ڈینیل پرل کیس: بری ملزمان کی نظربندی کالعدم قرار,رہائی کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس می رہا ہونے والے چاروں ملزمان کو زیر حراست رکھنے کے لیے صوبائی حکام کے جاری کردہ ‘پریوینشن ڈیٹینشن آرڈرز’ کو کالعدم قرار دے دیا۔
احمد عمر شیخ و دیگر ملزمان کی ڈینیئل پرل کیس میں بریت کے بعد بدستور نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔بینچ نے جیل حکام کو عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر، فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو رہا کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ملزمان کی نظر بندی غیر قانونی قراردیتے ہوئے کہا کہ ملزمان بغیر کسی جرم کے 18 سال سے جیل میں ہیں، جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ صوبائی حکومت کو ملزمان کو نظر بندی رکھنے کا اختیار ہے۔
ساتھ ہی مختصر فیصلے میں عدالت کی جانب سے چاروں ملزمان کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں درج کرنے اور طلبی پر ہر مرتبہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ صوبائی حکام درخواست گزاروں کو مسلسل زیر حراست رکھنے کا معقول جواز پیش کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
خیال رہے رواں برس اپریل میں سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزا کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔تاہم رہائی کے احکامات کے فوری بعد ہی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔چنانچہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت صوبائی حکام نے 90 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا، یکم جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے تحت مزید تین ماہ کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان کی قید میں مزید توسیع ہوتی رہی۔یہاں یہ بات مدِ نظر رہے ک سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔عدالت نے مقدمے میں نامزد 4 ملزمان کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں اس کی سماعت جاری ہے۔
