کراچی اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ پر حملہ،چاروں دہشتگرد ہلاک

28 جون 2020 کی صبح کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت3افراد شہید ہوگئے جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی میں چاروں دہشتگرد مارے گئے۔
پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کردی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور آپریشن شروع کردیا۔پولیس کے مطابق پولیس اور رینجرز اہلکار اسٹاک ایکسچینج میں داخل ہوئے اور فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جبکہ ایک دہشتگرد کو اسٹاک ایکسچینج کے ہال میں مارا گیا۔پولیس ترجمان کا بتانا ہےکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے۔
اسٹاک ایکسچینج میں صبح کاروبار کے آغاز کے وقت بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی جب 10 بجے سے کچھ دیر قبل دہشت گردوں نے فائرنگ کردی اور داخلی دروازے پر دستی بم حملہ بھی کیا۔۔پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم حملے میں ایک پولیس اہلکار اور 2 سیکیورٹی گارڈ اس واقعے میں شہید ہوئے جبکہ 3 پولیس اہلکار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے۔پولیس کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے جدید ہتھیار، دستی بم اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے پی ایس ایکس کے باہر موجود مشتبہ کار کا بھی معائنہ کیا۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوس ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق جائے وقوع پر موجود رضوان احمد نامی ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح حملہ آوروں کی لاشوں کے پاس سے برآمد ہونے والے سامان سے کھانے پینے کی اشیا بھی برآمد ہوئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا دیر تک محاصرہ کرنے کا ارادہ تھا لیکن پولیس سے ان کی کوشش ناکام بنادی۔
خیال رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کراچی کا معاشی حب سمجھے جانے والے علاقے میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس ہیڈ کوارٹرز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے علاوہ متعدد کاروباری دفاتر، بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں جبکہ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی اس جگہ سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے بتایا کہ سول ہسپتال میں 5 لاشیں اور 7 زخمی افراد کو لایا گیا جس میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس اور رینجرز کی جانب سے علاقے کو کلئیر کرنے کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت اور اطراف میں سرچنگ کا عمل جاری ہے جبکہ اس دوران فضائی نگرانی بھی کی گئی۔
دوسری جانب آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے قریب فائرنگ اور دستی بم حملے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر ڈی آئی جی ساؤتھ سے تمام تر ضروری پولیس اقدامات پر مشتمل رپورٹ فی الفور طلب کرلی۔
دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے منیجنگ ڈائریکٹر فرخ خان نے حملے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں موجود افراد کی تعداد معمول سے کم تھی، عموماً اسٹاک ایکسچینج میں 6 ہزار کے قریب افراد ہوتے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ملازمین کی بڑی تعداد گھروں سے کام کررہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گردوں کو عمارت کے اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا اور صرف ایک دہشت گرد احاطے میں ’کچھ قدم کے فاصلے‘ تک داخل ہوسکا۔فرخ خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں میں سے کوئی بھی ٹریڈنگ ہال یا عمارت میں داخل نہیں ہوسکا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا ٹریڈنگ معطل نہیں کی گئی۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے جوانوں نے بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور اس حملے کو ناکام بنایا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم کو اپنے بہادر جوانوں پر فخر ہے، شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔
گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف ہماری مستقل جنگ کو نقصان پہنچانا تھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں گورنر سندھ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولس اور سیکیورٹی ایجنسیز کو مجرموں کو زندہ پکڑنے اور ان کے ہینڈلرز کو عبرتناک سزائیں یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ملکی سلامتی اور معیشت پر حملے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس اور رینجرز کی طرف سے بروقت کارروائی کرنے کو سراہا اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید چوکس رہنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وبائی صورتحال کے پیش نظر ملک دشمن عناصر ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واقعے کی مکمل تفصیلی انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔
