کامیاب فلمی خاندان کے ناکام بیٹے راجیو کپور کی کہانی


راج کپور کے بیٹے اور رشی کپور اور رنبیر کپور کے چھوٹے بھائی راجیو کپور اپنے خاندان کے وہ واحد فرد تھے جن کے بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کامیابی اور شہرت ان سے کوسوں دور رہی۔ راجیو کپور کی آرزو ہی رہی کہ کپور خاندان کا چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے ان پر فلموں کی برسات ہو لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
راجیو کپور کا خیال تھا کہ ان کے نام کے ساتھ کپور خاندان جڑا ہے اسی لیے انہیں بالی وڈ فلموں میں ہاتھ ہاتھ لیا جائے گا۔ والد راج کپور کے ساتھ مختلف فلموں میں اسٹنٹ رہ چکے تھے جبکہ بھائیوں رندھیر اور رشی کپور کو دیکھ کر ان کے دل میں خیال آتا تھا کہ درحقیقت ان کی جگہ کیمرے کے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہے۔
اسی لیے کئی بار راج کپور سے بھی دبے دبے لفظوں میں ہیرو بننے کی خواہش ظاہر کی لیکن راج کپور کو جوہری کی طرح ہیرا پرکھنے کا فن آتا تھا۔ اسی لیے وہ اکثر اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی اس فرمائش کو ٹالتے رہتے۔
لیکن راجیو کپور نے بھی ٹھان لی تھی کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، وہ ہیرو تو بن کر ہی دکھائیں گے۔ اسی لیے انہوں نے ذاتی طور پر ہدایت کاروں سے رابطے کرنا شروع کر دیے۔ ہدایت کار راجیو مہرہ جو نئے  اداکاروں کے ساتھ  فلم بنانے کی تیاری کر رہے تھے، ان تک یہ خبر پہنچی کہ پرتھوی راج کپور کا پوتا اور راج کپور کا بیٹا اداکار بننے کے لیے مچل رہا ہے تو انہوں نے کپور خاندان کے نام کو کیش کرانے کا فیصلہ کیا اور پھر 1983 میں بالکل نئی کاسٹ کے ساتھ ’ایک جاں ہیں ہم‘ نامی فلم بنانے کا آغاز کیا۔ جس میں راجیو کپور ہیرو تو ہیروئن کے لیے دیویا رانا کو چنا گیا۔
یہ فلم پیار اور محبت کے گرد گھومتی روایتی کہانی تھی اور ہدایت کار کو یقین تھا کہ راجیو کپور کو دیکھنے کے لیے فلم بین سینیما گھروں میں آ کر ان کا اور فلم ساز کا فائدہ کر جائیں گے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس فلم بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی، حالانکہ اس تخلیق کے گانے ’یاد تری آئے گی مجھ کو بڑا ستائے گی  اور ’آسمان پے لکھ دو نام ترا‘ اپنے وقت کے مشہور ترین رہے۔ 
فلم تو ناکام رہی لیکن ’ایک جاں ہیں ہم‘ سے راجیو کپور کو یہ فائدہ ہوا کہ انہوں نے اداکاری کے میدان میں باقاعدہ  قدم رکھ دیا، وہیں انکی محبت کی کہانی ہیروئن دیویا رانا  کے ساتھ شروع ہوئی۔ جنکے ساتھ وہ اگلی فلم ’آسمان‘ میں بھی نظر آئے۔ اب یہ راجیو کپور کی بدقسمتی ہی کہی جا سکتی ہے کہ ان کی یہ فلم بھی ناکام ہو گئی۔ راجیو کپور نے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ والد راج کپور کا سہارہ لیے بغیر فلمی نگری میں قدم جما کر دکھائیں گے۔ ابتدائی دو ناکامیوں کے بعد بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ 1985میں ’میرا ساتھی اور لاوا میں کام کیا، مگر نتائج وہی آئے جس کی راجیو کپور کو توقع نہ تھی۔ قسمت کی دیوی تو جیسے ان سے روٹھی ہوئی تھی۔ فلم پنڈتوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ راجیو کپور کسی صورت منافع بخش کامیاب اداکار نہیں۔ ناکام ہیرو کا داغ ان کے ماتھے پر سج گیا تھا۔
راجیو کپور کو والد راج کپور سے شکوہ تھا کہ آخر ان کی نظر کرم کب ان پر مہربان ہو گی۔ راج کپور بھی بیٹے کی اس ساری صورتحال سے بخوبی واقف تھے۔ جانتے تھے کہ راجیو نے اب تک جن فلموں میں کام کیا وہ ساری کی ساری آر کے بینر تلے تیار نہیں ہوئی تھیں اور باکس آفس پر کوئی ہلچل نہ مچا سکیں۔ اسی دوران ہدایت کار ناصر حسین نے راجیو کپور کو فلم ’زبردست‘ میں سنی دیول کے ساتھ پیش کیا، جس کا ایک گیت ’جب چاہا یارا تم نے آنکھوں سے مارا تم نے‘ خاصا مقبول ہوا۔ رتی اگنی ہوتری اور راجیو کپور پر فلمائے اس گانے کو خاصی پذیرائی ملی۔ یہ راجیو کپور کی اب تک کی فلموں کے مقابلے میں کسی حد تک کامیاب کہی جا سکتی ہے، ناقد پھر بھی یہ کہتے تھے کہ ’زبردست‘ میں راجیو کا کیا کمال تھا، ہیرو سنی دیول تھے راجیو کپور تو بس سائیڈ ہیرو ہی کہے جا سکتے ہیں۔ یہ تنقید راجیو کپور بھی دل پر پتھر رکھ کر برداشت کرتے جا رہے تھے۔ پھر آخر کار راج کپور کو راجیو کپور پر ترس آ ہی گیا ۔ جنہوں نے یہ سمجھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ راجیو کپور کی اداکارانہ صلاحیتوں کی آزمائش اپنی فلم کے لیے لیں۔ ابتدا میں ’رام تری گنگا میلی‘ میں کسی صورت راجیو کپور ان کا پہلا انتخاب نہیں تھے مگر اس کے باوجود راج کپور نے اس تخلیق میں راجیو کپور کو ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ راجیو کپور اور منداکنی کی ’رام تری گنگا میلی‘ جب نمائش کے لیے پیش کی گئی تو اس فلم نے کاروباری اعتبار سے سب کو چونکا دیا۔ کہانی اور ڈائریکشن کا معیار بھی غیر معمولی رہا۔ جبھی اس کے دامن میں پانچ فلم فئیر ایوارڈز بھی آئے۔
فلم کے سبھی گانے مشہور ہوئے اور اس کامیابی کے بعد راجیو کپور کو امید ہونے لگی کہ اب وہ واقعی ہر فلم ساز کی ضرورت بن جائیں گے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ بیشتر فلم تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ درحقیقت یہ فلم منداکنی کی تھی، راجیو کپور کا کردار تو بس گزارے لائق تھا۔ جرائد میں یہاں تک لکھا گیا کہ یہ کردار کوئی بھی دوسرا اداکار کرتا، فلم اس کے باوجود باکس آفس پرہٹ ہوتی۔
گو کہ راجیو کپور نے ’رام تری گنگا میلی‘ میں اپنی گرل فرینڈ دیویا رانا کو بھی سفارش کر کے شامل کرایا تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر راجیو کپور سے پھر دوریاں اختیار کر لیں کہ فلم میں ان کا کردار ایڈٹ ٹیبل پر غیرضروری طور پر کاٹا گیا اور پھر دونوں کبھی مل نہ سکے۔ راجیو کپور کی آرزو ہی رہی کہ کپور خاندان کا چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے ان پر فلموں کی برسات ہو لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
جبھی ’رام تیری گنگا میلی‘ کے بعد انگارے، پریتی، زلزلہ، ہم تو چلے پردیس، شکریہ، ناگ ناگن اور زمیندار میں کام کرنے کے بعد انہوں نے ذہنی طور پر تسلیم کررلیا کہ وہ اداکار نہیں ہیں اور یوں صرف چھ سال کا مختصر فلم کیریئر 1989میں اختتام پذیر ہو گیا۔ راجیو کپور کو پھر سب نے کیمرے کے عقب میں ہی دیکھا۔ بطور پرڈویوسر ’حنا‘ اور ’آ اب لوٹ چلیں‘ کے اینڈ کریڈٹ پر ان کا نام جھلمایا۔ البتہ ہدایت کار کے طور پر جب 1996میں مادھوری اور رشی کپور کو لے کر ’پریم گرنتھ‘ بنائی تو یہ تخلیق متاثر نہ کر سکی۔ جبکہ راجیو کپور نے والد کی طرح سماجی موضوعات کو اس میں نمایاں کیا تھا جو ان کے والد راج کپور کی فلموں کا خاصا ہوتا لیکن پھر بھی باکس آفس پر اس کے دامن میں خاطر خواہ کامیابی نہ آئی۔
راجیو، کپور خاندان کے وہ رکن ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ کامیابی اور شہرت ان سے دور رہی۔ 58 برس کے راجیو کپور عمر کے آخری حصے میں والد کے پروڈکشن ہاؤس اور دیگر فلمی منصوبوں میں مصروف رہے اور پھر دل کا دورہ پڑنے کے باعث 9 فروری 2021 کو چل بسے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button