ڈی جی ISIجنرل ندیم انجم کو توسیع دینے کا فیصلہ؟

موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی مدت ملازمت 18 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے تاہم جہاں ایک طرف جنرل ندیم انجم کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے ڈی جی آئی ایس آئی کیلئے مختلف نام زیر گردش ہیں وہیں دوسری طرف جنرل ندیم انجم کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبریں بھی گرم ہیں۔ سینئر صحافی اور اینکرپرسن کامران خان نے دعوی کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو موجودہ عہدے پر توسیع دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جس کا اعلان جلد متوقع ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے ایک ٹوئٹ میں اینکر پرسن کامران خان کا کہنا تھا کہ چونکہ جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں عسکری قیادت پاکستان کو بدترین معاشی بحران، دہشت گردی میں اضافے، اور انتہائی اہم جیو پولیٹکل پیش رفت کا جواب دینے کے لیے کمر بستہ ہے، اس تناظر میں باخبر ذرائع نے اعتماد کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ عسکری قیادت نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس خدمات میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم مزید ایک سال تک ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے عہدے پر فائز رہیں گے۔
کامران خان نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے آرمی کی قیادت میں چلائی جانے والی مہم میں، آئی ایس آئی متعلقہ سویلین ایجنسیوں کے ساتھ مل کر، ایران اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ سمگلنگ کے خاتمے، ڈالرائزیشن کے خاتمے، تیز رفتار نجکاری کی سہولت فراہم کرنے، ریاستی ملکیتی اداروں کی تنظیم نو، ملک سے ٹیکس چوری کلچر، نان فائلر نظام، سمگلنگ، رشوت ستانی، سندھ کے کرپٹ سسٹم جسے ‘سسٹن’ کہا جاتا ہے، کے خاتمے میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت ملٹری سکیورٹی سروسز کے تمام اہم عناصر معدنیات کی کان کنی اور آئی ٹی کے شعبوں میں فوج کے زیر انتظام SIFC کے تحت دسیوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے پیش پیش ہیں۔
انہوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی بطور تھری سٹار جنرل مدت معیاد اس ہفتے کے آخر میں ختم ہونے والی تھی تاہم اب ان کی مدت ملازت میں توسیع کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے گریجویٹ لیفٹیننٹ جنرل ندیم نے کنگز کالج لندن سے اپنی ماسٹرز ڈگری حاصل کی اور امریکی محکمہ دفاع کے زیر انتظام ایشیا پیسیفک سینٹر فار سکیورٹی سٹڈیز میں ایڈوانسڈ سکیورٹی سٹڈیز کورس مکمل کیا۔ کامران خان کے مطابق جب جنرل ندیم انجم کی توسیع کی باقاعدہ تصدیق ہو جائے گی تو لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم ڈی جی آئی کے طور پر توسیع حاصل کرنے والے پہلے افسر نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل جنرل اختر عبدالرحمٰن خان اور لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا بھی قومی سلامتی کی بنیاد پر توسیعی مدت کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی رہ چکے ہیں۔
تاہم دوسری جانب سینیئر فوجی ذرائع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی کی توسیع کے حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔
دوسری طرف سینئر صحافی اسد علی طور کامران خان کے دعوے کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ اسد علی طور نے اپنے حالیہ وی-لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کو توسیع نہیں دیں گے بلکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم 18 ستمبر کو اپنی مدت ملازمت ختم ہو جانے کے بعد فوج سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ جبکہ ان کی جگہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر ایسے شخص کو تعینات کیا جائے گا جو آرمی چیف کا قابل اعتماد اور قریبی افسر ہو گا۔
اسد طور نے مزید کہا تھا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد آرمی چیف کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو کسی بھی فوجی افسر کو 60 سال کی عمر تک ‘ریٹین’ کر سکتے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو توسیع ملنے کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔ کیونکہ آرمی چیف اس بات پر غور کرہے ہیں کہ بجائے کسی ایسے شخص کو توسیع دینے کے جو ان کی جانب سے تجویز کردہ بھی نہیں تھا، وہ اپنے کسی قابل اعتماد افسر کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کریں گے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو 4 لیفٹیننٹ جنرل ستمبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ 2 نومبر میں ریٹائر ہونگے۔ تو ایسے میں آرمی چیف اپنے من پسند میجر جنرلز کو ترقی دلوا کر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر لائیں گے۔ یہ جونیئر بھی ہوں گے اور ان کو ہدایات دینا اور کسی چیز پر آمادہ کرنا زیادہ آسان ہو گا۔ کاغذی طور پر یہ تقرری وزیر اعظم کرتا ہے تاہم آرمی چیف جس کا نام بھی تجویز کریں گے، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اس کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیں گے۔
اسد علی طور نے مزید کہا کہ اس تناظر میں لیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز کا بھی نام بطور ڈی جی آئی ایس آئی سامنے آیا تھا جو اس وقت کور کمانڈر راولپنڈی ہیں۔ وہ آرمی چیف کے بہت قابل اعتماد اور قریبی ہیں کیونکہ جیسے ہی جنرل عاصم منیر نے آرمی چیف نے کمان سنبھالی تھی، انہوں نے سب سے پہلے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا کا تبادلہ کیا تھا جن کو کور کمانڈر بنے بمشکل ایک ہفتہ ہوا تھا اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز کو کوئٹہ میں فوجی کالج سے بلا کر راولپنڈی میں پوسٹنگ دی گئی تھی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ شاہد امتیاز کو ہی ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا جائے۔ آرمی چیف کسی اور قابل اعتماد افسر کو بھی ترقی دے کر ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تعینات کر سکتے ہیں۔
