ڈی پی او ایبٹ آباد نے شہید کانسٹیبل کی بیٹی کی خواہش کیسے پوری کی؟

باپ کے ہوتے ہوئے تو بائیک پر بیٹھنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی مگر باپ کی شہادت کے بعد پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی، شہید پولیس کانسٹیبل ظفر شاہ کی بچی کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے بائیک پر بٹھا کر اپنے دفتر لے آئے۔
یوم شہدائے پولیس کے موقع پر افسران نے شہداء کو اپنے اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کیا مگر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی نے جس شاندار انداز میں شہید کانسٹیبل ظفر رضا کو خراج تحسین پیش کیا اس کی مثال نہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی نے شہید کی فیملی کا دل جیت لیا۔ ڈی پی او نےشہید اہلکار ظفر رضا کی بیٹی کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے باپ کی طرح اسکی خواہش پوری کی۔ سید ظفر رضا 2013 میں منشیات فروشوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور شہید ہوگئے تھے۔ شہید کی 7 سالہ شمائل باپ کے ساتھ تو بائیک پر سفر نہ کر سکی, ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی نے شہید کانسٹیبل کی بیٹی کی خواہش پوری کردی۔ پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ شہید کی بیٹی کو موٹرسائیکل پر لے کر نکلے۔ شمائل کو مکمل سکیورٹی سکواڈ کے ساتھ بائیک پر بیٹھا کر گھر سے پولیس لائن لائے اور اپنی کرسی پر بٹھایا۔ بعدازاں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواہ ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے شہید کانسٹیبل ظفر رضا کی معصوم بیٹی شمائل اور اسکے گھر والوں سے ویڈیو لنک پر بات چیت کی۔ جس کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی نے اپنی گاڑی میں شہید اہلکار کی بیٹی اور گھر والوں کو اعزاز کے ساتھ رخصت کیا
