ المعروف عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کے کیس میں 4 ملزمان کی سزا ختم کیے جانے کی مذمت کی تھی۔اس حوالے سے جاری بیان میں عدالت کے فیصلے کو ’ہر جگہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کی توہین‘ قرار دیا گیا تھا۔
دوسری طرف سندھ ہائیکورٹ میں ڈینیل پرل قتل کیس کی پیروی کرنے والے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سلیم برڑو کا تبادلہ کردیا گیا ہے.ذرائع کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل سلیم برڑو کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سلیم برڑو کا سندھ ہائیکورٹ کراچی سے حیدر آباد تبادلہ کردیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سلیم برڑو نے سندھ ہائیکورٹ میں ڈینیل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت کی پیروی کی تھی اور عدالت نے احمد عمر شیخ سمیت 4 ملزمان کی سزائیں ختم کردی تھیں۔گزشتہ دنوں سندھ ہائیکورٹ نے امریکی صحافی ڈینیل پرل اغواء اور قتل کیس میں عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل جب کہ 18 برس بعد 3 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے جہاں فاروق ایچ نائیک اس کیس کی پیروی کریں گے۔
واضح رہے کہ میڈیا کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بھی ڈینیئل پرل کیس میں عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے جرائم سے معافی کی علامت کے طور پر قائم رہے گا۔
محکمہ داخلہ سندھ نے 3 اپریل کو کیس سے رہا ہونے والے ملزمان کو مزید 3 ماہ کے لیے دوبارہ حراست میں لے لیا تھا۔
سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 4 اپریل کو کہا تھا کہ سندھ حکومت نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اب یہ متعلقہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ وہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہیں یا کالعدم قرار دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کررہے تھے۔جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت میں ملزمان کے وکلا رائے بشیر اور خواجہ نوید احمد نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ ان کے موکل کے خلاف کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا اور استغاثہ کے زیادہ تر گواہ پولیس اہلکار تھے جن کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ملزمان کے وکلا کا مزید کہنا تھا کہ اپیل کنندہ نسیم اور عادل شیخ پر ای میلز اور میسیجز کے ساتھ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی زبردستی ظاہر کی گئی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے ان کے اعترافی بیانات میں بھی جھول ہیں اور وہ رضاکارانہ طور پر نہیں دیے گئے۔
وکلا کا مزید کہنا تھا کہ مدعی نسیم سے 11 فروری 2002 کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی ظاہر کی گئی جبکہ کمپیوٹر ماہر رونلڈ جوزف نے کہا تھا کہ انہیں 4 فروری کو کمپیوٹر ویریفکیشن کے لیے دیا گیا تھا جس کے بعد 6 روز تک انہوں نے لیپ ٹاپ کا جائزہ لیا تھا۔وکلا کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ثبوتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کی سزا کالعدم قرار دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button