کام سے روکا گیا تو عوام سے رجوع کریں گے

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر ہمیں کام سے روکا گیا تو عوام سے رجوع کریں گے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں ا نکاکہنا تھا اگر ہمیں کام کرنے سے روکا جائے گا،ہمارے ہاتھ پائوں باندھے جائیں گے اور پرفارمنس پر شکوک کا اظہار کیا جائے گاتو پھربڑی سیدھی بات ہے ک جو ذمہ دار ہیں وہ بھگتیں، معیشت کا بھٹہ ہم نے نہیں بٹھایا تو ذمہ داری کیوں لیں،ہم اتحادیوں سے مشاورت کے بعد عوام سے رجوع کریں گے۔

دریں اثنا لاہور میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مریم نواز سے متعلق عمران خان کے بیان پر میرا نقطہ نظر مختلف ہے، میں یہ کہوں گا کہ ہمارا تعلق مشرقی معاشرے سے ہے ہماری اپنی روایات ہے، خواتین کی عزت کو پامال کرنے والے ہمارے معاشرےمیں نہیں ملتے،عمران خان نے جس گھٹیا سوچ کا اظہار کیا ہے، اس حوالے سے ان کا تجربہ مجھے خراب لگتا ہے۔

وزیر داخلہ نے قبل از وقت انتخابات اور انتخابات سے متعلق مریم نواز کے بیان پر سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ اب تک حکومت اور تمام تر اتحادی جماعتوں کا یہ فیصلہ ہے کہ حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی،میں اور وزیر اعظم شہباز شریف بارہا دہرا چکے ہیں کہ ہم اپنے اتحادیوں کو سرپرائز نہیں دیں گے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا باہمی مشاورت سے کیا جائے گا، معاملہ یہ ہے کہ اس وقت جو حالات پیدا کیے جا رہے ہیں اور جو ملک کے معاشی حالات ہیں، اس میں آئی ایم ایف کا کردار ہم نے نہیں بنایا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہم نے نہیں کیا تھا، لیکن اگریہ معاہدہ بحال نہیں رکھا جاتا تو اس ملک کی معاشی صورتحال کو بحال کرنا کوئی معجزہ ہی ہوسکتا تھا،تیل کی قیمتوں کو آئی ایم ایف کے مؤقف کے مطابق بڑھا کر اگر آپ غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھینیں گے تو یہ بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گوارہ نہیں ہے،اگر وزیراعظم میاں شہباز شریف کو سپورٹ کیا جائے اور یہ سپورٹ ہر طرف سے ہو تو قوم کو یقین ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ملک کو ان حالات سے نکال سکتے ہیں، اور سے پہلے بھی کئی بار نکالا ہے، جب ایٹمی دھماکے ہوئے اس وقت بھی یہ ہی صورتحال تھی، اگر ایسا ہوگا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے جائیں اور ہمیں مختلف طریقوں سے روکا جائے، ہماری کارکردگی کو روکا جائے اور ہماری کارکردگی پر شک و شبہات کا اظہار کریں تو ہوسکتا ہے ہم اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر عوام سے رجوع کریں۔

وزیر داخلہ نے کہا ماضی میں مریم نواز کے حوالے سے اُن کے ہی بیان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ اس وقت کی بات تھی جب میرے اور سلمان تاثیر کے درمیان تنازعات چل رہے تھے، اس وقت سلمان تاثیر صاحب نے ایف آئی آر کو ایڈٹ کر کے اس کی کاپی تقسیم کی تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس ایف آئی آر میں مدعی مقدمے کے خانے میں جو نام درج ہے وہ ایک خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ کا ہے، یہ ایک من گھڑت ایف آئی آر تھی، جب یہ جھوٹ سامنے آیا تو ہم نے اس پر مزید بات نہیں کی۔

ایک سوال کہ انتخابات کے حوالے سے نواز شریف کے خیالات کیا ہیں ہیں انہوں نے کہانواز شریف چاہتے ہیں کہ مہنگائی کا بوجھ عوام پر نہ پڑے اور ہمیں کام کرنے دیا جائے اور اتحادیوں سے جو بھی گفتگو ہورہی ہے وہ ہمارے پارٹی لیڈر کی قیادت میں ان کی منشا کے مطابق ہورہی ہے، ملک کے معاشی حالات کو سنبھالنے کے لیے تمام اداروں کے ساتھ بیٹھنے میں ناکامی کی صورتحال میں کیے جانے والے فیصلوں سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بہت سیدھی بات ہے کہ ہم عوام سےرجوع کریں گے، نا اہل اور بد بخت ٹولے نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے، ہمارا کیا دھرا نہیں ہے، نہ ہم انہیں لانے والے ہیں، انہیں بٹھانے والے ہیں نہ انہیں اس گند کو پھیلانے کی اجازت دینے والے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہاہمارے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے، مقدمے کے اندراج، تفتیش اور مقدمے کی کارروائی کے دوران ہمارے ساتھ نا انصافی کی گئی، اور اس کے پیچھے شہزاد اکبر تھے، شہزاد اکبر کی پوری ٹیم اب بھی موجود ہے، اگر یہ سمجھتے ہیں پچھلے 4 سالوں میں کیس کی بہترین تفتیش ہوئی ہے تو شہزاد اکبر کو بھی لا کر بٹھا دیں، میں عدالت کی عزت و احترام سے غافل نہیں ہوسکتا، عدالت کو اختیار ہے کہ وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے فوری فیصلہ دےسکتے ہیں، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ازخود نوٹس اس بات کا بھی ہونا چاہیے کہ رات 12 بجے ایک جج کو کہا گیا کہ حنیف عباسی کو سزا دو، سزا دینے سے انکار کرنے پر ان کا تبادلہ کردیا اور تیسرے دن ان کا چارج چھڑوالیا گیا،نئے جج کو تعینات کر کے حنیف عباسی کو سزا دی گئی، میرے کیس میں جج کا تبادلہ واٹس ایپ پر کیا گیا، ہمارا عدالت سے مطالبہ ہے کہ فرح خان تقرر و تبادلے پر پیسے لیا کرتی تھی، اس پر بھی ازخود نوٹس لیا جائے۔

انہوں نے کہاہم آئندہ سماعت پر جب عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو درخواست جمع کروائیں گے کہ ہم نے ان پانچ یا چھ ہفتوں کے دوران جو جو کیا ہے آپ ایک ایک ٹرانزیکشن کا جائزہ لیں، جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ نا انصافی ہوئی ہے ہم اس سے نمٹیں گے، لیکن پچھلے 4، 5 سالوں میں جو کچھ ہوا ہے اس پر بھی ازخود نوٹس لینا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت چاہے ہمارے خلاف کیسز سن لے لیکن ازخود نوٹس لینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو اس میں عمران خان کے خلاف بھی ازخود نوٹس لیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان اسلام آباد لانگ مارچ کریں ہم ان کا استقبال کریں گے۔
اس موقع ہر ن لیگ کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے مریم نواز سے متعلق عمران خان کے بیان پر کہا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے، عمران خان اس طرح کی نازیبا گفتگو سے انتشار پھیلانا چاہتے ہیں کہ میں اقتدار میں نہ رہا تو ایک افراتفری کا عالم ہو۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا لاس اینجلس ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جس کے مطابق آپ صادق اور امین نہیں ہیں، کیا آپ کی سابقہ اہلیہ جمائما کے پاس آپ کی امانت موجود نہیں ہے، آپ کو کیا معلوم کہ بیٹیاں کیا ہوتی ہیں،یہ تو میاں نواز شریف کا ظرف ہے کہ بیٹی کے ساتھ جیل گئے اور دو بار اپنی آنکھوں کے سامنے بیٹی کی گرفتاری دیکھی، آپ کو بیٹیوں کے دکھ کا علم نہیں کیونکہ آپ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہی نہیں ہیں۔

لیگ کے رہنما نےعمران خان کو مخاطب کیے بغیر کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان کی کسی عدالت میں وہ فیصلہ پیش کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کریں کہ آپ پر آرٹیکل 62 اور 63 لگایا جائے، قانون کو اپنا راستہ اختیار ضرور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ 7 سال سے فارن فنڈنگ کا کیس چل رہا ہے بطور وزیر اعظم عمران خان نے اس کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، عمران خان کی طرف سے مالم جبہ، ہیلی کاپٹر، پرویز الٰہی پر ٹی ٹی او کے کیس بند کروائے گئے تو کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا جب عمران خان شہزاد اکبر کے ساتھ لاہور آئے تو انہوں نے شہباز شریف کے لیے فضول احکامات جاری کیے کہ انہیں زمین پر سلایا جائے، اور ان کی کمر میں درد ہو تو بھی بکتر بند میں لے جایا جائے، اس پر بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا،آئین میں ترمیم کے ذریعے عمران خان نے جج تبدیل کیے، بشیر میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ بطور ڈی جی ایف آئی اے انہیں کہا گیا کہ مخصوص لوگوں کے خلاف کیسز کیے جائیں، آج وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب عدالت کے احترام میں یہاں آئے ہیں تو عمران خان کو بھی کیس بند کروانے اور تبادلوں کا جواب دینا ہوگا۔

Back to top button