کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے وصیت لکھوا دی

لاہورکے علاقے ٹاون شپ میں واقع یتیم اور بے سہارا بچیوں کے مرکز کاشانہ میں رہائش پذیر کم عمر لڑکیوں کی شادیاں کرانے کا مبینہ سکینڈل منظر عام پر لانے والے کاشانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ نے اپنی جان کو خطرے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وصیت نامہ تیار کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کچ عرصہ قبل ایک سکینڈل منظر عام پر لے کر آئی تھیں اور انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ عرصہ دراز سے کاشانہ میں رہائش پذیر کم عمرلڑکیوں کی زبردستی شادیاں کرائی جارہی ہیں اورصوبائی وزیر اجمل چیمہ بھی بچیوں سے ملتے تھے جس میں سابق سپرنٹنڈنٹ بھی ملوث تھی۔ افشاں لطیف کی طرف سے صوبائی وزراء اور انتظامیہ پر جنسی ہراسگی کے الزامات پر پنجاب حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے کابینہ اراکین کو کلئیر قرار دے دیا تھا بعدازاں افشاں لطیف نے اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور اپنی درخواست میں معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی استدعا کی ہے جبکہ افشاں لطیف کے الزامات کو چیئرمین پنجاب بیت المال ملک اعظم اور اجمل چیمہ نے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کا ڈرامہ قرار دیا تھا جبکہ سابقہ سپرنٹنڈنٹ نے بھی اِن الزامات کی تردید کی تھی۔
تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اپنی جان کو درپیش خطرات کے پیش نظر وصیت لکھ دی ہے۔ انھوں نے اپنی وصیت میں لکھا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے چاروں بچوں کو فوج اور عدلیہ کی تحویل میں دے دیا جائے۔ پس منظر کو دیکھا جائے گا کہ کاشانہ ہاوس کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان، سپریم کورٹ پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے درخواست کی تھی کہ وہ ان یتیم بچیوں کے مستقبل کے لئے اس کا ساتھ دیں۔ ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بچیوں کو ذہنی اور جسمانی ہراسگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، میری درخواست ہے کہ میری درخواست پر فوری کارروائی کی جائے ۔افشاں لطیف نے درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاشانہ ہاو س میں رات کے اندھیرے میں اجنبی لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے ان یتیم بچیوں کے مستقبل کو خطرہ ہے۔
