کامران اکمل نے کس طرح عمراکمل کا کیریئر تباہ کیا؟

میچ فکسکنگ کی پیشکش بارے کرکٹ بورڈ کو بروقت آگاہ نہ کرنے پر تین سال کی پابندی کا شکارعمر اکمل میدان کے اندر جتنے بڑے کھلاڑی تھے میدان سے باہر ان کی شخصیت اتنے ہی مسائل کا شکار تھی۔ عمر اکمل کو اس صورتحال سے دوچار کرنے میں ان کے بڑے بھائی کامران اکمل کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عمر اکمل کو منفی معاملات پر بھی مسلسل بڑے بھائی کا غیر مشروط تعاون حاصل رہا جس کی وجہ سے آج وہ کھیل کے میدان سے باہر ہو چکے ہیں۔
عموما بڑے بھائی ہمیشہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو چلاتے ہیں، اچھے بُرے کی تمیز سکھاتے ہیں، اندھی کھائیوں میں گرنے سے بچاتے ہیں، لیکن کامران اکمل اپنی یہ ذمہ داری نبھانے میں یکسر ناکام رہے اوربد نصیب عمر اکمل بھائی کی آشیرباد سے ہی اپنا کیرئیر تاریک کر بیٹھے۔ عمر اکمل نے کیرئیر میں ڈسپلن کی پہلی خلاف ورزی یا حماقت بھائی کی محبت میں کی۔ سڈنی ٹیسٹ کی ناقابلِ فراموش اور ذلت آمیز شکست کے بعد کامران اکمل کو مسلسل 42 ٹیسٹ میچوں کے بعد پہلی بار ڈراپ کیا گیا تو ان کا اپنا رویہ تو مایوس کن تھا ہی انہوں نے عمر اکمل کو بھی اپنے پیچھے لگا لیا اور عمر اکمل نے کمر درد کا بہانہ بنا کھیلنے سے معذرت کرلی جو بعد میں مکمل جھوٹ ثابت ہوا۔ اس پر جہاں عمر اکمل پر جرمانہ عائد کیا گیا وہیں اسے سبکی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس صورتحال میں بھی بطور سینئیر کھلاڑی عمر اکمل کو سمجھانے کی بجائے کامران اکمل نے نوعمر نا سمجھ بھائی کو اپنی خود غرضی کی بھینٹ چڑھادیا۔
تسہم 2011ء عمر اکمل کے لیے بہترین سال ثابت ہوا۔ عمر کو مسلسل کھیلنے کا موقع ملا اور انہوں نے تسلسل سے اسکور بھی کیے اور اپنا رویہ بھی عمدہ رکھا۔ یہی ان کا سب سے بہترین سال بھی رہا۔ یونس خان اور مصباح الحق کے زیرِ قیادت انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی ۔ بگاڑ وہاں سے شروع ہوا جب سڈنی ٹیسٹ کے بعد وہ پلئیرز پاور اور خاندان کو ملک پر ترجیح دینے کے مرتکب ہوئے۔ اس میں انھیں محمد یوسف کی حمایت بھی حاصل تھی لیکن پھر عمر اکمل دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ میں اتنا عمدہ کھیل نہیں دکھا سکے۔ 2011 میں جہاں محدود اوورز میں ان کا کھیل شاندار تھا وہیں یہ سال ان کے ٹیسٹ کیرئیر کے اختتام کا سال ثابت ہوا۔
2012 میں عمر اکمل کی منفی جبلت لوٹ کر آئی اور ٹی20 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں امپائر کی اجازت کے بغیر دستانے بدلنے کے جرم کے ارتکاب سے آگے ان کا سفر چڑھائی سے زیادہ اترائی کا رہا۔ ایک بڑا بلے باز جو لاکھوں شائقین کے دل میں گھر کرچکا تھا اپنے بچپنے کی نذر ہو رہا تھا۔ عمر اکمل کی ٹیسٹ ٹیم سے چھٹی ہو چکی تھی۔ ون ڈے میں اب وہ کھیل کے میدان سے زیادہ آؤٹ ڈور سرگرمیوں کی وجہ سے زیرِ بحث تھا۔ 2014ء میں انہیں ٹریفک وارڈن سے جھگڑے پر ایک رات حوالات میں گزارنا پڑی۔ میدان کے باہر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ ایک مستند غیر سنجیدہ کرکٹر کا روپ دھار چکے تھے۔ حالانکہ کامران اکمل چھوٹے بھائی کو شہرت کے ساتھ ذمہ داری کا درس دے کر ان کے ڈوبتے کیرئیر کو بچا سکتے تھے لیکن ایسا انہیں ہوا۔ اس تمام صورتحال میں بھی عمر اکمل نے چھوٹے بھائی کی درست سمت میں رہنمائی کی بجائے انھیں غیر مشروط تعاون اور حمایت ہی فراہم کی جو مزید بگاڑ کا سبب بنی ۔
2015 کے ورلڈکپ میں واجبی کارکردگی اور ٹیم سے اخراج کے بعد عمر اکمل ایک بگڑے ہوئے شہزادے بن گئے۔ فیصل آباد کا تھیٹر ہو یا جنید خان جیسے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ جھگڑا، عمر اکمل مسلسل ڈھلوان کے سفر میں تھے۔ کارکردگی اور فٹنس دونوں بیٹھنے لگی تھیں حتیٰ کہ چمپئینز ٹرافی سے پہلے انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ یوں مکی آرتھر اور عمر اکمل کے درمیان معاملات بگڑے۔ عمر اکمل نے ایک پریس کانفرنس میں کوچ پر گالیاں دینے کا الزام لگا دیا۔
پھر بیچ میں چند میچوں کے لیے کم بیک ہوا لیکن وہ اب اپنا جوبن کھو چکے تھے۔ اب عمر اکمل کو اپنے بیٹنگ نمبر سے شکایات تھیں۔ انہیں وکٹ کیپنگ سے مسائل تھے۔ وہ جھگڑالو تو تھے ہی اب شکایتی بچے بھی بن چکے تھے۔ ایک بار تو وزیرِاعظم عمران خان کے پاس اپنے بیٹنگ نمبر کی سفارش کے لیے پہنچ گئے تھے۔مکی آرتھر چلے گئے لیکن اس کے بعد بھی عمر اکمل کی شکایات وہی رہیں۔ نیشنل کرکٹ اکیڈیمی میں ٹیسٹ کے موقع پر شرٹ اتار کر جسم دکھانا اور پوچھنا کہ کہاں ہے چربی؟ عمر کے شہدے پن کی ایک اور مثال ہے۔ اپنے مختصر کرکٹ کیرئیر کے دوران عمر اکمل کو ہر کوچ اور ٹیم مینجمنٹ سے مسئلہ ہی رہا۔ منفیت اور خود ترسی جیسی بیماریاں انہیں اپنی گرفت میں لے چکی تھیں تاہم اس تمام تر صورتحال میں کامران اکمل یا تو خاموش رہے یا چھوٹے بھائی کی ناجائز حمایت کرتے نظر آئے۔ جس کے تنیجہ کے طور پر رواں سال پی ای ایل یعنی پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے قبل ہی بکیوں کی طرف سے رابطوں کو حسب روایت غیر سنجیدہ لینے پر ان پر پی سی بی نے تین سال کی پابندی عائد کر دی یوں عملاً عمر اکمل کا کرکٹ کیرئیر ختم ہو گیا۔
پی سی بی ڈسپلنری کمیٹی میں پیشی کے دوران عمر اکمل پاکستان کرکٹ بورڈ کو رابطوں کی رپورٹ نہ کرنے کی باقاعدہ دلیل پیش کرتے رہے، جواز تراشتے رہے، بحث کرتے رہے۔ عمر اکمل کی یہی نادانی اور نا سمجھی ان پر تین سال کی پابندی کا سبب بنی حالانکہ کامران اکمل اپنے چھوٹے بھائی کی اس حوالے سے رہنمائی کرتے ہوئے انھیں فوری حکام کو آگاہ کرنے کی ترغیب دے سکتے تھے اور بتا سکتے تھے کہ ماضی میں محمد نواز اور محمد عرفان بھی اسی قسم کے الزام کے تحت چند ماہ کی سزائیں بھگت چکے ہیں۔ انہوں نے بھی دیر سے رابطے رپورٹ کیے تھے تاہم ازخود رپورٹ کیے تھے اور اپنی سستی پر شرمندگی کا اظہار کرکے معافی کے طلبگار ہوئے تھے۔
عمر اکمل پی سی بی کے فیصلے کے خلاف 14 دن میں اپیل دائر کرسکتے ہیں تاہم اگر کوئی ڈرامائی تبدیلی نہ آئی تو عمر اکمل ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ یوں عمر اکمل اپنے بھائی کی خود غرضی، اپنی نادانی، شہرت کو سنبھال نہ پانے کی اہلیت اور کیرئیر کے ابتدائی سالوں میں چند سازشی کھلاڑیوں کے ساتھ کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے کرکٹ کے میدان سے دور ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button