کراچی ائیرپورٹ پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم کیوں لگایا گیا؟

جرام پیشہ افراد کے بیرون ممالک فرار کو روکنے کیلئے فضائی اڈوں پر کڑی نگرانی کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹ کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں کراچی ایئرپورٹ پر چہرے کی ساخت و نقوش کے ذریعے لوگوں کو سکین کرنے والا سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا سہارا لیتے ہوئے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر سسٹم نصب کر لیا گیا ہے جو جلد کام کرتا نظر آئے گا، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے سے لے کر امیگریشن کاؤنٹر تک مسافروں کی شناخت کی جا سکے گی، یہ جدید نظام جاپان کے تعاون سے لگایا جا رہا ہے، یہ سسٹم ملک کے دیگر ایئرپورٹس پر بھی نصب کیا جائے گا۔ اس سسٹم کو نصب کرنے کے بعد کراچی ایئرپورٹ میں داخل ہونے والے شخص کی شناخت سیکنڈز میں ہو جائے گی اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کا پہنچنا بہت آسان ہو جائے گا۔
ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ فیشل ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی کیس میں مطلوب ملزم جیسے ہی کیمروں کے سامنے سے گزرے گا اس کی نشاندہی ہو جائے گی، لیکن ایئرپورٹس پر یہ سسٹم لگانے کا اصل مقصد پاکستان سے سفر کرنے والوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے امیگریشن سیکشن کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ’فیشل ٹیکنالوجی مستقبل میں امیگریشن کاؤنٹر پر بھی کارآمد ثابت ہوگی، انہوں نے کہا کہ امیگریشن کاؤنٹر پر اس نظام کی تنصیب میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ ابھی اس حوالے سے کاغذی کارروائی شروع نہیں ہو سکی ہے۔
یاد رہے کہ 2017 میں جاپان کے تعاون سے پاکستانی ہوائی اڈوں پر جدید سکیورٹی نظام لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو اب پانچ برس کی تاخیر سے لایا جا رہا ہے، امکان ہے کہ 2023 میں یہ ملک کے دیگر ائیر پورٹس پر نصب ہو جائے گا۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا نظام ہے جس سے چند سیکنڈ میں کسی بھی شہری کی شناخت ہو سکتی ہے۔ اس نظام میں کیمرہ چہرے کی ساخت اور نقوش کو سکین کرتا ہے اور چند سیکنڈز میں شناخت کا عمل مکمل کر لیتا ہے۔
