کارکردگی زیرو ہو تو سازش کا ڈرامہ رچانا ہی پڑتا ہے

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان صاحب کارکردگی زیرو ہو تو سازش کا ڈرامہ رچانا ہی پڑتا ہے۔
لاہور میں این اے 128 میں ورکرز کنونشن سے خطاب پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے خطاب کیا ۔
مریم نواز کا کہنا تھا عمران خان سیاسی نوسر باز ہے، عوام کی طاقت آج بھی ہمارے ساتھ کھڑی ہے، نالائق حکومت سے جان چھوٹ گئی، ن لیگ الیکشن سے نہیں ڈرتی، عمران خان صاحب ، کارکردگی زیرو ہو تو سازش کا ڈرامہ رچانا ہی پڑتا ہے،یہ اپنی کارکردگی پرایک لفظ نہیں بول سکتا، پلے کچھ نہیں، یہ آجکل انتخابات، انتخابات کا راگ کیوں آلاپ رہا ہے، عوام جانتے ہیں، انتخابات سے وہ ڈرتے ہیں جو اپنی حکومت میں ضمنی انتخاب ہار جائے، انتخاب سےن لیگ نہیں ڈرتی۔
انہون نے کہا عمران خان کہتا ہے میری تحفے میری مرضی، نہیں بھائی یہ تمہارا خاندانی مال نہیں، تحفے بھی ریاست اورمرضی بھی ریاست کی، ریاست کوملنے والے تحفے اس نے بازاروں میں جا کر بیچے، دوست ممالک کے تعلقات کو اس نے 18کروڑمیں بیچ دیا، عمران تم نے تحفہ نہیں پاکستان کے تعلقات کو بیچا، جب عدالت نے جواب مانگا توکہتا ہے دوست ملک ناراض ہوجائیں گے۔
مریم نواز نے کہا عمران خان کہتا ہے عدالتیں بارہ بجے کیوں کھلیں؟ عدالتیں اس لیے کھلیں تم نے وزیراعظم آفس کوبنی گالہ سمجھ لیا تھا، تمہارے ذاتی ملازمین صدرمملکت، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، گورنرپنجاب نے آئین سے غداری کی، صدرعارف علوی پاکستان آپ کا ڈنیٹل کلینک نہیں، اگرعمران کی نوکری کا اتنا شوق تو استعفی دو اور گھرجاؤ، یہ ایک بارپھراسلام مارچ کا اعلان کررہا ہے، اٹھو،نوازشریف،شہبازشریف کا ساتھ دواوراس سے ملک بچاؤ۔
مریم نواز نے کہا کرونا وائرس، ایک ہے رونا وائرس، خان صاحب رونا دھونا بند کرو، مردوں کی طرح مقابلہ کرنا سیکھو، امریکا، امریکا کا راگ آلاپ رہا ہے، اس کے دوست عارف نقوی کو امریکا نے پکڑا ہوا ہے، اسی لیے یہ پہلے امریکا، امریکا کا راگ آلاپ رہا ہے، فارن فنڈنگ کے شواہد سامنے آنے پر چیف الیکشن کمشنر کو کہتا ہے استعفی دو، توشہ خان کبھی ریاست مدینہ کا نام لیتا تھا، بیت المال کو کاروبارکا ذریعہ بنادیا،عوام کی طاقت آج بھی ن لیگ کے ساتھ کھڑی ہے، آخری دن تک یہ اقتدارسے چمٹا رہا، یہ جانتا تھا ن لیگ اقتدارمیں آگئی تواس کے سارے پول کھل جائیں گے، آخری منٹ تک کبھی اسٹیبشلمنٹ، کبھی آصف زرداری کی منتیں کرتا رہا، جب بات نہ بنی تو جھوٹے کاغذی خط لے آیا، کارکن کے پلے کارڈ پرلکھا ہے نمبرز پورے نہ ہو تو سازش ہوتی ہے، کارکردگی کا خانہ خالی ہو تو سازشی خط جیسا ڈرامہ رچانا پڑتا ہے، زندگی کے 22 سال ورلڈکپ، اگلے 22 سال سازشی خط لیکرپھرتا رہے گا۔
انکا کہنا تھاوزیراعظم شہبازشریف کوآئے دوہفتے نہیں ہوئے کبھی بلوچستان،کبھی خیبرپختونخوا پہنچا ہوتا ہے۔ شہبازشریف خدمت کرنے والا اورکہاں عمران خان؟ عمران خان نے مافیاز کو نوازا۔ اب ڈررہا ہے جب نوازشریف آئے گا تو اس کا کیا بنے گا، کہتی ہوں عمران میاں جب آئے گا تو لگ پتا جائے گا، نوازشریف نے لندن سے بیٹھ کر تمہیں واپس اسی کنٹینر پر واپس چڑھا دیا ہے، تم کہتے تھے نوازشریف کی سیاست ختم، آج شہبازشریف وزیراعظم،حمزہ شہبازوزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔ تمہارا مینڈیٹ 2018میں عمران چورنے چھینا تھا، مبارک ہو تم نے اپنا مینڈیٹ واپس لے لیا، سیاست کا سب سے بڑا نوسربازعمران نیازی ہیں، عمران خان کا نیا نام توشہ خان ہے۔
دریں اثنا نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے خطاب کرتے ہوئے کہاآئی ایم ایف سے بھیک مانگنے والے نے خودکشی کیوں نہیں کی؟ آئین شکنی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائےگا۔ عمران نیازی کا ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ دراصل سازش تھی ، آج کے پی ، سندھ اور پنجاب میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ 50لاکھ گھر تو دور کی بات 50 ہزار گھر بھی عوام کو نہیں ملے۔ عمران نیازی کی سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے، عمران خان کھلاڑی نہیں ہے اس نے عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے،سلیکٹڈ کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی ، یہ نااہل تھے۔ عمران نیازی کے جانے کے بعد ہم نئے سے پرانے پاکستان میں لوٹ رہے ہیں، عمران نیازی آیا تو گروتھ ریٹ منفی ہوگیا، پاکستانی روپیہ 38فیصد گرگیا۔
حمزہ شہبا ز نے کہاعمران خان آج مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے، عمران خان گلا پھاڑ کر کہہ رہا ہےکہ میرے ساتھ سازش ہوئی ہے۔ عمران نیازی ہوش کے ناخن لو اداروں کو بدنام نہ کرو، تم نے پہلے بھی ایک سو چھبیس دن قوم کا وقت ضائع کیا تھا۔ خود تو چار سال میں مہنگائی سے عوام کا بھر کس نکال دیا، نیازی صاحب باز آجاؤ ہم تمہاری غلیظ زبان کا جواب اچھے سے دیں گے۔ جو تم نے عوام کے ساتھ کیا ہے اس کا پورا حساب لیں گے اور اگر تم باز نہ آئے تو تمھاری سیاست کو بنی گالہ سے اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں گے۔عمران نیازی عید کے بعد جہاں تم جلسہ کرو گے ہم بھی وہاں جلسہ کریں گے، جس علاقے میں کھڑا ہوں اس میں عوام کی خدمت کروں گا، عام انتخابات میں ہرجگہ شیر دھاڑے گا۔
