کراچی: ایس او پیز کی خلاف ورزی، گل پلازہ اور زینب مارکیٹ سیل

کمشنر کراچی افتخار شلوانی کے مطابق اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر گل پلازہ، زینب مارکیٹ سمیت شہر میں مختلف دکانوں کو بند کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ضلع جنوبی میں زینب مارکیٹ اور گل پلازہ جبکہ ضلع شرقی میں دکانوں کے اندر ہجوم کے باعث لائم لائٹ، شو پلینٹ اور اسٹائلو کے اسٹورز کو بھی بند کیا گیا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر کراچی نے کہا کہ مذکورہ دکانوں کو کورونا وائرس کےپھیلاؤ کو روکنے سے متعلق جاری کی گئی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام مارکیٹوں میں میرے دوروں اور وارننگز کے باوجود ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا تھا۔
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ارشاد سوڈھر کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر صدر آصف رضا چانڈیو نے زینب مارکیٹ چھاپا مارا تھا اور ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کےباعث زینب مارکیٹ کو سیل کردیا تھا۔اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر صدر نے کہا کہ دکانداروں اور خریداروں نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے اور نہ ہی سینیٹائزرز کا استعمال کیا جارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں سماجی دوری کے اصول کی بھی خلاف ورزی کی جارہی تھی۔
2 روز قبل آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے اختیار کرنے کے حوالے سے طے شدہ اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) پر عمل نہ کرنے والی مارکیٹس کو سیل کردیا جائے۔نجی ٹی وی چینل ‘جیو نیوز’ کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تاجر اتحاد نے کہا تھا کہ ایس او پیز پر عمل نہیں ہوسکا اور یہ اُمید بھی نہیں تھی کہ ایسا ہوسکے گا۔
خیال رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے 18 مارچ سے دکانیں بند ہوئی تھی جبکہ صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان 22 مارچ کو کیا گیا تھا۔جس کے بعد ملک کے معاشی حب کراچی میں تمام چھوٹی اور بڑی مارکیٹیں، دکانیں بند تھیں تاہم 9 مئی سے ملک میں لاک ڈاؤن نرم کرنے کے اعلان کے بعد تاجروں نے مارکیٹیں کھولنے سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی تھی۔بعد ازاں 10 مئی کو وزیراعلیٰ سندھ اور تاجروں میں کامیاب مذاکرات کے بعد ہفتے میں 4 دن صبح 6 سے شام 5 تک کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم شاپنگ مالز و پلازہ کی بندش برقرار رکھی گئی تھی۔مارکیٹیں کھولنے کے پہلے ہی دن یعنی 11 مئی کو شہر بھر میں ٹریفک کی بدترین صورتحال اور مارکیٹوں میں بہت زیادہ رش دیکھنے میں آیا تھا اور سماجی دوری سمیت دیگر احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا تھا۔
خیال رہے کہ اس وقت ملک میں 35 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ 753 اموات بھی ہوئی ہیں تاہم اس وبا سے اب تک سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہے جہاں کیسز کی تعداد 13 ہزار تجاوز کرچکی ہے اور اموات 235 ہوگئی ہیں۔