کابل حکومت مذاکرات کی اہلیت نہیں رکھتی: طالبان

افغان طالبان نے اسلام آباد میں امریکی اور پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ کابل انتظامیہ خود اختلافات کا شکار ہے اور ان کے ساتھ مذاکرات کی اہلیت نہیں رکھتی۔
افغان طالبان کی طرف سے جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق ملاعبدالغنی برادر کی سربراہی میں 12 رکنی وفد نے سرکاری دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔
طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی پالیسی کے تحت دوستانہ تعلقات کی کوشش کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً نمائندے مختلف ممالک کے دورے پر جاتے ہیں، پاکستان کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے امن و امان اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور افغان تاجروں کو سہولیات کے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
تاہم اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ترجمان افغان وزارت خارجہ صبغت اللہ احمدی نے ِاس دورے کا خیرمقدم کیا لیکن افغان ایوان صدر نے فوراً اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ یاد رہے کہ وزارت خارجہ کے اس بیان کے فورا بعد افغان حکومت نے افغانستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔لہٰذا افغان طالبسن کس کہنس ہے کہ ان تضادات سے ظاہر ہے کابل انتظامیہ کے اندر کتنا گہرا اختلاف موجود ہے۔افغان طالبان کے مطابق ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ کابل انتظامیہ مذاکرات کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ہے، سب سے پہلے امریکیوں کے ساتھ اس معاملے کو حل کریں گے، پھر مختلف افغان حلقوں کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں افغان طالبان کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس سے قبل افغان طالبان کے وفد نے امریکا کی جانب سے مذاکرات عمل روکنے کے بعد روس اور چین کا بھی دورہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button