کامیڈینز جنہوں نے فحاشی کی وجہ سے تھیٹر کو چھوڑ دیا

پاکستان میں ایسے بہت سے مزاحیہ اداکار ہیں جنہوں نے اسٹیج ڈراموں سے اپنا کیرئیر بنایا اور اسٹیج ہی ان کی پہچان بنا، تھیٹر نے انہیں عزت دولت اور شہرت سے نوازا، لیکن پھر تھیٹر پر ایک ایسا وقت آیا جب اس پر ناچ گانے اور فحاشی چھا گئی اور ان حالات میں کام کرنا عزت دار اداکاروں کےلئے ناممکن ہوگیا لہٰذا انہوں نے تھیٹر اور اسٹیج سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

اداکار سہیل احمد کو اداکاری کا شہنشاہ مانا جاتا ہے جنہوں نے مزاح اور سنجیدہ دونوں ہی فیلڈز میں اپنا لوہا منوایا، انہوں نے اس فیلڈ میں آنے کےلئے بہت پاپڑ بیلے، مستانہ اور امان اﷲ ان کے بہترین ساتھیوں میں تھے۔ تھیٹر اور سٹیج پر سہیل احمد نے بہت باعزت طریقے سے اپنا کیریئر بنایا، اس دوران انہوں نے بہت اچھا وقت دیکھا لیکن پھر ایک دور ایسا آیا جب ہر جگہ کمرشل ازم کی وجہ سے فحاشی کا ڈیرا ہوگیا اور اچھے سے اچھا ڈرامہ عریانیت کی نذر ہو گیا، حالات اتنے خراب ہوئے کے سٹیج ڈانسرز نے شوز کے دوران اپنے کپڑے اتارنا شروع کر دئیے۔ یہ بات ان کےلئے ناقابل برداشت تھی۔ لہذا انہوں نے تھیٹر سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ٹیلی ویژن پر فوکس کر لیا جہاں وہ آج کامیابی کی ضمانت ہیں۔

انور علی ایک ایسے آرٹسٹ تھے جنہیں تھیٹر کی پہچان مانا جاتا تھا، ان کے آنے سے ڈرامہ مکمل ہو جاتا تھا، لیکن پھر انہوں نے دیکھا کہ وہ جگہ جہاں انہوں نے اپنے ٹیلنٹ کو منوایا وہاں لوگ کمرشلزم اور پیسہ کے حصول کےلیے فحاشی اور عریانیت پھیلا رہے ہیں۔ چنانچہ ان کی برداشت ختم ہوگئی اور انہوں نے صرف تھیٹر ہی نہیں بلکہ شوبز کو ہی خدا حافظ کہہ دیا۔ اب وہ ایک مکمل مذہبی انداز سے باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔۔

لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی شیبا حسن اپنے والد کے انتقال کے بعد تھیٹر کی جانب آئیں اور الحمرا آرٹس کونسل میں روزگار کمانے کی غرض سے کام شروع کیا، وہیں پر ان کی ملاقات اداکار حامد رانا سے ہوئی اور پھر دونوں نے ایک ساتھ مل کر ایک ایسی جوڑی بنائی جو ہر اسٹیج ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جانے لگی۔ لیکن جس گھرانے سے وہ تھیں وہاں فحاشی اور عریانیت کو بہت ہی برا مانا جاتا تھا اس لئے جب تھیٹر میں یہ رنگ نظر آنے لگے تو انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔

پڑھے لکھے اداکاروں میں خالد عباس ڈار کا نام جانا مانا ہے جنہوں نے تھیٹر میں اچھے مذاق کا فن متعارف کروایا اور اپنی شخصیت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیا، ان کی موجودگی بھی ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی لیکن پھر وہ بھی بڑھتی فحاشی کے ماحول سے گھبرا گئے اور تھیٹر کو چھوڑ کر ٹی وی کی جانب چلے گئے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button