کاشانہ اسکینڈل کی اہم گواہ اقراء کائنات کی موت بھوک اور پیاس سے ہوئی

کاشانہ اسکینڈل کی اہم گواہ اقراء کائنات کی پوسٹ مارٹم سامنے آ گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس کی موت بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہوئی۔
ایدھی سنٹر میں پراسرار طور پر انتقال کرنے والی لڑکی کی موت نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے تھے۔ اقراء کائنات کے انتقال کے بعد اپنے ویڈیو بیان میں کاشانہ کی سابق سپرینٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کہا تھا کہ ایدھی سنٹر کی انچارج معصومہ کی جانب سے اقرا ء کائنات کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا او ر اسے لا وارث قرار دے کر اس کی تدفین کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ اگر میں یہ معاملہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نہ لاتی تو اب تک اقراء کائنات کو گمنامی کی حالت میں دفن کر دیا گیا ہوتا ۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ اقراء کائنات کاشانہ میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی گواہ تھی۔ آج اقراء کائنات کی پوسٹ مارٹم سامنے آ گئی ہے۔جس میں ان کی موت کی وجہ بھوک پیاس بتائی گئی ہے۔پورسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق کائنات کو زیر دینے یا نہ دینے سے متعلق مزید معلومات کے لیے اس کے پیٹ سے مزید نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں۔فرانزاک رپورٹ میں زہر دینے سے متعلق رپورٹ سامنے آئے گی۔
خیال رہے کہ اقراء کائنات نے انتقال سے قبل 17 دسمبر کو اپنا آخری بیان باغبان پولیس کو دیا تھا،پولیس کا کہنا تھا کہ اقراء کائنات نے اپنے آخری بیان میں کہا کہ اس کے شوہر نے اُسے بلیچ پلایا جس سے معدے میں انفیکشن ہوا،جبکہ کاشانہ کی سپرینٹنڈنٹ افشاں لطیف نے نہ صرف اس کی زبردستی شادی کروائی بلکہ عمر بھی زیادہ لکھوائی تھی،اس کی عمر صرف 14 سال ہے۔
