کراچی، گرفتار 6 تاجروں کو جیل بھیج دیا گیا، مزید 12 تاجر گرفتار

کراچی میں لاک ڈاؤن کے باوجود مارکیٹیں کھولنے والے 6 تاجروں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
بغیر اجازت مارکیٹیں کھولنے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی اور تاجروں کو اکسانے سے متعلق کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کراچی کی عدالت میں ہوئی۔پولیس نے گرفتار تاجر رہنما حماد پونا والا سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر لاک ڈاون کی خلاف ورزی، ہنگامہ آرائی اور لوگوں کو اکسانے کا الزام ہے۔
عدالت نے تاجروں کے وکلاء کی جانب سے دائر درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے گرفتار 6 تاجروں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
تاہم اب سندھ پولیس نے کراچی میں لاک ڈاؤن سے متعلق اقدامات کی خلاف ورزی کرنے پر مزید 12 تاجروں کو گرفتار کرلیا ہے۔واضح رہے کہ کراچی پولیس چیف اور کمشنردونوں نے تاجروں کو خبردار کیا تھا کہ حکومت کی اجازت کے بغیر اپنا کاروبار/ دکانیں کھلونے کی صورت میں شہر میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ صدر کے الیکٹرانک مارکیٹس میں دکانداروں نے اپنا کاروبار کھولا تھا۔جس کے بعد پولیس کی نفری کی مدد سے علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر نے مارکیٹ پر چھاپہ مارا اور پریڈی پولیس نے 12 تاجروں کو حراست میں لیا۔انہوں نے بتایا کہ زیر حراست تاجروں کے خلاف ریاست کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز نیپئر پولیس نے تاجروں کے 4 نمائندوں حماد پونو والا، جاوید قریشی، احسان احمد، جاوید شکور اور دیگر کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں ایف آئی آر (144/2020) درج کی گئی تھی۔
جمعرات کو کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل غلام نبی میمن نے تاجروں سے کہا کہ وہ شہر میں امن وامان کی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ تاجر امن پسند لوگ ہیں اور انہیں امن و امان کی صورتحال پیدا نہیں کرنا چاہیے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق پولیس چیف نے تجویز پیش کی کہ تاجر برادری کو اس مشکل وقت کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل غلام نبی میمن نے خبردار کیا کہ اگر تاجروں نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دکانداروں اور تاجروں کو سزا دینا نہیں چاہتی۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے تجویز پیش کی کہ تاجر صوبائی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں۔غلام نبی میمن نے نشاندہی کی کہ پولیس چوکیوں کا مقصد وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کو عملی جامہ پہنانا ہے۔
سٹی پولیس چیف نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس چوکیوں کی وجہ سے شہر میں اسٹریٹ کرائمز 75 فیصد تک کم ہوگئے جبکہ دیگر گھناؤنے جرائم میں بھی 75 فیصد کمی آئی ہے‘۔انہوں نے اعتراف کیا کہ پولیس کو لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والے ’بہت سارے مسائل‘ کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے لیکن اس سے جرائم پر قابو پانے میں بھی مدد ملی۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل غلام نبی میمن نے انکشاف کیا کہ لاک ڈاؤن اقدامات کی خلاف ورزری کرنے والے 90 فیصد لوگوں کو سخت انتباہ کے ساتھ جانے کی اجازت دی جارہی ہے اور صرف 10 فیصد افراد کو خلاف ورزی کرنے پر سزا دی جارہی ہے۔کراچی پولیس چیف نے شہریوں کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچنے کے لیے گھر پر رہنے کا مشورہ دیا۔
بعدازاں کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے کہا کہ حکومت سندھ کی اجازت کے بغیر کسی کو کاروبار چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر اپنا کاروبار کھولے گا اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے لاک ڈاؤن کے باوجود بغیر اجازت دکانیں کھولنے پر آل سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونا والا سمیت 6 تاجروں کو گرفتار کیا تھا۔
