کابل کا فاتح جنرل فیض حمید قبضہ گروپ کا سرغنہ کیسے بنا؟

معروف لکھاری مصنف اور تجزیہ کار محمد حنیف نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور میں آئی ایس آئی چیف رہنے کے بعد کور کمانڈر پشاور  بن کر آرمی چیف بننے کے خواب دیکھنے والا جنرل فیض حمید آج اس لیے گرفتار ہو کر کورٹ مارشل کا سامنا کر رہا ہے کہ تب ہر یوتھیا خود کو کور کمانڈر سمجھنے لگا تھا اور جنرل فیض حمید کی تصویر دل میں لگا کر گھومنے لگا تھا۔ تاہم جب جب ان لوگوں کا اصلی کور کمانڈرز سے واسطہ پڑا تو گمرانڈوز کی یہ پیار کہانی دردناک ہوتی چلی گئی، پہلے تو یوتھیوں کے محبوب جنرل فیض حمید کو فارغ کیا گیا اور پھر قائد انقلاب عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا، فاتح کابل کا انجام یہ ہوا کہ وہ قبضہ گروپ کا سرغنہ نکلا، ایسے میں اب یہ ٹوٹے ہوئے دل والے عمرانڈوز جائیں تو جائیں کہاں؟

ایاز امیر کا فیض حمید کے ساتھ جنرل باجوہ کے بھی ٹرائل کا مطالبہ

بی بی سی اردو کے لیے اپنی تازہ تحریر میں محمد حنیف کہتے ہیں کہ ہم صحافی لوگوں میں لاکھ نظریاتی اختلافات ہوں لیکن ایک بات مشترک ہے کہ جب کبھی بڑی خبر آئے گی، ہم میں سے کوئی ضرور کہے گا یہ خبر تو میں نے دو سال پہلے بریک کر دی تھی اور اگر چھاپی نہیں تھی تو نیوز روم میں یا پریس کلب میں دوستوں کو بتا دی تھی کہ یہ ہونے جا رہا ہے۔ اب زندگی نے پہلی دفعہ موقع دیا ہے کہ میں بھی کہہ سکوں کہ جب میرے اسلام آباد کے سینیئر صحافی کہہ رہے تھے کہ جنرل فیض حمید اگلے سپہ سالار ہوں گے اور جب ہر یوتھیا اپنے لیڈر عمران خان اور جنرل فیض حمید کی جوڑی کو کرن ارجن بنا کر پیش کرتے ہوئے یہ دعوی کر ریا تھا کہ یہ دونوں اپنے سیاسی دُشمنوں کو تہس نہس کر دیں گے تو میں نے ہاتھ باندھ کر عرض کی تھی کہ جنرل فیض کتنے ہی قابل ہوں وہ سپہ سالار نہیں بن پائیں گے۔

حنیف بتاتے ہیں کہ میں سینیئر صحافیوں کی ایک دعوت میں موجود تھاجب ایک انتہائی باخبر صحافی نے سگریٹ سلگاتے ہوئے جنرل فیض کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے پر پریشانی کا اظہار کیا۔ میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بولے کہ فیض بہت ہی سخت گیر جرنیل ہیں اس لیے میڈیا پر مُشکل وقت آنے والا ہے۔ پھر انہوں نے مجھے ایک دو واقعات سُنائے گئے جس میں جنرل صاحب نے ایسی زبان استعمال کی تھی جو کسی اخبار میں نہیں چھپ سکتی تھی۔

میں نے اپنی بےخبری میں تسلی دی کہ آپ لوگ تو جنرل حمید گُل، جنرل شجاع پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام جیسی شخصیت کو بھگت چُکے ہیں لہازا جنرل فیض حمید آپ کا کیا بگاڑے گا۔ اُس واقعے کے کُچھ عرصہ بعد ہی محترم سہیل وڑائچ نے ایک طویل مضمون لکھا، عنوان اُس کا ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ تھا جس میں انھوں نے پاکستان میں مستقبل کی فوجی اور سیاسی قیادت کا نقشہ کھینچا۔ انھوں نے جو بھی لکھا پی ٹی آئی کے متوالوں نے اُس میں سے اپنے سنہری مستقبل کی جھلک دیکھی۔ وہ یہ تھی کہ پہلے چھ سال جنرل باجوہ اور عمران خان، اُس کے بعد سپہ سالار جنرل فیض حمید اور عمران خان اور اُس کے آگے جنرل آصف غفور اور عمران خان کی جوڑی حکمرانی کرے گی۔ لیکن خواہشوں پر مبنی اس نقشے میں یہ طے نہیں تھا کہ کون کس کو بنائے گا۔

محمد حنیف کہتے ہیں کہ آپ کو فوج سے لاکھ اختلافات ہوں جیسا کہ موجودہ حکمرانوں کو تب تھے، یا فوج سے عشق ہو جیسا کہ پی ٹی آئی کے کارکُنوں اور رہنماؤں کو تب تھا، لیکن فوج نہ تو جمہوری ادارہ بنے گا نہ بادشاہت۔ یہاں سپہ سالار کا فیصلہ نہ آپ کے ووٹ لے کر کیا جائے گا، نہ ہی یہاں پر کسی کو ولی عہد مقرر کیا جا سکتا ہے۔

فرض کریں جنرل باجوہ اور عمران خان نے مل کر طے کر بھی لیا تھا کہ جنرل فیض حمید اگلے سپہ سالار ہوں گے تو باقی درجن بھر اُمیدوار جنرل حضرات کیا سر جھکا کر فیصلہ مان لیں گے اور چُپ چاپ گالف کھیلنے آئیں گے۔ فوج کو اس بات پر ناز ہے کہ ترقیاں صرف میرٹ پر ہوتی ہیں۔ نواز شریف کا بھائی وزیر اعظم بن سکتا ہے، بھٹو کا پوتا وزیرِ خارجہ بن سکتا ہے لیکن جنرل باجوہ چاہیں بھی تو اپنے کسی بھتیجے کو کور کمانڈر نہیں لگوا سکتے، یا کوئی جنرل مشرف اپنے بیٹے کو ڈی جی آئی ایس آئی نہیں لگا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ اپنے کسی چہیتے افسر کو اس عہدے کے لیے تیار کر سکتے ہیں لیکن آخر میں فیصلہ وزیر اعظم نے کرنا ہے۔ اُس کے پاس جو بھی اختیار ہو وہ اُسی کو چُنے گا جو ذرا تابعدار نظر آتا ہو اور سپہ سالار بن کر وہ وزیر اعظم کو ساتھ وہی کرے گا جو جنرل ضیا الحق سے لے کر جنرل باجوہ تک کرتے آئے ہیں۔

تو جس مُلک میں ایس ایچ او لگنے کے لیے سفارش، سازشیں چلتی ہوں تو وہاں سپاہ سالار کی کُرسی کے لیے باقی قابل اور سخت گیر جنرل فیض حمید جیسے کے لیے میدان کیوں کھلا چھوڑیں گے۔ ویسے پرانے بادشاہ بھی اپنا ولی عہد مقرر کرتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیتے تھے کیونکہ جانتے تھے کہ ایک بیٹے کو ولی عہد مقرر کریں گے تو باقی بھائی دشمن ہو جائیں گے۔ اس لیے پہلے بادشاہت کے باقی دعویداروں کا بندوبست کرتے تھے۔ بادشاہ کو کبھی کسی شیرخوار شہزادے کو بھی ولی عہد بنانا پڑتا جاتق تو اسے ڈر ہوتا تھا کہ محل کے اندر چھپا کوئی دُشمن اُس کے دودھ میں زہر نہ ملا دے۔ جنرل فیض حمید کو بھی ولی عہد بنا کر یہ غلطی کی گئی، اُن کے ایسے دشمن پیدا کر دیے گئے جو اُن کی خوراک میں قطرہ قطرہ زہر ملاتے رہے اور اب ہمارا مستقبل کا مسیحا سلاخوں کے پیچھے کورٹ مارشل کا سامنا کر رہا ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ جسے کل تک فاتح کابل قرار دیا جا رہا تھا وہ اصل میں ایک قبضہ گروپ کا سرغنہ نکلا۔ خدا مستقبل کے ولی عہدوں کو ایسے انجام سے محفوظ رکھے۔

Back to top button