کامیڈین امان اللہ خان کو تین شادیاں لے ڈوبیں

سٹینڈ اپ کامیڈی کا بے تاج بادشاہ امان اللہ خان زندگی کی ستر بہاریں دیکھنے کے بعد دنیا فانی چھوڑ گیا۔ کیکن شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ اپنے 35 سالہ کریئر کے دوران ہزاروں سٹیج ڈراموں میں لاکھوں چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا یہ عظیم فن کار اپنے دل میں اہل خانہ اور بچوں کے گلے شکوے اور تین شادیوں کا پچھتاوا لیے دنیا سے گیا۔ امان اللہ نے مرنے سے پہلے مردوں کو نصیحت کی کہ ایک سے زائد شادی نہ کرنا ورنہ زندگی اجیرن ہو جائے گی۔
1950 میں آنکھ کھولنے والے امان اللہ خان نے اپنا بچپن بڑی غربت میں گزارا۔ ایک انٹرویو میں امان اللہ خان نے بتایا تھا کہ ان کے والد اکثر ان کی پٹائی کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں بہت جلد روزی روٹی کی فکر لاحق ہوگئی۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ امان اللہ نے اسکول کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ٹین ایج میں ہی دربار حضرت داتا صاحب کے علاقے میں تسبیح اور ٹوپیاں فروخت کرنا شروع کر دی تھیں۔ جب کچھ پیسے جیب میں آنا شروع ہوئے تو صبح کے وقت بند مکھن بیچ کر دیہاڑی بناتے اور شام کو شوق پورا کرنے کے لیے استاد غلام علی خان کے پاس جاکر موسیقی سیکھتے۔ امان اللہ خان کے بقول انہیں فنون لطیفہ سے شروع سے ہی دلچسپی تھی۔ عنایت حسین بھٹی اور عالم لوہار کے عروج کے دور میں امان اللہ اکثر تھیٹر پر پہنچ جاتے اور وہاں اپنی بذلہ سنجی سے سب کو خوب محظوظ کرتے۔
امان اللہ اکثر بتایا کرتے تھے کہ ان کی زندگی میں سب سے پرسکون دور وہی تھا جب یہ داتا صاحب کے قریب تسبیح اور ٹوپیاں بیچ کرتے تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ مجھے لگتا تھا کہ میں داتا دربار نہیں بلکہ جنت میں رہتا ہوں، یہ میری زندگی کا بہترین دور تھا۔ 23 سال کی عمر میں امان اللہ کی اپنی کزن کے ساتھ شادی ہو گئی جس کے بعد انہوں نے تھیٹر کی دنیا میں کیریئر بنانے پر تمام تر توجہ مرکوز کرلی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جہاں فلمی دنیا میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی کے نام کا ڈنکا بجتا تھا وہی تھیٹر پر امان اللہ خان کے نام کا طوطی بولتا تھا۔ امان اللہ بڑی تیزی سے کامیابی کی منزلیں طے کر رہے تھے کہ اس دوران ان کے دل میں دوسری شادی کی خواہش مچلنا شروع ہوئی اور یہیں سے انہوں نے مصیبتوں اور بیماریوں کو دعوت دے ڈالی۔
امان اللہ نے 30 برس کی عمر میں دوسری شادی کی۔ پہلی بیوی نے بہت شور شرابہ کیا بچے بھی ناراض ہوئے مگر امان اللہ نے کسی طرح وقتی طور پر حالات کو کنٹرول کر لیا۔ جب مالی حالات مزید بہتر ہوئے تو امان اللہ خان کو ایک اور بیوی لانے کی سوجھی اور پھر امان اللہ خان کی زندگی میں تلخیوں اور پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا۔
کہا جاتا ہے کہ پہلی بیوی سے امان اللہ خان کی تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھے مگر حسن پرست ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی پسند سے دوسری شادی کی جسے پہلی بیوی نے قبول نہیں کیا۔ بہرحال دولت اور شہرت کی دیوی امان اللہ پر فریفتہ ہو چکی تھی۔ اللہ نے ان پر اپنا فضل وکرم جاری رکھا اور انہوں نے پاکستان کے علاوہ بھی دیگر کئی ملکوں میں پرفارم کرنا شروع کردیا جہاں انہیں ایڈوانس میں لاکھوں روپے ملنے لگے۔ امان اللہ خان کے مطابق جب وہ ایک دفعہ کویت گے تو ایک شخص نے انہیں خوش ہو کر تیرہ تولے سونا دے دیا۔ انکے مطابق جب میں لندن میں پرفارم کرنے جاتا تو پاکستانی میرے ہاتھوں میں سنیکڑوں پاؤنڈ پکڑا دیتے۔
خیر امان اللہ خان دو بیویوں میں ہونے والی لڑائی اور بچوں میں باہمی چپقلش کے اس قدر عادی ہوگئے کہ انہوں نے تیسری شادی بھی کرڈالی۔ امان اللہ خان کی پہلی بیوی کے مطابق انہیں اپنے شوہر کی دوسری شادی پر تو بہت افسوس تھا مگر جب تیسری شادی کی تو دل خوش ہوگیا کہ جو میری سوتن بن کر آئی تھی آج اسے بھی پتہ چلا کہ سوتن کا غم کیا ہوتا ہے۔
اللہ نے امان اللہ خان کو نہ صرف بے پناہ دولت اور شہرت سے نوازا بلکہ انہیں کثیر العیال اور کثیرالاولاد بنایا۔ تینوں بیویوں سے اللہ نے انہیں سات بیٹے اور سات بیٹیاں عطا کی۔ امان اللہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ میں نے اپنے بچوں کو زندگی کی ہر آسائش دی، پڑھایا لکھایا، اچھی جگہ شادی کی اور ان کا مستقبل محفوظ بنایا مگر جب ان سے پوچھا گیا کہ زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا اور سب سے بڑا دکھ کیا ہے تو امان اللہ رونا شروع ہوگئے۔۔۔
امان اللہ نے روتے ہوئے اپنے مداحوں کو مشورہ دیا کہ پاکستان جیسے معاشرے میں کبھی دوسری شادی نہ کرنا۔ بولے، ہماری عورت کبھی بھی سوتن قبول نہیں کرتی۔ عرب معاشرے میں چاہے کوئی دو سو شادیاں کرلے کوئی مسئلہ نہیں۔ پاکستان جیسے روایتی معاشرے میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والا انسان ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے۔ امان اللہ خان نے بتایا کہ اپنی بیویوں اور بچوں کے لئے اتنا کچھ کرنے کے باوجود بندہ سڑک پر ہوتا ہے۔کبھی کبھی تو سوچتا ہے کہ نہ جانے میں کیا غلطی کر بیٹھا۔ ان کے بقول زیادہ شادیاں کرنے والے کی قبر بھی روتی ہے، زندگی تلخ ہو جاتی ہے۔ لاکھ کوشش کرو کہ سب بیویوں کو خوش رکھو، تمام بچوں کو خوش رکھو مگر انسان ایسا کرنے میں ناکام ہو جاتاہے۔ بیویوں کی باہمی لڑائیاں اور سوتیلے بہن بھائیوں کی مقابلے بازیاس گھرانے کے سربراہ کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے۔
امان اللہ خان نے بھرپور زندگی گزاری۔ روپے پیسے کی ریل پیل کے باوجود امان اللہ آخری وقت میں سخت مشکلات کا شکار ہوئے۔ گزشتہ چند سال سے انہیں گردوں اور پھیپھڑے کا مرض لاحق تھا۔ تین بیویاں اور چودہ بچّے ہونے کے باوجود امان اللہ خان اپنے علاج کے لیے حکومتی امداد کے منتظر نظر آئے۔ بالآخر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بحریہ ٹاؤن ہسپتال لاہور میں ان کا علاج کروایا اور وہی امان اللہ نے زندگی کی آخری سانسیں دی۔
کہتے ہیں کہ امان اللہ خان کے ساتھ بھی ہو بہو وہی ہوا جو اس سے پہلے پاکستان کے ایک اور بہت بڑے کامیڈین رنگیلا کے ساتھ ہوا تھا۔ رنگیلا نے بھی تین شادیاں کی تھیں اور اپنے آخری انٹرویو میں یہ کہہ کر روپڑے کہ میں نے زندگی میں بڑی غلطی کی کہ میں نے تین شادیاں کیں اور تین گھر بنائے۔
انہوں نے اپنی تمام جائیداد بیویوں کے نام کروا دی جنہوں نے انہیں اپنے گھروں سے نکال دیا اور بالآخر رنگیلا نے اپنی بیٹی فرح دیبا کے گھر جان دے دی۔ رنگیلا نے اپنے آخری انٹرویو میں لوگوں کو یہ نصیحت بھی کی کہ کبھی اپنی جائیداد اپنی بیوی کے نام نہ کروانا ورنہ تمہارا وہی حشر ہوگا جو میرا ہوا۔
رنگیلا کی طرح امان اللہ خان جیسے بڑے کامیڈین بھی ہر روز پیدا نہیں ہوتے مگر امان اللہ خان نے تین شادیوں کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا قرار دیا۔ اولاد کی باہمی لڑائیوں نے امان اللہ خان کو اندر سے کھوکھلا کردیا تھا بالآخر برصغیر کا یہ نامور کامیڈین بیویوں کی لڑائی اور بچوں کے گلے شکووں کو اپنے ساتھ لے ہمیشہ کے لئے منی مٹی تلے سو گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button