کامیاب جوان پروگرام کے دوسرے مرحلے کی منظوری، 25 ارب روپے جاری

حکومت نے کامیاب جوان پروگرام کا دوسرا مرحلہ فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں فوری طور پر 25ارب روپے جاری کردیے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو مراسلہ جاری کردیا ہے اور شرح سود بھی 6 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کردی گئی ہے۔ حکومت نے قرض پر مارک اپ میں کمی کے ساتھ ساتھ قرض کی حد 50 لاکھ سے بڑھا کر اڑھائی کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار نے کہا کہ جو نوجوان مشکلات کا شکار ہیں وہ اس پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور صرف کاروبار کا منصوبہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں نوجوانوں کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا کر دیا ہے اور بنا گارنٹی قرض کی حد بھی 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس نئی اسکیم میں ملک بھر کے تمام اسلامی بینکس بھی پروگرام میں شامل ہوں گے اور وزیر اعظم کامیاب جوان پروگرام کے اہم خدوخال میں تبدیلی کرتے ہوئے قرض کی مالیت کو 3 درجوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک کے قرضے 3 فیصد شرح سود پر دیے جائیں گے جب کہ 10 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے قرضے 4 فیصد شرح سود پر دیے جائیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایک کروڑ سے ڈھائی کروڑ روپے تک کے قرضے 5 فیصد شرح سود پر دیے جائیں گے جبکہ قومی شناختی کارڈ کے حامل 21 تا 45 برس کے مرد و خواتین اس قرض کے اہل ہوں گے۔ اس سلسلے میں مزید بتایا گیا کہ آئی ٹی، ای کامرس سے متعلق کاروبار کے لیے عمر کی کم سے کم حد 18 برس ہو گی جب کہ مشینری اور آلات کے لیے طویل المدتی قرض دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جبکہ قرض واپسی کے لیے ایک سال کا گریس پیریڈ بھی دیا جائے گا جب کہ مختص کردہ رقم میں سے 25 فیصد قرض خواتین کو دیا جائے گا۔ سرکاری بینک کے مطابق وزارت خزانہ ہر سال اسٹیٹ بینک کے تخمینہ کے مطابق فنڈز جاری کرے گی اور کامیاب جوان کے تحت پہلے سے دیے گئے قرض نئے ضوابط میں ڈھال دیے گئے ہیں اور ان نئے ضوابط کا اطلاق یکم جولائی 2020 سے ہو گا۔
واضح رہے کہ کامیاب جوان پروگرام گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعظم عمران خان نے شروع کیا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت 10 لاکھ نوجوانوں کو میرٹ پر قرض دیں گے اور 100 ارب روپے کے قرضوں میں سے 25 ارب خواتین کے لیے ہوں گے اور ایک لاکھ روپے کے قرض پر کوئی سود نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button