گورنر سندھ کامران ٹیسوری اپنی کرسی بچانے میں نا کام کیوں رہے؟

 

 

 

 

بطور گورنر سندھ اپنی کرسی بچانے کی سر توڑ کوششیں کرنے والے کامران خان ٹیسوری بالآخر ناکام ہو گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تقریباً سوا تین سال بعد انہیں گورنر سندھ کے عہدے سے ہٹاکران کی جگہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو نیا گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے کامران ٹیسوری کو ابتدا میں مسلم لیگ (ن) کے کوٹے پر گورنر سندھ تعینات کیا گیا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے  پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ان سے خاصی نالاں ہو گئی تھی۔ اسی وجہ سے گزشتہ کافی عرصے سے ان کی تبدیلی کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں کی جانب سے کامران ٹیسوری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ تاہم حالیہ دنوں اسٹیبلشمنٹ میں تقرر و تبادلے ہوئے اور مقتدر حلقوں میں موجود کامران ٹیسوری کی حمایتی شخص کی اپنی چھٹی کا پروانہ سامنے آگیا۔ کامران ٹیسوری کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی کرسی بچانے کے لیے ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کی بھی مدد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ بھی ٹیسوری کو بچانے میں ناکام رہے ۔ جس کے بعد وفاقی حکومت نے بھی کامران ٹیسوری کو گھر بھجوا کر لیگی رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

 

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نہال ہاشمی کی بطور گورنر سندھ تقرری کی سمری منظوری کیلئے آصف علی زرداری کو ارسال کر دی ہے۔ صدر زرداری کی منظوری کے فوری بعد کامران ٹیسوری کو عہدے سے ہٹا کر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے نہال ہاشمی طویل عرصے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں اور پارٹی کے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 1997 سے 1999 تک وزیراعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں مشیر برائے قانون و انصاف بھی رہ چکے ہیں۔ 2012 میں انہوں نے کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں، جبکہ اگست 2014 میں انہیں مسلم لیگ ن سندھ کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں 2015 میں وہ پنجاب کی نشست پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ تاہم 2017 میں پاناما کیس سے متعلق ایک متنازع بیان کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا، تاہم بعد میں 2021 میں ان کی پارٹی رکنیت بحال کر دی گئی۔ اب وفاقی حکومت نے انہیں گورنر سندھ کے عہدے کیلئے نامزد کر دیا ہے۔

 

یاد رہے کہ کامران ٹیسوری کو اکتوبر 2022 میں گورنر سندھ تعینات کیا گیا تھا۔ انھوں نے 9 اکتوبر 2022 کو گورنر سندھ کا حلف اٹھایا تھا۔  ان کی تقرری اتحادی وفاقی حکومت کی منظوری سے عمل میں آئی تھی۔نون لیگی حکومت کی جانب سے ان کی تعیناتی میں پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت بھی شامل تھی۔  گورنر بننے کے بعد سے انہوں نے بالخصوص کراچی کے بلدیاتی مسائل، امن و امان اور شہری سہولیات کے حوالے سے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں اختلافات بڑھنے کے بعد سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت سے باقاعدہ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا تھا۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ گورنر سندھ آئینی منصب پر فائز ہونے کے باوجود سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے اختیارات کو ایم کیو ایم کے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو آئین کی روح کے منافی ہے۔  دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر اور صوبائی حکومت کے درمیان مسلسل اختلافات انتظامی ہم آہنگی میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ صوبائی معاملات میں مداخلت اور پالیسی امور پر تنقیدی بیانات نے ورکنگ ریلیشن شپ کو متاثر کر رکھا تھا، جس کے باعث حکومتی امور میں غیر ضروری تناؤ پیدا ہو رہا تھا۔ تاہم اب وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی کے مطالبے پر کامران ٹیسوری کی جگی نہال ہاشمی کو گورنر سندھ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پیپلز پارٹی مریم کی پنجاب حکومت میں عملا شامل ہو گئی

مبصرین کے مطابق صرف نون لیگ اور پیپلز پارٹی قیادت ہی کامران ٹیسوری کے خلاف نہیں ہے بلکہ کامران ٹیسوری کو گورنر بننے کے بعد سے اپنی ہی جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے بھی سخت مخالفت کا سامنا رہا تھا، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کی مسلسل یہ خواہش رہی ہے کہ کامران ٹیسوری کو ہٹا کر ان کی جگہ پارٹی کے کسی مرکزی رہنما کو گورنر سندھ بنایا جائے۔ تاہم طاقتور حلقوں سے اچھے تعلقات کی بنا پر کامران ٹیسوری ہمیشہ اپنی کرسی بچانے میں کامیاب رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بطورگورنر سندھ کامران ٹیسوری نے جہاں ایم کیو ایم کی بحالی اور پی ایس پی کی ایم کیو ایم میں واپس شمولیت کے معاملے میں اہم کردار ادا کیا وہیں نہ صرف خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال کو ایک پلٹ فارم پر اکھٹا کیا بلکہ سابق سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی دوبارہ ایم کیو ایم کا حصہ بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ کامران ٹیسوری نے گورنر ہاوس میں کئی نئی روایات بھی قائم کیں، جس گورنر ہاوس میں عام شہریوں کو جانے کے لیے جتن کرنا پڑتے تھے وہاں انھوں نے آئی ٹی کورسز، لوٹ مار کا شکار شہریوں کی مدد، راشن کی تقسیم سمیت دیگر فلاحی کاموں کا سلسلہ شروع کیا اور عام شہری ان سہولیات سے مستفید ہونے لگے۔گورنر سندھ کے عوامی اجتماعات اور فلاحی سرگرمیوں پر مخالفین نے ان پر الزام عائد کیا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری گورنر ہاؤس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں جو آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور اعتراضات بڑھنے کے بعد بالآخر وفاقی حکومت نے کامران ٹیسوری کی چھٹی کروا کر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

Back to top button